دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکا اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقیں، شمالی کوریا نے سمندر کی جانب 10 بیلسٹک میزائل داغ دیے
No image جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے آج شمالی کوریا کی جانب سے 10 سے زائد کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل داغے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔
شمالی کوریا کی جانب سے میزائل داغے جانے کے بعد امریکا کے ساتھ جاری مشترکہ فوجی مشقوں کے دوران اپنی فوج کو مکمل طور پر تیار رہنے کا حکم بھی دیا ہے۔
یہ میزائل ایک ایسے وقت میں فائر کیے گئے ہیں جب بدھ کے روز کم جونگ ان کی بہن، کم یو جونگ نے امریکا اورجنوبی کوریا ی مشترکہ فوجی مشقوں کی مذمت کی تھی حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان مشقوں میں امریکی شرکت کو 'نمایاں حد تک کم' کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ شمالی کوریا کی جانب سے پیانگ یانگ کے علاقے سے جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں سمندر کی جانب میزائل فائر کیے جانے کے بعد ایک ہنگامی سکیورٹی اجلاس طلب کیا گیا جس میں وزارتِ دفاع کے حکام اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بیلسٹک میزائل داغنا ایک سنگین اقدام ہے جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شمالی کوریا سے ایسی کارروائیوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔
جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آہن گیو بیک نے قانون سازوں کو بتایا کہ خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل 600 ملی میٹر کے ملٹیپل راکٹ لانچر سسٹم کے میزائل ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جنوبی کوریا ان میزائلوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے کیونکہ انہیں ممکنہ طور پر جنوبی کوریا کی سرحد کے قریب بھی تعینات کیا جا سکتا ہے۔
واضح رہے کہ شمالی کوریا اس سے قبل 600 ملی میٹر سسٹم جسے عالمی سطح پر KN-25 کے نام سے جانا جاتا ہے، کے بارے میں دعویٰ کر چکا ہے کہ یہ ٹیکٹیکل جوہری وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
واپس کریں