دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
آخر کراچی’ وفاق‘ کے حوالے کیوں؟ مظہر عباس
No image ابھی تو ہم سابق صدر جنرل ضیاء الحق کے 11سالہ ’سنہری دور‘ کے سحر سے باہر نہیں آئے کہ قوم کو ایک نئے دور کی نوید دی جارہی ہے جسکے خدوخال ابھی تک سرکاری طور پر سامنے نہیں آئے، البتہ ایک وزیر موصوف کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کو بہرحال ایک واضح پیغام تصور کیا جارہا ہے اور بات نئے صوبوں سے نکل کر زیادہ انتظامی یونٹس سے ہوتی ہوئی بااختیار بلدیاتی نظام کی طرف آہی گئی ہے۔ اب سارے فسانے میں اس کا ذکر ہے یا نہیں البتہ کہیں نہ کہیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی حب کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں بھی ہورہی ہیں۔ دیکھتے ہیں جب کوئی فیصلہ کن اعلان ہوگا کیونکہ ہمارے ملک میں تو خود حکمراں منتخب ہوں یا ہائبرڈ،’ اختیارات‘ چاہتے ہیں،وہ کیا بلدیاتی اداروں کو اختیارات دینگے۔ اب مجھ کو نہیں پتا کہ اگر موجودہ نظام ناکام ہوگیا، ادارے زوال پذیر ہیں تو آخر وہ کونسی قومی خدمات ہیں، کارکردگی ہے جسکی وجہ سے کچھ وزیروں، سرکاری افسران کو ’ اعلیٰ خدمات‘ کے عوض صدر پاکستان نے یا خود حکومت نے سرکاری ایوارڈ کیلئے نامزد کیا۔

جب آپ کسی کو کسی کے حوالے کرتے ہیں تواس بات کی تسلی ضرور کرتے ہیں کہ وہ یہ بوجھ اٹھا بھی سکتا ہے یا نہیں۔ میں نے بڑی کوشش کی یہ معلومات حاصل کرنے کی کہ وہ کونسے’وفاقی ادارے‘ ہیں جو وفاق کے زیر کنٹرول ترقی کررہے ہیں۔ ایک طرف وفاق اپنا بوجھ اتار کر نجی اداروں کو دے رہا ہے تو دوسری طرف 3 سے 4 کروڑ آبادی کے شہر کو وفاق کے زیر اثر لانے کی منطق پیش کی جارہی ہے۔ ہم دراصل کراچی کے ساتھ مسلسل فٹ بال کھیلتے آرہے ہیں کبھی وفاقی دارالحکومت تو کبھی صوبائی دارالحکومت تو کبھی شہر کو وفاق کے زیر اثر لانے کی باتیں۔ ہمارےوفاق کا حال تو یہ ہے کہ وہ کرکٹ ، ہاکی اور کھیلوں کے بورڈ تو سنبھال نہیں پارہا، پی آئی اے، ریلوے،پاکستان اسٹیل توچلا نہیں پایا اس شہر کو کیسے سنبھال پائے گا۔ ہمارے تضادات کا یہ عالم ہے کہ ایک طرف کچھ اداروں کے ہیڈ کوارٹرز کراچی سے منتقل کر دیے اور اب کراچی کو ہی ’ منتقل‘ کرنے کی باتیں ہورہی ہیں۔ اب بات کہاں جاکر رکے گی اس کیلئےتھوڑا انتظار کرناپڑے گا۔ البتہ اگر اس عروس البلاد کو بااختیار بلدیاتی اسٹیٹس مل جاتا ہے اور اک مضبوط، با اختیار مگر قابل احتساب نظام مل جاتا ہے تو یہ غلط سمت نہیں ہوگی۔ صرف کراچی کیا پورے ملک میں ایسا نظام لائیں تو اس پر قومی اتفاق رائے کافی حد تک ممکن ہے۔

میری ناقص رائے میں باقی بحث کو کسی اور وقت کیلئے اٹھا رکھیں ابھی توحکومت، پارلیمنٹ سمیت بلدیاتی اداروں کو بااختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اور خدارا اس ’غیر جماعتی‘ نظام سے باہرآئیں جو کبھی بنیادی جمہوریت کے نام پر آتا ہے تو کبھی غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے ذریعے متعارف کروایا جاتا ہے۔ سنا ہے اس سال کے آخر میں پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی الیکشن اسی ’غیر جماعتی‘ انداز میں منعقد ہورہے ہیں۔ اب مسلم لیگ(ن) کا ایک یہ بھی بڑا مسئلہ ہے کہ وہ نہ اپنے سیاسی وارث کو چھوڑنے کو تیار ہے نہ اس کے نافذ کردہ نظا م کو،بلکہ وہ اس کو ایک مکس پلیٹ بنانا چاہتی ہے۔ یعنی آپ الیکشن غیر سیاسی غیر جماعتی بنیادوں پر لڑیں اور بعد میں کسی جماعت کا حصہ بن جائیں۔ 1979ء، 1983ء، 1987ء کے بلدیاتی الیکشن اور 1985ء کے غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے عام انتخابات میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔

ملک میں جب مارشل لا لگتا ہے تو دراصل پورا ملک ہی وفاق کے کنٹرول میں چلا جاتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے ’ سنہری دور‘ میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ آج تو خراب اور ٹوٹی ہوئی سڑکوں سے ہوتے ہوئے کم ازکم گھر تو پہنچ ہی جاتے ہیں مگر اُس وقت تو جب تک بیٹا یا بیٹی گھر واپس نہ آجائے ماں باپ کوتسلی نہیں ہوتی تھی۔ منشیات اوراسلحہ اس سنہری دور کی خاص پہچان رہی۔

خود صوبہ سندھ میں سیاسی تفریق بڑھتی چلی گئی جسکی وجہ سے صوبہ معاشی طور پر ترقی نہ کرسکا اس میں کافی حد تک ذمہ داری وفاق کی سیاست کرنے والی جماعتوں کی بھی ہے۔ اب اگر کراچی وفاق کے زیر انتظام چلاجاتا ہے توسوال یہ ہے کہ اب تک جو وفاق نے اس شہر کے ساتھ کیا وہ کافی نہیں۔ دوسری بات جب بھی ملک میں کوئی سیاسی حکومت یعنی سویلین حکومت کو جانا پڑتا ہے تو ظاہر ہے وفاقی حکومت کو ہی برطرف کیا جاتا ہے ایسے میں اس شہر کا کنٹرول کبھی ایک ہاتھ میں ہوگا کبھی دوسرے کے۔

لہٰذا اس پورے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ اختیارات کی سیاسی، مالی اور انتظامی تقسیم نچلی سطح تک کی جائے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا کام قانون سازی اور بنیادی پالیسیاں بنانا ہو، پارلیمانی نظام کا تصور آزاد عدلیہ اور میڈیا کے بغیر ممکن نہیں۔ احتساب کو ہمارے ملک میں ہمیشہ سے سیاسی انداز میں استعمال کیا گیا ہے ایوب خان سے لے کر نیپ اور پیکا تک۔جس طرح ہم اداروں کو با اختیار بنانے کی بات کررہے ہیں، جس طرح ہم آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کی بات کررہے ہیں اسی طرح ایک با اختیار پارلیمنٹ اور بااختیار وزیر اعظم کی بھی بات کررہے ہیں۔

ان تمام مسائل کا حل نہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے میں ہے، نہ مزید انتظامی یونٹس بنانے میں اور نہ ہی نئے صوبے بنانے میں، خدارا! پہلے ہی ہم بہت تقسیم ہیں مزید تقسیم نہ کریں، حل آئین کے ارٹیکل 140 اے میں انتہائی غیر مبہم انداز میں بہت واضح ہے اور وہ یہ کہ صوبائی حکومتیں بلدیاتی ادارے بنائیں اور ان کو مکمل سیاسی انتظامی اور مالی اختیارات دیے جائیں لہٰذا اس بحث کو یہاں ختم کریں اور آئین پر عمل کریں۔ ملک میں فوری نہیں تو قبل از وقت صاف شفاف الیکشن غیر جانبدار الیکشن کمیشن، جس پر سب کو اعتماد ہو،کی نگرانی میںکرا کے پاکستان کو بنیادی سیاسی حل کی طرف لے جایا جا سکتا ہے۔ سیاسی سوچ سے ملک آگے بڑھتا ہے سرکاری یا غیرسرکاری سوچ سے نہیں۔
واپس کریں