ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
شہر کے دروازے پر ایک عجیب آئینہ لگا دیا گیا۔ کہا گیا کہ جو بھی اس کے سامنے کھڑا ہوگا، وہ اپنی حقیقی صورت دیکھے گا۔ شہر کے حکمران خوش تھے، انہیں یقین تھا کہ یہ آئینہ ان کی شان و شوکت کو چار چاند لگائے گا۔ لیکن جب پہلا وزیر اس کے سامنے کھڑا ہوا تو اس نے اپنی جھریاں دیکھیں، اپنی تھکی ہوئی آنکھیں، اور اپنے فیصلوں کا سایہ۔ اس نے چیخ کر کہا: "یہ جادو ہے، یہ جھوٹ ہے!" اور آئینے کو توڑنے کا حکم دے دیا۔ مگر آئینہ ٹوٹا نہیں، وہ ہر گلی میں، ہر مکتب میں، ہر دفتر میں پھیل گیا۔ آج وہ آئینہ مصنوعی ذہانت ہے، اور پاکستان اس کے سامنے کھڑا ہے۔
یہ آئینہ کوئی معجزاتی زینہ نہیں جو شہر کو آسمان تک پہنچا دے، بلکہ یہ ایک ایسی شفاف سطح ہے جو ہر اس فنِ تعمیر کو اجاگر کرتی ہے جسے ہم نے برسوں میں تعمیر کیا۔ جہاں ہم نے گہرے ستون گاڑے، وہاں یہ آئینہ ان کی مضبوطی دکھاتا ہے، لیکن جہاں ہم نے گارے کی اینٹیں جمانے کی کوشش کی، وہاں یہ دیواروں کے اندر کی کہانی سناتا ہے۔ یہ ایک ایسے طالب علم کی مانند ہے جو ایک جادوئی قلم پا لے، لیکن اگر اسے لکھنا نہ آتا تو وہ صرف بے ربط خطوط کھینچ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسے کسان کی مانند ہے جسے جدید مشینری مل جائے، لیکن اگر اسے مٹی کی ساخت کا علم نہ ہو تو وہ صرف بے کار گڑھے کھود سکتا ہے۔ پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ اس کے پاس اب یہ جادوئی قلم اور مشینری موجود ہے، مگر اس کے ہاتھوں نے کبھی سوچ کا وزن نہیں اٹھایا، اس کی آنکھوں نے کبھی تحقیق کی گہرائی نہیں دیکھی، اور اس کی زبان نے کبھی سوال کرنے کی عادت نہیں ڈالی۔ نتیجہ؟ ایک ایسا منظر جہاں ہر کوئی جلد از جلد آئینے کے سامنے کھڑا ہونے کو بے تاب ہے، لیکن بہت کم لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اس آئینے میں وہ کیا دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ آئینہ صرف موجودہ صورت حال کو ظاہر نہیں کرتا، بلکہ یہ ان خوابوں کو بھی جھٹلاتا ہے جو ہم نے کبھی دیکھے تھے۔ جب پروفیسر صاحب، جنہوں نے اپنی پوری زندگی رٹے ہوئے نوٹ پڑھانے میں گزار دی، اس آئینے کے سامنے آتے ہیں تو وہ اپنی علمی کمزوری کو بے نقاب پاتے ہیں۔ جب کوئی بیوروکریٹ، جس نے اپنے کیریئر میں کبھی کوئی نیا سوال نہیں پوچھا، اس آئینے کو دیکھتا ہے تو اسے اپنی سوچ کی جکڑن کا احساس ہوتا ہے۔ یہ وہی کہانی ہے جو ڈیرون عجیم اوغلو اور پاسکول ریسٹریپو نے اپنے ماڈل میں بیان کی: مشینیں محض کام کی جگہ نہیں لیتیں، بلکہ وہ انسانی فیصلے کی اہمیت کو بڑھاتی ہیں، لیکن اگر فیصلہ کرنے والے خود کمزور ہوں تو یہ مشینیں ان کی کمزوری کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ یہ ایک ایسے ڈرامے کی مانند ہے جہاں اداکاروں کو نیا اسکرپٹ مل گیا ہے، لیکن انہیں اب بھی پرانے ڈائیلاگ یاد ہیں۔ وہ اسکرپٹ کو اپنے پرانے انداز میں ادا کرتے ہیں، اور نتیجہ ایک ایسا مذاق ہے جسے کوئی سامعین نہیں سمجھ پاتے۔ یہی وہ "معمولی ٹیکنالوجی" ہے جس کے بارے میں عجیم اوغلو اور سائمن جانسن نے خبردار کیا: وہ ایجادات جو بغیر کسی فکری انقلاب کے محض کام کو تیز کر دیتی ہیں، اور پھر ہم حیران ہیں کہ ہماری پیش رفت کی رفتار کیوں نہیں بدلتی۔
اس تمثیل کا ایک اور پہلو ہے: شہر کے اندر ایک قدیم درسگاہ تھی جس کی دیواروں پر صدیوں پرانی ڈگریاں آویزاں تھیں، اور جس کے دروازے صرف ان لوگوں کے لیے کھلتے تھے جن کے پاس موٹی جیبیں یا مضبوط رشتے تھے۔ اس درسگاہ کے استاد اپنے طلباء کو وہی کچھ سکھاتے تھے جو انہوں نے خود اپنے اساتذہ سے سیکھا تھا، اور اس سے زیادہ کا کوئی سوال نہیں اٹھتا تھا۔ اب جب AI کا آئینہ اس درسگاہ کے سامنے آیا تو اس نے ایک ایسی حقیقت دکھائی جس سے سب آنکھیں چرا رہے تھے: یہ درسگاہ علم کا گہوارہ نہیں، بلکہ ایک بیوروکریٹک مشین تھی جو ہر سال ایک جیسی ڈگریاں تیار کرتی تھی، بالکل اسی طرح جیسے کوئی پرنٹنگ پریس ایک جیسی کتابیں چھاپتا ہے۔ یہ وہی مسئلہ ہے جسے ایرک برائن جولفسن نے "ٹیورنگ ٹریپ" کا نام دیا: جب ہم مشینوں کو انسانوں کی نقل کرنے پر مجبور کرتے ہیں تو ہم خود کو ایک ایسے جال میں پھنساتے ہیں جہاں ہماری اپنی تخلیقی صلاحیت دب جاتی ہے، اور ہم صرف وہی کچھ حاصل کر پاتے ہیں جو پہلے سے موجود ہے۔ پاکستان کو اس جال سے نکلنے کے لیے ایک نیا راستہ بنانا ہوگا، ایک ایسا راستہ جو ڈگریوں کی نہیں، صلاحیتوں کی منزل کی طرف لے جائے، جہاں ہر بچہ، چاہے وہ کسی بھی گلی کا ہو، ایک ایسا سوال پوچھ سکے جو اس سے پہلے کسی نے نہیں پوچھا، اور جہاں ہر استاد ایک رہنما ہو، محض ایک نوٹ فراہم کرنے والا نہیں۔
لیکن یہ کہانی کا اختتام نہیں، بلکہ شاید اس کا آغاز ہے۔ شہر کے حکمران اب بھی آئینے کو توڑنے کے منصوبے بنا رہے ہیں، لیکن عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، اس آئینے میں اپنا مستقبل دیکھنا چاہتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ آئینہ کوئی جادو نہیں، بلکہ ایک موقع ہے، ایک موقع کہ وہ اپنی تعلیم کو نئے سرے سے تعمیر کریں، اپنی یونیورسٹیوں کو بیوروکریسی کے پنجرے سے نکالیں، اور اپنی صلاحیتوں کو ایک ایسی کرنسی میں تبدیل کریں جو وقت کے ساتھ بدلتی اور بڑھتی رہے۔ یہ ایک ایسی جدوجہد ہے جو ایک تمثیلی افسانے سے زیادہ حقیقی ہے، اور ایک سیاسی ڈرامے سے زیادہ گہری ہے۔ پاکستان کے پاس دو راستے ہیں: ایک آسان راستہ جہاں وہ اس آئینے کو آرائشی شیشے کی طرح استعمال کرتا رہے، اور دوسرا مشکل راستہ جہاں وہ اسے اپنی فکری تعمیر نو کا محرک بنائے۔ پہلا راستہ اسے معمولیت کی طرف لے جائے گا، جو اب تیز رفتار اور بہتر فارمیٹنگ کے ساتھ آئے گی۔ دوسرا راستہ اسے ایک ایسے مستقبل کی طرف لے جائے گا جہاں فیصلہ، تجربہ اور خودمختاری کلیدی الفاظ ہوں، اور جہاں ہر پاکستانی اس آئینے میں اپنا ایک نیا چہرہ پائے، جو اس کی حقیقی صلاحیتوں کا آئینہ دار ہو۔ مستقبل اس شہر کے کاغذی کارروائی ختم کرنے کا انتظار نہیں کر رہا، وہ پہلے ہی دوسرے شہروں کے دروازے کھٹکھٹا رہا ہے۔
واپس کریں