دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
چودہ اگست جشن آذادی کے تقاضے ۔ احتشام الحق شامی
No image چودہ اگست پاکستان کی آزادی کا دن ہے لیکن یہ دن صرف چھٹی یا رنگ برنگی تقریبات کا موقع نہیں بلکہ قومی شعور، قربانیوں کی یاد اور مستقبل کی ذمہ داریوں کا تقاضہ کرتا ہے۔ ۱۹۴۷ء میں قیامِ پاکستان کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے جان، مال اور آرام کی قربانی دی۔ آج جب ہم اس دن کو مناتے ہیں تو ہمیں ان تقاضوں کو سمجھنا اور پورا کرنا چاہیے جو حقیقی آزادی اور قومی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔جشنِ آزادی کا پہلا تقاضا قومی اتحاد و یکجہتی ہے۔ پاکستان مختلف صوبوں، زبانوں اور ثقافتوں پر مشتمل ہے۔ چودہ اگست پر سبز ہلالی پرچم لہرانے اور قومی ترانے کے ساتھ ہمیں یہ احساس دلانا چاہیے کہ ہم سب ایک قوم ہیں۔ فرقہ واریت، صوبائیت اور ذات پات کے تعصب کو ختم کر کے ایک قوم بن کر رہنا آزادی کا حقیقی مفہوم ہے۔
دوسرا اہم تقاضا قربانیوں کی یاد اور ان کے احترام کا ہے۔ آزادی حاصل کرنے والے بزرگوں، شہداء اور قائداعظم محمد علی جناح کی جدوجہد کو صرف تقاریر میں یاد کرنا کافی نہیں۔ ہمیں ان کے نظریات یعنی اتحاد، ایمان اور نظم کو عملی زندگی میں اپنانا چاہیے۔ نوجوان نسل کو تاریخ سے آگاہ کرنا اور انہیں یہ بتانا کہ آزادی آسان نہیں ملی، جشن کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔
تیسرا تقاضا محنت، ایمانداری اور ترقی کی طرف پیش قدمی ہے۔ آزادی صرف سیاسی آزادی نہیں بلکہ معاشی، تعلیمی اور سماجی آزادی بھی ہے۔ کرپشن، بے ایمانی اور نااہلی آزادی کے دشمن ہیں۔ چودہ اگست پر ہر شہری کو عزم کرنا چاہیے کہ وہ اپنے کام میں ایمانداری سے حصہ لے گا، تعلیم حاصل کرے گا اور ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرے گا۔ حکومت اور اداروں کا فرض ہے کہ وہ انصاف، قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح کو یقینی بنائیں۔چوتھا تقاضا امن و سلامتی اور دفاع کی تیاری ہے۔ آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط دفاعی قوت اور اندرونی استحکام ضروری ہے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور بیرونی خطرات کے خلاف متحد رہنا جشنِ آزادی کا عملی اظہار ہے۔
پانچواں تقاضا نوجوان نسل کی تربیت اور ان کی شمولیت ہے۔ نوجوان ملک کا مستقبل ہیں۔ انہیں قومی ترانے، پرچم اور آزادی کی داستان سکھانے کے ساتھ ساتھ جدید علوم، ٹیکنالوجی اور اخلاقی اقدار سے آراستہ کرنا چاہیے۔ تقریبات میں صرف آتش بازی اور کنسرٹ نہیں بلکہ فکری نشستیں، تاریخی نمائشیں اور سماجی خدمات شامل ہونی چاہئیں۔جشنِ آزادی کو صرف ایک دن کی خوشی تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔ یہ سال بھر کی ذمہ داری ہے۔ پرچم لہرانے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اردگرد صفائی، ماحول کی حفاظت، غریبوں کی مدد اور قوم کے لیے مفید کام کرنے چاہئیں۔
حقیقی جشن وہ ہے جب ہر پاکستانی اپنے آپ سے پوچھے کہ میں اپنے ملک کے لیے کیا کر رہا ہوں۔آخر میں، چودہ اگست ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی ایک امانت ہے۔ اس امانت کی حفاظت اتحاد، محنت، ایمانداری اور قربانیوں کے احترام سے ہی ممکن ہے۔
آئیے اس جشن کو صرف تقریبات کا دن نہیں بلکہ قومی تجدیدِ عزم کا موقع بنائیں تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں آزاد، ترقی یافتہ اور مضبوط قوم بن سکے۔پاکستان زندہ باد
واپس کریں