دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
”نظریہ قومی اثاثہ“
No image خاکسار شروع دن سے عرض کرتا چلا آ رہا ہے کہ پی ٹی آئی بطور سیاسی جماعت ادارے کا قیمتی اثاثہ ہے اور اسے کسی قیمت پر ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ بوقت ضرورت بہترین طریقے سے استعمال میں لایا جائے گا۔اس قیمتی قومی اثاثے جس پر دن رات محنت اور بھاری سرمایہ کاری کی گئی، کے حوالے سے”نظریہ قومی اثاثہ“ دلائل کے ساتھ پیش خدمت ہے۔یہاں یہ بات واضع رہے کہ ”اثاثہ“ پی ٹی آئی ہے نہ کہ عمران خان لیکن چونکہ اپنے ”اثاثہ“ کو پروان چڑھانا اور سیاسی میدان میں مقبول بنانا مقصود تھا، اس کے لیئے ایک ایسا چہرہ اور رویہ درکار تھا جو عوام بلخصوص نوجوانوں میں مقبول ہو اور عمران خان اس امتحان میں پوری طرح اترا لیکن یہاں ایک Mistakeہو گیا، چونکہ محنت کچھ زیادہ کر دی گئی تھی اور اثاثہ بنانے کے تاریخی پراجیکٹ کی کامیابی کی خوشی میں کسی متبادل چہرہ کا بندبست نہیں کیا گیا تھا جس کانتیجہ یہ نکلا کہ”ہماری بلی ہمیں کو میاں“ والی بات ہو گئی اور پھر لاڈ پیار سے اپنی پالی ہوئی بلی کے ساتھ جو کچھ ہوا اور جو ہو رہا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ بحرحال اصل موضوع کی جانب آتے ہیں اور جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”نظریہ قومی اثاثہ“ کیا ہے۔
متبادل قوت۔ روایتی اور بڑی سیاسی جماعتیں جیسے پی ایم ایل این اور پی پی پی جب اشٹبلشمنٹ کے خلاف زیادہ آزادانہ رویہ اختیار کریں تو پی ٹی آئی کو ایک متبادل یا دباؤ کا آلہ بنایا جا سکے۔
عوامی حمایت۔ پی ٹی آئی کی نوجوان نسل اور شہری طبقے میں مضبوط حمایت اسے ایک مفید سیاسی کارڈ بناتی ہے۔ اسے مکمل طور پر ختم کرنا یا کلعدم قرار دینا سیاسی خلا اور عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔
کنٹرول کی حکمت عملی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستان میں بڑی سیاسی قوتوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کی کیا جاتا۔ انہیں کمزور کیا جاتا ہے، تقسیم کیا جاتا ہے یا ضرورت کے وقت دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی نظریہ اثاثہ یا نقطہ نظر کے مطابق، پی ٹی آئی کو منظر نامے سے ختم یا کلعدم کرنے کے بجائے اسے محدود رکھا گیا تاکہ حال اور مستقبل میں سیاسی مخالفین کے خلاف اسے متحرک کیا جا سکے۔
متضاد حقائق اور تنقیددوسری طرف، موجودہ حالات اس دعوے کو کمزور کرتے ہیں مثلاً،عمران خان اور سینکڑوں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات، جیل میں قید، اور پارٹی کی تنظیمی کمزوری اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تعلق ایک طرفہ ”اثاثہ“ والا نہیں رہا اور 2024 کے انتخابات اور اس کے بعد کے سیاسی منظرنامے میں پی ٹی آئی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ اگر یہ پی ٹی آئی صرف ایک قیمتی اثاثہ ہوتا تو اسے اس حد تک کمزور نہ کیا جاتا۔
اس پر عرضِ پرواز ہوں کہ ہم سب نے ماضی میں بھی دیکھا کہ اشٹبلشمنٹ کے مفادات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، کبھی حمایت اور کبھی دباؤ۔یہی پاکستانی سیاست کی روایت رہی ہے اور پی ٹی آئی بھی اسی چکر کا حصہ بنی لیکن اسے ختم نہیں کیا گیا بلکہ بھر پور طریقے سے سیاسی طور پر زندہ رکھا گیا۔
پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات اب ایک مرتبہ پھر اسی نظریہ اثاثہ کے ارد گرد گھومتے نظر آ رہے ہیں۔اگر پی پی پی یا مسلم لیگ ن ملک میں مذید صوبے بنانے اور مذید آئینی ترامیم کی حمایت کرنے میں رکاوٹ بننے کی کوشش کریں گے تو پھر قومی اثاثہ یعنی پی ٹی آئی کو ڈیل کے نام پر میدانِ عمل میں اتارا جائے گا اور اس کے آثار عمران خان کو جیل سے علاج کے لیئے اعلی قسم کے نجی ہسپتال میں منتقلی کے عدالتی احکامات کے بعد سے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سیاست میں طاقت کے مراکز بدلتے رہتے ہیں، اتحاد اور تصادم دونوں ہوتے ہیں۔ ہم سب نے یہ بھی دیکھا کہ پی ٹی آئی کو شروع دن سے ہی مخالف سیاسی جماعتوں کو دباؤ میں رکھنے کے لیئے استعمال کیا گیا۔
سیاست میں کوئی بھی ”اثاثہ“ مستقل نہیں ہوتا۔ جو آج لاڈلا ہے، کل چیلنج بن سکتا ہے اور پی ٹی آئی کا مستقبل بھی اسی اصول کے تابع ہے۔چونکہ پا کستان کی سیاست میں اشٹبلشمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا تعلق ہمیشہ سے متنازعہ اور بدلتا ہوا رہا ہے اسی لیئے ایک پی ٹی آئی کے نام سے ایک”مستقل قومی سیاسی اثاثہ“ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
واپس کریں