دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
الٹی گنتی کی تسبیح
No image پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسے دو بڑے سیاسی کھلاڑی اور بظاہر ایک دوسرے کے سیاسی مخالف، متنازعہ،حساس اور پیچیدہ خطے آزاد کشمیر میں جا کر حصول اقتدار کے خاطر قومی سطح کی ایک نئی سیاسی جنگ بلکہ نورا کشتی یا ڈرامہ بازی کریں گے تو آذاد کشمیر کے عوام کے ذہنوں میں ایسے الیکشن یا انتخابات کی قدر و قیمت اور احترام کیا ہو گا،جو ابھی حال ہی میں کروائے گئے ہیں، جہاں پولنگ اسٹیشن باں باں کر رہے تھے، ہر جانب ہو کا عالم تھا اور جہاں مقامی ووٹروں سے زیادہ خلائی مخلوق نے ووٹ کاسٹ کیئے اور جب الیکشن رپورٹنگ کرنے والے بین القوامی میڈیا”الجزیرہ“ اور”بی بی سی“ نے یہ ناقابل تردید حقائق دنیاکے سامنے رکھے تو حکومت پاکستان برا مان گئی اور زمینی حقائق کو سرا سر جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر مذکورہ میڈیا اداروں پر آذاد کشمیر میں رپورٹنگ کرنے پر ہی پابندی عائد کر دی بلکہ اطلاعات کے مطابق باضابطہ بین کر دیا ہے۔لگتا ہے اب”الجزیرہ“ کو بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی طرح کلعدم اور دہشت گرد قرار دے دیا جائے گا۔
جب پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی جیسی بڑی سیاسی جماعتوں کے گھاک قائدین موروثیت کے جھنڈے لہرا کر آذاد کشمیر جیسے حساس خطے میں پہنچ کر صرف اپنے زاتی ایجنڈے، اپنے مخالفین پر حملوں، اور جعلی ووٹوں کی گنتی پر توجہ دیں گے تو عام کشمیری یہی محسوس کرے گا کہ یہ انتخابات اس کے مستقبل کے لیے نہیں بلکہ اسلام آباد، لاہور یا لاڑکانہ کی سیاست کا حصہ ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ووٹ ایک مقدس امانت یا حق کی بجائے محض ایک کھیل تماشہ بن کر رہ جاتا ہے جس میں ریاست کا عام شہری محض تماشائی بن کر رہ جاتا ہے۔
ریاستِ آزاد جموں کشمیر کا آئینی ڈھانچہ پہلے ہی پیچیدہ ہے اور جب پاکستان کی بڑی جماعتیں وہاں براہ راست میدان میں اترتی ہیں تو یہ احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ حقیقی طاقت مقامی قانون ساز اسمبلی کے بجائے باہر ہے۔ مہاجرین کی نشستوں کا تنازعہ اس بات کی کھلی مثال ہے کہ قومی سیاست کس طرح مقامی معاملات پر چھا جاتی ہے اور پھر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیری نوجوان اور عام شہری انتخابات کو آزادی یا ترقی کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے بیرونی اثر و رسوخ کا آلہ سمجھنے لگتے ہیں۔ فیصلہ ساز قوتوں کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہو گا کہ حقیقی قومی احترام تب ہی پیدا ہوتا ہے جب مقامی سیاسی قیادت کو ترجیح دی جائے۔ آزاد کشمیر کو صرف ایک انتخابی میدان سمجھنے کے بجائے اسے ایک الگ سیاسی وجود کے طور پر دیکھیں وگرنہ اگلے الیکشن میں فرشتے بھی ووٹ ڈالنے نہیں آئیں گے اور چونکہ یہ منظر پیشگی طور پر اب تیسرے مرحلے میں، دس اگست کو پونچھ ڈویژن میں ہونے والے الیکشن کے دوران دیکھے جانے کا امکانات واضع تھے، اس لیئے اطلاعات کے مطابق اب تیسرے مرحلے کے الیکشن کو ملتوی کرنے کے بارے میں فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ لگتا ہے الٹی گنتی کی تسبیح کی شروعات ہو چکی ہے۔
واپس کریں