حامدمیر
ایک دوست نے بڑے درد مندانہ انداز میں سوال پوچھا کہ آپ نئے صوبوں کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ خاکسار نے جواب میں کہا کہ میں نئے صوبوں کی مخالفت نہیں کر رہا بلکہ صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ نئے صوبے 1973ء کے آئین کی دفعہ239کی ذیلی شق چار کے مطابق بنائے جائیں۔ جس صوبے کی اسمبلی نئے صوبے کے حق میں فیصلہ دے وہاں نیا صوبہ ضرور بنائیں۔ دوست نے بڑے ناصحانہ انداز میں کہا کہ جو بھی نئے صوبوں کی مخالفت کریگاوہ بہت نقصان اٹھائیگا۔ پھر اس پرانے دوست نے ہنستے ہوئے کہا کہ اگر ہم نئی آئینی ترمیم کے ذریعہ کوئی راستہ نکال لیں پھر تو آپکو اعتراض نہیں ہو گا؟میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا کہ بھائی میں اعتراض کرنیوالا کون ہوں آپکی مرضی آپ نے آئین کو اپنی مرضی کے مطابق جیسے بدلنا ہے بدل لیں۔ دوست کچھ بےتکلف ہے اور اتفاق سے ابھی تک مسلم لیگ ن کا وزیر بھی ہے۔ کہنے لگا ہم اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ نہیں کرتے، جو بھی کرتے ہیں قومی مفاد میں کرتے ہیں۔ بات ختم ہو گئی۔
کچھ دن بعدمیں نے جان کی امان پاتےہوئے ایک وی لاگ میں صرف یہ عرض کر دیا کہ پاکستان میں نئے صوبے ضرور بنائیں لیکن سندھ اور پنجاب سے انکی شناخت نہ چھینیں کیونکہ لفظ پاکستان در اصل پنجاب، افغانیہ (خیبر پختونخوا)، کشمیر، سندھ اور بلوچستان کی نمائندگی کرتا ہے۔ میری اس مؤدبانہ گزارش کے جواب میں کچھ محب وطن حضرات نے بڑےطنزیہ اندازمیں پوچھا ہے کہ تمہیں کس نے بتایا کہ لفظ پاکستان چار صوبوں کا نمائندہ ہے؟ جب پاکستان بنا تو مشرقی بنگال بھی پاکستان میں شامل تھا تو پھر لفظ پاکستان میں بنگال کی نمائندگی کیوں نظر نہ آئی؟ ایسا سوال وہی اٹھا سکتا ہے جو تاریخ سے بالکل واقف نہیں لیکن خود کو عقل کل سمجھتا ہو۔ ویسے تو لفظ پاکستان کو پہلی دفعہ ایک کشمیری صحافی غلام حسن شاہ کاظمی نے استعمال کیا تھاجنہوں نے 1928ء میں ہفت روزہ پاکستان کے اجراکیلئے ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد کو درخواست دی تھی لیکن اس لفظ کو پہلی دفعہ ’’پاک ستان‘‘ کے نام سے ایک علیحدہ ریاست کے طور پر چوہدری رحمت علی نے 1933ء میں استعمال کیا جب انہوں نے پاکستان موومنٹ کی طرف سے ایک پمفلٹ لکھا جس کا عنوان تھا NOW OR NEVER (اب یا کبھی نہیں) - یہ لفظ پہلے PAKSTAN تھا اس میں”I “نہیں تھا بعد میں اسلام کی نمائندگی کیلئے”I “شامل کیا گیا اور یہ PAKISTAN بن گیا۔ چوہدری رحمت علی نے ”پاک ستان “یعنی پاک سرزمین میں دہلی سمیت پورے پنجاب کو شامل کیا۔ انہوں نے اس نئے ملک میں افغانیہ یعنی خیبر پختونخوا ، کشمیر، سندھ اور بلوچستان کو بھی شامل کیا۔انہوں نے بنگال اور آسام کیلئے ایک علیحدہ ملک” بنگستان “کے نام سے تجویز کیا تھا۔23 مارچ 1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ نے اپنے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں جو قرارداد منظور کی اس میں لفظ پاکستان شامل نہیں تھا مگر اس قرارداد میں شمال مغربی ہندوستان اور مشرقی ہندوستان کے مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ” ریاستیں“ قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ آل انڈیا مسلم لیگ بنگال اور پنجاب کی تقسیم کیخلاف تھی۔ جب مسلم لیگ کو یقین ہو گیا کہ برطانوی حکومت اور کانگریس کے گٹھ جوڑ کے باعث بنگال تقسیم ہو جائے گا تو پھر 1946ء میں دہلی میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں متحدہ بنگال کے وزیراعظم حسین شہید سہروردی نے بنگال کو پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ یہی سہروردی تھے جنہیں 1962ء میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے غدار قرار دیکر جیل میں قیدکر دیا تھا۔ 1947ءمیں مشرقی بنگال پاکستان کا حصہ تو بن گیا لیکن 1971ء میں پاکستان سے علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ میری عرض صرف اتنی ہے کہ سندھ اسمبلی نے 1943ء میں اور پنجاب اسمبلی نے 23جون 1947ء کو پاکستان کے حق میں فیصلے دیئے۔ نئے صوبے بنانے ہیں تو ضرور بنائیں لیکن ان صوبوں کی شناخت نہ چھینیں جنہوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا۔ نئے صوبوں کے حق میں بھارت کی مثال نہ دیں جہاں 1947ء میں 9ریاستیں تھیں اور آج 28 ریاستیں اور 8وفاق کے زیرانتظام یونٹ ہیں۔ بھارت کی آبادی اور پاکستان کی آبادی میں بہت فرق ہے۔ آج بھی بھارتی ریاست اترپردیش کی آبادی 24 کروڑ ہے جو پاکستان کی کل آبادی کے برابر ہے۔ بہار کی آبادی 13کروڑ اور مہاراشٹرا کی آبادی 12کروڑ ہے۔ اسکے مقابلے میں پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی آبادی 12 کروڑ سے اوپر اور سندھ کی آبادی 6 کروڑ کے قریب ہے۔ دو صوبوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات پہلے ہی خراب ہیں اور اب آزاد کشمیر میں بھی گڑبڑ ہے۔ ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے جس سے فائدہ اٹھا کر پاکستان کے دشمن سندھ میں بھی نفرتوں کی آگ لگانے میں مصروف ہو جائیں۔
چوہدری رحمت علی نے جس پاکستان کا نام تجویز کیا تھا اس میں بھارتی پنجاب بھی شامل تھا۔ انہوں نے جس”بنگستان “ کا منصوبہ پیش کیا اس میں بھارتی ریاست مغربی بنگال اور آسام بھی شامل تھیں۔ مت بھولیں کہ بھارت کے قومی ترانے میں آج بھی سندھ شامل ہے ۔یہ ترانہ 1911میں لکھا گیا اور اکھنڈ بھارت کا منصوبہ اس سے بھی پرانا ہے۔ہندو انتہا پسندوں کے عزائم کوئی ڈھکے چھپے نہیں۔ انہی عزائم کیخلاف چوہدری رحمت علی نے صرف پاکستان نہیں بلکہ بنگستان سمیت دس نئی مسلم ریاستوں کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ انہوں نے ان دس مسلم ریاستوں پر مشتمل ایک پاک کامن ویلتھ کا تصور بھی دیا جو در اصل” اکھنڈ بھارت “کے منصوبےکا توڑ تھا۔ 1947ء میں مشرقی پنجاب ،مغربی بنگال اورجموں و کشمیر کے بغیر پاکستان کے قیام پر چوہدری رحمت علی کو شدید اعتراض تھا حالانکہ قائداعظم نے یہ کٹا پھٹا پاکستان بھی بڑی مشکل سے حاصل کیاتھا۔ چوہدری رحمت علی سیاستدان سے زیادہ مفکر تھے۔ 1947ء میں انکے منصوبے پر عملدرآمد مشکل نہیں ناممکن تھا لیکن آج کے بھارت میں مسلمانوں کیساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اسکی روشنی میں دیکھا جائے تو بھارتی مسلمان چوہدری رحمت علی کی فکر سے دوبارہ رجوع کر سکتے ہیں۔چوہدری رحمت علی نے 1943ء سے 1946ء کے درمیان پاکستان اور بنگستان سمیت دس نئی مسلم ریاستوں کا تحریری منصوبہ پیش کیا۔ یہ سارا مواد میں نے بہت غور سے پڑھا ہے۔ انہوں نے آگرہ، اودھ اور دیگر علاقوں کے مسلمانوں کیلئے حیدرستان، بہار اور اڑیسہ کے مسلمانوں کیلئے فاروقستان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور مہاراشٹراکے مسلمانوں کیلئے صدیقستان، راجستھان کے مسلمانوں کیلئے معینستان، دکن کے مسلمانوں کیلئے عثمانستان، مالابار اور مدراس والوں کیلئے ماپلستان، مشرقی سری لنکا کے مسلمانوں کیلئے صفستان اور مغربی سری لنکا کے مسلمانوں کیلئے نثارستان کا منصوبہ پیش کیا۔ انہوں نے سکھوں کی ایک علیحدہ ریاست میں پٹیالہ ، نابھہ اور فرید کوٹ کو شامل کرکے اسے”سکھیا“یا سکھستان کا نام دیا اور ہندوؤں کیلئے” ہندوستان “بھی دیا جس میں دہلی اور دریائے جمنا کے درمیان ہندو اکثریتی علاقے شامل تھے۔ چوہدری رحمت علی جنوبی ایشیا میں دس نئی مسلم ریاستوں کی کامن ویلتھ قائم کرکے اکھنڈ بھارت اور رام راج کے منصوبے کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ انکی سوچ کو آج کچھ لوگ غیر حقیقت پسندانہ ضرور کہیں گے لیکن وہ دراصل اکھنڈ بھارت کے منصوبے کیخلاف مزاحمت کر رہے تھے جسکا نقشہ آج بھارتی پارلیمنٹ میں آویزاں ہے۔ مودی سرکار آر ایس ایس کی سوچ کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت پورے جنوبی ایشیا پر قبضہ کرکے یہاں کے مسلمانوں ، مسیحیوں اور سکھوں کو زبردستی ہندو بنانا چاہتی ہے۔ آپ پاکستان میں نئے صوبے ضرور بنائیں لیکن دشمن کے منصوبوں سے بھی ہوشیار رہیں جو آپکو آپس میں لڑوا کر فائدہ اٹھانے کی کوشش کرےگا۔
واپس کریں