حویلی الیکشن اور فیصل ممتاز راٹھور کی جیت، دھاندلی کیسے ہوئی؟

امجد حسین بخاری : الیکشن سے پہلے ضلع حویلی کے حلقے میں خواجہ طارق سعید اور محسن عزیز کی الیکشن مہم ان کی نیک نامی کی وجہ سے زوروں پر تھی، وزیراعظم آزاد کشمیر حالیہ تنازعہ کی وجہ سے ریاست بھر میں بیک فٹ پر تھے۔ اس کا اعتراف انہوں نے نجی محافل اور اپنی تقاریر میں بھی کیا۔ محسن عزیز اپنے والد کی وفات کے بعد پہلی بار میدان میں اترے تھے۔ انکی برداری کی خاصی تعداد انکے ساتھ تھی، دیگر برادری کے افراد تحریک انصاف کے امیدوار عامر نذیر کیساتھ مگر پارٹی کے بائیکاٹ کے بعد عامر کی جانب سے استحکام کے ٹکٹ پر میدان میں اترنا پی ٹی آئی کارکنان اور گجر برداری کو بھی ناگوار گزرا، جس کے بعد تمام برادری اور پی ٹی آئی سے وابستہ افراد بھی محسن عزیز کا ساتھ دینے لگے۔ الیکشن سے پہلے سروے، عمومی رائے ، جلسے اور کارنر میٹنگز میں بھی محسن کا پلڑا بھاری رہا۔ فیصل راٹھور کو اقلیتوں اور کشمیری ووٹ بینک کی امید تھی مگر طارق سعید کی بھرپور کمپین نے وہ ووٹ بینک بھی قبضے میں کرلیا۔
اب یہاں شروع ہوتی ہے اصل گیم جو محسن عزیز سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔
آر او الیکشن۔۔۔ جی وہی آر او الیکشن جس کے سہارے پیپلزپارٹی سندھ ، ن لیگ پنجاب میں جبکہ پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اقتدار میں ہے۔
فیصل راٹھور نے وزیراعظم کے عہدے اور حالیہ تابعداری کی وساطت سے اپنی مرضی کا الیکشن عملا تعینات کروایا۔ اپنے قریبی افراد کو چن۔ چن کر اہم جگہوں پر تعینات کروایا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کے روپ میں اپنے بندے ہر جگہ پہنچائے۔ یوں ضلع حویلی کا الیکشن منیج ہوا اور یوں جس ضلع سے جو لوگ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے کہ نعرے بلند کر رہے تھے، اسی مقام پر الیکشن نتائج کی شب آنسو گیس چلی، لاٹھی چارج ہوا، نئی دشمنیوں کا آغاز ہوا ۔
لیکن اس سارے عمل میں الیکشن کمیشن کا کردار انتہائی منفی رہا۔
ایسے نتائج اور الیکشن کو منیج کرنے کی کوششیں ہیں کشمیریوں کو بغاوت پر اکساتی ہیں۔
واضح رہے کہ اس حلقے میں اگر میں ووٹ ڈالتا تو صفدر حمید میرا امیدوار ہوتا کیونکہ ان سے نظریاتی وابستگی ہے۔ لیکن میں دل سے طارق سعید کو پسند کرتا ہوں جبکہ راٹھور خاندان کیساتھ قلبی، خاندانی اور دلی وابستگی ہے۔
چوہدری عزیز مرحوم کو کبھی ووٹ دیا ہے اور نہ ہی سیاسی طور پر کبھی حمایت کی۔ بہرحال حالیہ نتائج پر محسن عزیز اور انکے مشیروں سے دلی ہمدردی ہے۔ بھرپور عوامی حمایت کے باوجود پولنگ ڈے پر سرگرم نہ رہ سکے اور جیتا ہوا الیکشن ہار بیٹھے۔
واپس کریں