دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان کا معاشی سفر
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
رات کے آخری پہر دارالحکومت کی ایک بلند عمارت میں ایک بوڑھا معیشت دان اپنے سامنے پھیلے ہوئے بجٹ کے کاغذات کو دیکھ رہا تھا۔ میز پر اعداد کی قطاریں تھیں، سرخ اور سیاہ روشنائی سے بنے ہوئے خانے تھے، قرضوں کے ہندسے تھے، دفاعی اخراجات تھے، ترقیاتی منصوبے تھے اور محصولات کے تخمینے تھے۔ اچانک ایک نوجوان نے اس سے پوچھا: ’’اگر خزانہ محدود ہو تو فیصلہ کیسے کیا جائے کہ کس کو زیادہ دیا جائے؟ دفاع کو یا تعلیم کو؟ تنخواہوں کو یا سڑکوں کو؟ سبسڈی کو یا صنعت کو؟‘‘ بوڑھا مسکرایا اور بولا: ’’تم ابھی تقسیم کے سوال میں الجھے ہوئے ہو، حالاں کہ اصل سوال تقسیم سے پہلے دولت کی تخلیق کا ہے۔ جس گھر کی آمدنی کم ہو، وہاں الماریوں کی ترتیب بدلنے سے گھر امیر نہیں ہوتا۔‘‘
پاکستان کی معاشی داستان کا المیہ شاید یہی ہے کہ ہم برسوں سے قومی معیشت کو ایک محدود کیک سمجھ کر اس کے ٹکڑوں پر جھگڑتے رہے ہیں، مگر اس سوال کو مرکزی حیثیت نہیں دے سکے کہ یہ کیک بڑا کیسے ہوگا۔ دفاع اور ترقی، وفاق اور صوبے، سرکاری اجرت اور انفراسٹرکچر، ٹیکس اور سبسڈی—یہ سب اہم مباحث ہیں، لیکن یہ اس بنیادی حقیقت کے ثانوی سوالات ہیں کہ قومی پیداوار کی رفتار آبادی، روزگار، سرمایہ کاری اور عوامی توقعات کی رفتار سے پیچھے کیوں رہ گئی ہے۔
پاکستان کی آبادی پچیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، مگر معیشت کی پیداواری ساخت ابھی تک اس سطح کی وسعت پیدا نہیں کر سکی جو اس انسانی حجم کو باوقار روزگار، معیاری تعلیم، جدید صحت، قابلِ اعتماد توانائی، بہتر شہری سہولتوں اور عالمی معیار کی معاشی مواقع فراہم کر سکے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ حکومت کے پاس پیسہ کم ہے؛ زیادہ گہرا مسئلہ یہ ہے کہ قومی معیشت اتنی تیزی سے نئی قدر پیدا نہیں کر رہی جس رفتار سے معاشرتی ضروریات بڑھ رہی ہیں۔
یہ فرق محض بجٹ کی کمی نہیں، قومی استعداد کا بحران ہے۔
تصور کیجیے کہ ایک ایسا ملک ہے جس کے پاس ایک ہی خزانہ ہے اور اس کے سامنے دو راستے ہیں۔ ایک راستہ قومی دفاع، دوسرا انسانی و معاشی ترقی۔ دونوں راستوں پر جانے کے لیے وسائل درکار ہیں۔ اگر خزانہ محدود رہے تو ہر اضافی ضرورت کسی دوسری ضرورت کی قیمت پر پوری ہوگی۔ لیکن اگر قومی آمدنی دوگنی ہو جائے تو منظر ہی بدل جاتا ہے۔ اگر 400 ارب ڈالر کی معیشت 800 ارب ڈالر تک پہنچ جائے اور دفاعی اخراجات جی ڈی پی کے تقریباً 2 فیصد پر برقرار رہیں تو دفاع کے لیے دستیاب وسائل تقریباً 8 ارب ڈالر سے بڑھ کر 16 ارب ڈالر ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح 2.4 فیصد کے مساوی ترقیاتی اخراجات تقریباً 9.6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 19.2 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں۔ یہاں کسی ایک شعبے کو دوسرے کے خلاف کھڑا کرنے کی ضرورت نہیں؛ معیشت کا پھیلاؤ خود دونوں کے لیے گنجائش پیدا کرتا ہے۔
یہی وہ نکتہ ہے جسے ہماری معاشی سیاست اکثر اعداد کے ہجوم میں کھو دیتی ہے۔
قومیں صرف بجٹ کم کرکے خوشحال نہیں ہوتیں؛ وہ پیداوار بڑھا کر خوشحال ہوتی ہیں۔ ریاست صرف اخراجات روکنے سے مضبوط نہیں ہوتی؛ وہ اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے شہری زیادہ پیدا کریں، زیادہ کمائیں، زیادہ سرمایہ لگائیں، زیادہ برآمد کریں اور زیادہ قدر پیدا کریں۔ ٹیکس کا دائرہ بھی اسی وقت پائیدار طور پر وسیع ہوتا ہے جب معاشی سرگرمی وسیع ہو۔ حکومت کی آمدنی کا انحصار بالآخر اسی معاشی دریا پر ہے جس میں صنعت، تجارت، زراعت، خدمات، ٹیکنالوجی، برآمدات اور سرمایہ کاری کی ندیاں آ کر ملتی ہیں۔
پاکستان کے لیے اصل اقتصادی انقلاب شاید کسی ایک بجٹ، کسی ایک قرض پروگرام یا کسی ایک ٹیکس اصلاحات میں پوشیدہ نہیں۔ اصل انقلاب اس وقت شروع ہوگا جب ملک کی معاشی ساخت کھپت پر کم اور پیداوار پر زیادہ، درآمد پر کم اور برآمد پر زیادہ، غیر پیداواری اثاثوں پر کم اور پیداواری سرمایہ کاری پر زیادہ، سرکاری تحفظ پر کم اور مسابقتی صلاحیت پر زیادہ انحصار کرے گی۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دولت محض زمین، معدنیات، ڈالر یا قدرتی وسائل کا نام نہیں۔ دولت علم سے پیدا ہوتی ہے، ٹیکنالوجی سے پیدا ہوتی ہے، بہتر انتظام سے پیدا ہوتی ہے، تحقیق سے پیدا ہوتی ہے، ہنرمند انسانی سرمایہ سے پیدا ہوتی ہے اور ایسے اداروں سے پیدا ہوتی ہے جو سرمایہ کار کو یقین، کاروبار کو تسلسل اور محنت کو صلہ دیتے ہیں۔ ایک نوجوان انجینئر، ایک ماہرِ مصنوعی ذہانت، ایک جدید کسان، ایک برآمدی صنعت کار اور ایک ایسا استاد جو ہزاروں بچوں کی صلاحیت جگا دے—یہ سب دراصل قومی دولت کے خاموش کارخانے ہیں۔
ایک اور بنیادی حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی: سرمایہ صرف وہاں جاتا ہے جہاں اسے مستقبل نظر آتا ہے۔ سیاسی بے یقینی، پالیسیوں کا بار بار بدلنا، غیر واضح قواعد، پیچیدہ اجازت نامے، کمزور معاہداتی نفاذ اور توانائی و مالیاتی نظام کی غیر یقینی صورتِ حال سرمایہ کاری کے لیے ایک ایسا پوشیدہ ٹیکس بن جاتے ہیں جو کسی بجٹ دستاویز میں الگ سے دکھائی نہیں دیتا۔ اس لیے معاشی اصلاح صرف ٹیکس شرح بدلنے یا سبسڈی گھٹانے کا نام نہیں؛ یہ اعتماد کی تعمیر کا عمل بھی ہے۔
پاکستان نے طویل عرصے تک اپنی معاشی مشین کے پرزے الگ الگ درست کرنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی زرمبادلہ کا بحران آیا تو فوری انتظام کیا گیا، کبھی مالی خسارہ بڑھا تو کفایت شعاری کا نعرہ بلند ہوا، کبھی بجلی کا بحران آیا تو نئی پیداوار کی منصوبہ بندی کی گئی، کبھی برآمدات کم ہوئیں تو مراعات کا اعلان ہوا۔ مگر ان سب اقدامات کے درمیان ایک مربوط قومی معاشی فلسفہ اکثر غائب رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم بحرانوں کو شکست دینے کے بجائے بحرانوں کے درمیان وقفہ پیدا کرتے رہے۔
اب ضرورت ’’مرمت‘‘ سے آگے بڑھ کر ’’تعمیرِ نو‘‘ کی ہے۔
ایک ایسی قومی معاشی مشین درکار ہے جس کا ایندھن پیداواری صلاحیت ہو، جس کا گیئر سرمایہ کاری ہو، جس کا راستہ برآمدات ہوں، جس کا کنٹرول ادارہ جاتی استحکام کے ہاتھ میں ہو اور جس کا منزل نما مقصد انسانی خوش حالی ہو۔ اس مشین کے ساتھ ایک ایسا قومی انتظامی نظام بھی ضروری ہے جو حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود بنیادی معاشی سمت کو محفوظ رکھ سکے۔ ہر نئی حکومت کو معاشی پالیسی کا پہیہ ازسرنو ایجاد کرنے کی ضرورت نہ پڑے؛ ریاست کے پاس پہلے سے طے شدہ طویل المدت اہداف، قابلِ پیمائش اشاریے اور شفاف احتساب کا نظام موجود ہو۔
یہاں سیاسی اتفاقِ رائے بنیادی شرط بن جاتا ہے۔ دولت کی تخلیق کے لیے صبر درکار ہے، جب کہ سیاست فوری نتائج مانگتی ہے۔ معاشی اصلاحات کے ثمرات اکثر چند ماہ میں نہیں بلکہ کئی برس میں ظاہر ہوتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کو ایسی قومی معاشی مفاہمت درکار ہے جس میں حکومتیں بدلیں مگر بنیادی معاشی سمت نہ بدلے؛ بجٹ بدلیں مگر پیداواری ترجیحات برقرار رہیں؛ سیاسی قیادتیں مختلف ہوں مگر برآمدات، انسانی سرمایہ، توانائی، ٹیکنالوجی، صنعتی مسابقت اور ادارہ جاتی اصلاحات قومی ایجنڈے کا مستقل حصہ رہیں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان اپنے محدود وسائل کو کس مہارت سے تقسیم کرتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان محدود وسائل کی معیشت سے وسیع امکانات کی معیشت کب بنے گا۔
ایک قوم اگر مسلسل یہ طے کرتی رہے کہ چھوٹی ہوئی چادر کس طرف سے کھینچی جائے تو ایک دن اسے احساس ہوتا ہے کہ مسئلہ چادر کی سمت نہیں، اس کے حجم کا تھا۔ پاکستان کو بھی شاید اب یہی ادراک درکار ہے۔ دفاع کو ترقی کے مقابل کھڑا کرنا، تعلیم کو صحت کے مقابل، وفاق کو صوبوں کے مقابل یا سرکاری ملازمین کو انفراسٹرکچر کے مقابل رکھنا ایک محدود معاشی تصور کی علامت ہے۔ ایک بڑی، پیداواری اور برآمدی معیشت میں یہ ترجیحات باہم متصادم ہونے کے بجائے ایک دوسرے کو تقویت دے سکتی ہیں۔
پاکستان کے پاس نوجوان آبادی ہے، جغرافیائی محلِ وقوع ہے، قدرتی وسائل ہیں، زرعی امکانات ہیں، وسیع منڈی ہے اور سب سے بڑھ کر انسانی ذہانت کا وہ ذخیرہ ہے جسے ابھی پوری قوت سے معاشی قدر میں تبدیل نہیں کیا گیا۔ مسئلہ امکانات کی کمی نہیں، امکانات کو پیداوار میں بدلنے والے نظام کی کمی ہے۔
اس لیے آنے والی دہائی کا سب سے اہم معاشی سوال شاید یہ نہیں ہونا چاہیے کہ بجٹ میں کس شعبے کا حصہ کتنا بڑھا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ قومی پیداوار، فی کس آمدنی، برآمدی استعداد، سرمایہ کاری، پیداواری روزگار اور انسانی سرمائے میں حقیقی اضافہ کتنا ہوا۔
کیونکہ جس دن پاکستان نے دولت پیدا کرنے کا انجن درست کر لیا، اس دن بجٹ کی لڑائیاں خود بخود چھوٹی ہونے لگیں گی۔ تب دفاع بھی مضبوط ہوگا، ترقی بھی وسیع ہوگی، تعلیم بھی بہتر ہوگی، صحت بھی قابلِ رسائی ہوگی اور ریاست بھی اپنے شہریوں سے مسلسل قربانی مانگنے کے بجائے انہیں مسلسل مواقع فراہم کرنے کے قابل ہوگی۔
قوموں کی تقدیر آخرکار اس بات سے نہیں لکھی جاتی کہ انہوں نے اپنی غربت کو کتنی خوب صورتی سے تقسیم کیا، بلکہ اس بات سے لکھی جاتی ہے کہ انہوں نے اپنی صلاحیت کو کتنی دور تک دولت، علم، پیداوار اور خوش حالی میں تبدیل کیا۔ پاکستان کے سامنے اب انتخاب محض بجٹ کی تقسیم کا نہیں؛ اپنی معاشی تقدیر کی ازسرنو تعمیر کا ہے۔
مصنف سندِ امتیاز کے حامل، سینئر تجزیہ کار، دانش ور اور پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ وہ پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹس اینڈ کریئیٹرز (سندھ) کے جنرل سیکریٹری ہیں۔
رابطہ: +92 333 2103855
ای میل: muhammadtayyabk773@gmail.com
واپس کریں