
حال ہی میں بھارت میں تعینات امریکی سفیر نے کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے کر ایک تہلکہ مچا دیا ہے ۔یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر ایک بڑا سوال ہے کہ ہم 80سال گزرنے اور کشمیری و پاکستانی عوام کی بے مثال قربانیوں کے باوجود کشمیر کے مسئلے پر عالمی رائے عامہ کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کیوں ناکام رہے ہیں ؟ اگر غور سے دیکھا جائے تو اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہماری کشمیر پالیسی بھی بھارت سے مختلف دکھائی نہیںدیتی کیونکہ دونوں ملک ابھی تک 1947ءکے زمانے میں پھنسے ہوئے ہیں جبکہ 80سال کے دوران پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے۔ جوشاید دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو نظر نہیں آ رہا۔1947ءمیں تقسیم ہند کا یہ فارمولا تھا کہ جو ریاست جس نو آزاد ملک یعنی پاکستان اور بھارت کے ساتھ چاہے الحاق کر سکتی ہے۔
جونا گڑھ، حیدرآباد دکن اور کشمیر ایسی ریاستیں تھیں جہاں جونا گڑھ اور حیدرآباد میں حکمران تو مسلمان تھے لیکن وہاں کی اکثریتی آبادی ہندوؤں کی تھی اور ان ریاستوں کی کوئی سرحد بھی پاکستان کے ساتھ نہیں ملتی تھی۔ جبکہ کشمیر مسلم اکثریت والی ریاست تھی لیکن اس کا حکمران غیر مسلم تھا اور اس کی سرحدیں بھی پاکستان سے ملتی تھیں۔ چنانچہ بھارت نے جونا گڑھ اور حیدرآباد دکن پر بذریعہ طاقت قبضہ کر لیا حالانکہ ریاست جونا گڑھ نے پاکستان کیساتھ الحاق کا اعلان بھی کر دیا تھا اور حیدرآباد دکن کا حکمران بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتا تھا۔ جبکہ وادیءِ کشمیر مسلم اکثریت والی ریاست تھی جو پاکستان کے ساتھ الحاق کی حامی تھی لیکن وہاں کے غیر مسلم ڈوگرہ مہاراجہ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے اور ہندوستانی فوج کو کشمیر میں آنے کی دعوت دیکر مسئلہ کشمیر کی بنیادیں رکھ دیں۔ اس وقت تک قبائلی لشکروں نے کشمیر کا وہ علاقہ آزاد کروا لیا تھا جسے آج کل آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ اس مسئلے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ 80 سال گزرنے کے بعد اب زمینی حقائق یکسر بدل چکے ہیں۔ کشمیری عوام نے اس دوران ہندوستان اور پاکستان میں ہونیوالی سیاسی، معاشی، سماجی اور جغرافیائی تبدیلیاں بھی دیکھ لی ہیں جن کی بنیاد پر وہ 1947 ءکے دو آپشنز یعنی ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی ایک کیساتھ الحاق کے ساتھ ساتھ تیسرے آپشن یعنی آزاد اور خود مختار کشمیر کے بارے میں بھی سوچنے لگے ہیں، اور یہ سوچ بھی ایک طرح کا بنیادی حق ہی ہے ۔تاہم ہندوستان اور پاکستان دونوں اس کیلئے آمادہ نہیںکہ انکے تئیں کشمیریوں کا حق خود ارادیت صرف اس آپشن تک محدود ہے کہ وہ یا تو ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں یا پاکستان کے ساتھ، انہیں تھرڈ آپشن یعنی آزاد اور خود مختار کشمیر کا کوئی حق حاصل نہیں۔ یہی وہ سوچ ہے جس نے مسئلہ کشمیر کو مزید الجھا دیا ہے کیونکہ عالمی رائے عامہ صرف اسی صورت میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں دلچسپی لے سکتی ہے جب کشمیریوں کو انکے تمام حقوق بشمول تھرڈ آپشن اپنانے کی اجازت بھی دی جائے ورنہ عملی طور پر یہ مسئلہ دونوں ممالک کی توسیع پسندی کے زمرے میں آ کر مقامی مسئلہ رہےگا، عالمی مسئلہ نہیں بن پائے گا۔
یہی وہ سوچ ہے جس نے نہ صرف کشمیریوں بلکہ بھارت اور پاکستان میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور انکی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اسی سوچ کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان میں کئی جنگیں ہو چکی ہیں جن میں پاکستان اپنے مشرقی حصے سے محروم ہو چکا ہے اور باقی ملک کی سالمیت بھی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اگر ہم نے کشمیر کے معاملے میں یہ موقف اپنایا ہوتا کہ بھارت کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس ان پر ناجائز قابض ہے اور ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ کشمیریوں کو انکا پیدائشی حق خود ارادیت دیا جائے جس میں انہیں کھلی اجازت ہو کہ وہ پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کریں یا خود مختار حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھیں تو پوری دنیا کے جمہوریت پسند اور انسانی حقوق کے داعی عوام کی ہمدردیاں حاصل کی جا سکتی تھیں اور ممکن ہے اب تک یہ مسئلہ حل بھی ہو چکا ہوتا۔
لیکن جس کسی نے بھی زمینی حقائق پر مبنی بات کی اسے غدار قرار دیدیا گیا۔ ہماری خواہش اور دعا تو یہی ہے کہ کشمیری پاکستان کے ساتھ الحاق کو ہی ترجیح دیں لیکن اگر وہ تھرڈ آپشن کا راستہ اختیار کرتے ہوئے خود مختار کشمیر کا انتخاب کرتے ہیں تو ہم کس حیثیت سے انہیں روک سکتے ہیں اور اگر ہم انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ہمارے اور ہندوستان کے طرزِ عمل میں کیا فرق رہ جائیگا۔ حالات جس سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اس سے بخوبی واضح ہو رہا ہے کہ وہ تھرڈ آپشن جس کا ہم ذکر کرنا اور سننا بھی پسند نہیں کرتے اسے شامل کیے بغیر کوئی بات چیت آگے بڑھتی دکھائی نہیں دے رہی۔ فرض کریں اگر بھارت کشمیر کو اپنے ہاتھوں سے نکلتے ہوئے دیکھ کر کسی وقت کشمیریوں کو تھرڈ آپشن کی اجازت دے دیتا ہے تو پاکستان کی پوزیشن کیا ہوگی ؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان کو اتنا پرکشش بنا دیں کہ کشمیری عوام ہمارے ساتھ الحاق کرنے کو ہی ترجیح دیں لیکن تھرڈ آپشن کی مخالفت کر کے خود کو غاصب بھارت کے برابر کھڑا نہ کریں۔ اگر کسی وجہ سے کشمیری عوام تھرڈ آپشن کو اختیار کرتے ہوئے خود مختار کشمیر کا انتخاب بھی کریں تو بھی ہمیں اسے خوش دلی سے قبول کر لینا چاہیے کیونکہ کشمیریوں کا طویل ہمدرد اور ساتھی ہونے کی وجہ سے بھارت کی نسبت اسکے تعلقات پاکستان کے ساتھ ہمیشہ اچھے رہیںگے اور یہ کسی وقت بھی ایک فیڈریشن کا روپ دھار سکتے ہیں ورنہ ہم کشمیر کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا دینے کے بعد بھی مطعون ہی رہیں گے اور یہ خطہ مزید تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔
واپس کریں