سابق وزیر اعظم عمران خان کوئی نیا سیاسی معاہدہ کر سکتے ہیں؟ جاوید اختر

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کو نجی ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ شہباز شریف حکومت نے اس عدالتی حکم پر نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔
جیل میں ہونے کے باوجود عمران خان بدستور سیاسی طور پر مقبول ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان کی جماعت پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کے باوجود فروری 2024 کے انتخابات میں عمران خان کے حمایت یافتہ امیدواروں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
سابق وزیر اعظم کو اپریل 2022 میں پارلیمانی عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ عمران خان اور ان کے حامیوں کا الزام ہے کہ پاکستان کی طاقت ور فوج انہیں سیاست سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم فوج اس الزام کی تردید کرتی ہے۔
امریکہ میں مقیم پاکستانی سیاسی تجزیہ کار رضا رومی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ”جیل میں تین سال نے عمران خان کو پاکستانی سیاست سے باہر نہیں کیا۔ وہ اب بھی پی ٹی آئی کا سب سے بڑا سیاسی اثاثہ ہیں، لیکن جماعت کا ان پر انحصار اس پارٹی کی قیادت اور تنظیم میں موجود کمزوریوں کو بھی ظاہر کرتا ہے۔‘‘
عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے الشفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کے امکان نے ان کے سیاسی مستقبل اور حکومت کے ساتھ ممکنہ سیاسی مذاکرات کے حوالے سے بحث کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔
تاہم عمران خان کے مشیر ذوالفقار بخاری نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے ساتھ کسی سیاسی معاہدے کا نتیجہ ہے۔
بخاری نے کہا، ”عمران خان اور کسی کے درمیان کوئی ڈیل نہیں ہے۔ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے، جس کا ہم بھرپور خیر مقدم کرتے ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان کی الشفا ہسپتال منتقلی کے حکم کے بعد شہباز شریف حکومت نے اس عدالتی فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق قانون کے تحت سزا یافتہ قیدی کا علاج جیل کے اندر یا کسی سرکاری ہسپتال میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت درخواست کرے گی کہ عمران خان کے طبی معائنے نجی ہسپتال کے بجائے کسی سرکاری ہسپتال میں کرائے جائیں۔
قانونی ماہر اسامہ ملک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”قانونی طور پر عمران خان کو ضمانت نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کی سزائیں معطل ہوئی ہیں۔ وہ قیدی ہی رہیں گے، جبکہ ہسپتال کا ایگزیکٹیو وارڈ ذیلی جیل کے طور پر کام کرے گا۔ بدقسمتی سے عدالتوں کی جانب سے زیادہ سنگین بیماریوں میں مبتلا عام قیدیوں کو بھی عموماً ایسی سہولیات نہیں دی جاتیں۔‘‘
پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”عمران خان کے مقدمات کا فیصلہ عدالتیں کریں گی۔‘‘
عمران خان اور پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل؟
عمران خان کی مسلسل قید نے پی ٹی آئی کی اپنی سیاسی طاقت برقرار رکھنے کی صلاحیت کا امتحان لیا ہے۔ جماعت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہو گا کہ آیا وہ اپنے مرکزی رہنما کی براہ راست سیاسی موجودگی کے بغیر بھی عوامی حمایت برقرار رکھ سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کار قمر چیمہ نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں کہا، ”عمران خان کا سیاسی مستقبل روشن نظر نہیں آتا۔ انہیں اپنے سیاسی مستقبل پر سمجھوتہ کرنا ہو گا۔ وہ جیل میں رہیں گے اور اگر مستقبل میں بھی ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے، تو بھی عمران خان حکومت کا حصہ نہیں ہوں گے۔‘‘
تاہم عمران خان کی مسلسل مقبولیت کے باعث حکام کے لیے انہیں پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے مکمل طور پر الگ کرنا مشکل ہے۔
رضا رومی نے کہا، ”ریاست کے لیے مسئلہ بدستور موجود ہے۔ عمران خان کو جیل میں رکھنے سے ان کا اثر و رسوخ ختم نہیں ہوا، جبکہ کسی وسیع تر سیاسی سمجھوتے کے بغیر انہیں رہا کرنے سے محاذ آرائی دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔‘‘
رومی کے مطابق عمران خان کے ساتھ کسی دیرپا سیاسی سمجھوتے کے لیے غالباً فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی مفاہمت ضروری ہو گی، جو پاکستان میں ایک اہم فریق ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے کسی معاہدے میں عمران خان کے لیے قانونی ریلیف، پی ٹی آئی کو زیادہ سیاسی گنجائش اور بالآخر عمران خان کی رہائی شامل ہو سکتی ہے، جبکہ اس کے بدلے پی ٹی آئی فوج کے ساتھ محاذ آرائی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے سیاسی عمل آگے بڑھانے پر آمادہ ہو سکتی ہے۔
تاہم ان کے مطابق گہری بداعتمادی ایک بڑی رکاوٹ ہے، جبکہ عمران خان کی سمجھوتے پر آمادگی نہ ہونے کے باعث کسی سیاسی تصفیے کے امکانات بھی محدود ہیں۔
دوسری جانب تجزیہ کار قمر چیمہ کا کہنا ہے کہ حکومت اور عمران خان کے درمیان کسی ڈیل کا کوئی امکان نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ میں ایک حقیقی انڈراسٹینڈنگ تھی کہ انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم کی جانا چاہییں۔
بشکریہ: اردو نیا دور
واپس کریں