دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عصر حاضر کا اقتصادی فتنہ اور جنوب ایشیائی شباب کا ابلاغ
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
تصویرِ کائنات کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ جب کسی قوم کا نظامِ معاش و تدبیر اپنی اصل غایت سے انحراف اختیار کر لیتا ہے، تو وہاں ظاہری زیب و زینت کے پسِ پردہ تباہی کے اسباب پرورش پانے لگتے ہیں۔ قرآنِ حکیم نے اسی حقیقتِ ابدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: «وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّهْلِکَ قَرْیَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِیهَا فَفَسَقُوا فِیهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِیرًا» (اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں، پھر وہ اس میں نافرمانی کرتے ہیں، تب اس پر بات ثابت ہو جاتی ہے اور ہم اسے تباہ کر دیتے ہیں)۔ آج خطۂ جنوب ایشیا بالخصوص بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان جس شدید ساختاتی بحران اور فکری تذبذب کا شکار ہے، وہ اسی الٰہی سنت اور معاشی نافرمانی کی ناطق دلیل ہے۔
بنگلہ دیش کے سیاسی افق پر شیخ حسینہ کی حکومت کا سقوط ہو یا بھارت کے طول و عرض میں بے روزگار نوجوانوں کی بپھری ہوئی تحاریک، یہ واقعات محض جزوی سیاسی بے چینی نہیں بلکہ ایک ایسے معاشی فساد کا مظہر ہیں جس نے عددی ترقی (GDP Growth) کی نمائش کو تو معراج پر پہنچا دیا، مگر انسانی سروسامانی اور توازنِ حیات کو زیر و زبر کر دیا۔ ہمارے عہد کے اربابِ حل و عقد نے ترقی کا معیار چند اعداد و شمار کے شمارِ محض کو بنا لیا ہے، حالانکہ وہ یہ بھول گئے کہ اگر یہ نمو انسانی شرف، رفاہِ عامہ اور باوقار روزگار کی صورت میں جلوہ گر نہ ہو، تو یہ «کَسَرَابٍ بِقِیعَةٍ یَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً» (اس سراب کی مانند ہے جسے پیاسا پانی سمجھتا ہے) کے سوا کچھ نہیں باقی رہتی۔
کلاسیکی اقتصاديات کا قائم کردہ یہ مفروضہ کہ "جب معیشت نچلی سطح کی زراعت سے نکل کر اعلیٰ سطح کی صنعت و خدمات کی طرف منتقل ہوتی ہے، تو روزگار کے زریں ابواب وا ہوتے ہیں"، اس خطے کی زمینی حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہو چکا ہے۔ تین دہائیوں تک بھارت اور بنگلہ دیش نے ۶ سے ۷ فیصد کی شرحِ نمو حاصل کی، جبکہ پاکستان ۳ سے ۴ فیصد کے گرد گھومتا رہا؛ مگر تعجب اور افسوس کا مقام ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ملک اپنے فرزندانِ زمین کے لیے رسمی اور پیداواری روزگار کی ضمانت نہ دے سکا۔ بھارت کا ساختاتی تجزیہ فکری بصیرت کا تقاضا کرتا ہے: ۱۹۹۰ء میں زراعت کا قومی آمدنی میں حصہ ۳۵ فیصد تھا جو ۶۳ فیصد لیبر فورس کی کفالت کر رہا تھا۔ ۲۰۲۵ء تک جی ڈی پی میں اس کا حصہ گھٹ کر ۱۶ فیصد رہ گیا، لیکن تاحال ۴۲ فیصد مزدور اسی فرسودہ شجر سے وابستہ ہیں۔ زراعت کی پیداواری صلاحیت کا ۰.۵۴ سے گر کر ۰.۴۰ پر آنا اس امر کی شواہد کے ساتھ گواہی دیتا ہے کہ دیہی معیشت میں 'چھپی ہوئی بے روزگاری' کا اژدہا پل رہا ہے۔ مجموعی پیداواری صلاحیت چار گنا بڑھی، مگر یہ معاشی ثمرہ جدید خدمات اور ہائی ٹیک انڈسٹری کی فضاؤں میں پرواز کرتا رہا، زمین پر موجود عام مزدور کی تہی دستی دور نہ ہو سکی۔ نتیجتاً، شہری اور دیہی معاشی تفاوت اس درجے جا پہنچا کہ جہاں شہری ہاؤس ہولڈ کی اوسط آمدنی ۲۰,۰۰۰ ڈالر ہے، وہاں دیہی آمدنی محض ۳,۶۰۰ ڈالر پر دم توڑ رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کی جدید اور بے ہنگم پیش رفت نے اس فتنے کو مزید دو آتشہ کر دیا ہے۔ بھارت کا آئی ٹی شعبہ دنیا بھر میں اپنی شوکت کے علم گاڑ رہا ہے ۳۰۰ ارب ڈالر کی سالانہ آمدنی اور ۱۳ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اس کا طرۂ امتیاز ہے مگر حسیات کو جھنجھوڑنے والی حقیقت یہ ہے کہ یہ شاندار بحرِ زخار محض ۶۰ لاکھ یعنی کل ورک فورس کے صرف ۱ فیصد کو روزگار دیتا ہے۔ ایم این سیز کے دو ہزار سے زائد عالمی قابلیت کے مراکز (GCCs) محض ۲۰ لاکھ نفوس کی کفالت کرتے ہیں۔ دوسری طرف، ہر سال ۱ کروڑ ۲۰ لاکھ نوجوان معاشی میدان میں قدم رکھتے ہیں، جن میں ۱۰ لاکھ انجینئرز شامل ہیں۔ مگر تعلیمی زوال کا یہ عالم ہے کہ ان میں سے نصف بھی واقعی صلاحیت کے حامل نہیں سمجھے جاتے۔
ٹیکنالوجی کا یہ نام نہاد غلبہ اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی یلغار «ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ» کا ایک نیا روپ ہے، جو کم ہنر مند انسانوں کو معاشی دھارے سے نکال کر کوڑے دان میں پھینک رہی ہے۔ پالیسی ساز اس دوراہے پر شش و پنج کا شکار ہیں کہ ٹیکنالوجی کے تلاطم میں ملک کو مسابقتی بنائیں یا غیر ہنر مند لاکھوں نوجوانوں کے نان و نفقہ کا سامان کریں!
حالات کی سنگینی کا دوسرا رخ تعلیمی فریب اور معیاری خلا ہے۔ تعلیم کو محض سند اور ڈگری کی گرد گردانا گیا، روحِ علم اور عملی حکمت سے خالی کر دیا گیا۔ اعلیٰ تعلیم میں ۲۸ فیصد اینرولمنٹ ریٹ اور ۴ کروڑ ۵۰ لاکھ طلبہ کی موجودگی کے باوجود تعلیمی نظام بے سمت ہے۔ ۲۰۰۴ء سے ۲۰۲۳ء کے درمیان ۵۰ لاکھ سالانہ گریجویٹس میں سے محض ۲۸ لاکھ کو روزگار مل سکا۔ صرف ۷۲ ہزار سرکاری اسامیوں کے لیے ۲۲ کروڑ درخواستوں کا بارگاہِ حکومت میں التجا بن کر جانا اس ذہنی و ساختاتی افلاس کا عبرت ناک تماشا ہے۔ میکنزی کے سائنسی حقائق بتاتے ہیں کہ تین چوتھائی بھارتی گریجویٹس بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتے۔ رٹا سسٹم، روایتی نصاب اور تحلیلی و تنقیدی فکر سے محرومی نے ہمارے شبان و روز کو ایسی اسناد سے لاد دیا ہے جو معاشی میدان میں بے وقعت ہیں۔ مزید برآں، ریاستی سرمائے کا رخ IITs اور IIMs جیسے اشرافیہ کے اداروں کی طرف موڑ کر عام جامعات اور نچلے طبقات کے ساتھ معاشی و علمی ناانصافی کی گئی ہے۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جنوب ایشیائی ممالک کے حکمرانوں کو اب سچائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ محض جی ڈی پی کا تحرک اور چند اعداد کی شعبدہ بازی نہ قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے اور نہ ہی شباب کے ابلتے ہوئے غیظ و غضب کو ٹھنڈا کر سکتی ہے۔ اگر معاشی پالیسیوں کو خادمِ انسانیت نہ بنایا گیا، مینوفیکچرنگ کے خفتہ قالب میں روح نہ پھونکی گئی، زراعت کو جدت سے آراستہ کر کے پائیدار نہ بنایا گیا اور تعلیم کو حرفِ باطل کے بجائے حکمت و بصیرت سے منور نہ کیا گیا، تو یاد رکھیے کہ یہ بڑھتا ہوا تفاوت، یہ تہی دستی اور یہ غضبناک شباب کسی بڑے سیاسی و سماجی زلزلے کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، جس کے بعد تاریخ کے صفحات پر صرف حسرت اور تباہی کے داستانچے ہی باقی رہیں گے۔
واپس کریں