
6 اگست 1945 صرف ایک تاریخ نہیں، بلکہ انسانی ضمیر پر ثبت وہ زخم ہے جو آج بھی پوری انسانیت کو جھنجھوڑتا ہے۔ اس دن جاپان کے شہر ہیروشیما پر دنیا کا پہلا ایٹمی بم گرایا گیا۔ چند لمحوں میں ایک آباد شہر راکھ کا ڈھیر بن گیا، ہزاروں انسان پلک جھپکتے ہی جل کر خاکستر ہوگئے، اور جو زندہ بچے وہ برسوں تک تابکاری، بیماری، معذوری اور اذیت ناک موت کا شکار رہے۔ تین دن بعد ناگاساکی پر دوسرا ایٹمی حملہ ہوا اور انسان نے ثابت کر دیا کہ جب طاقت اخلاقیات سے آزاد ہو جائے تو تہذیب بھی وحشت میں بدل جاتی ہے۔
ہیروشیما صرف جاپان کا المیہ نہیں، پوری انسانیت کی مشترکہ یادداشت ہے۔ یہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر نسل کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ سوال یہ نہیں کہ ایک شہر کیوں تباہ ہوا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا انسان نے اس تباہی سے کچھ سیکھا بھی؟
افسوس یہ ہے کہ دنیا نے ہیروشیما سے سبق لینے کے بجائے ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کر دی۔ آج دنیا میں ہزاروں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، جن میں سے چند سو بھی استعمال ہو جائیں تو انسانی تہذیب، عالمی معیشت، زراعت، ماحول، سمندر، جنگلات اور آنے والی نسلوں کا مستقبل تباہ ہو سکتا ہے۔ سائنس دان برسوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ ایک بڑی ایٹمی جنگ صرف کروڑوں انسانوں کو نہیں مارے گی بلکہ دھوئیں اور گردوغبار کی دبیز تہہ سورج کی روشنی روک دے گی، درجہ حرارت گر جائے گا، فصلیں تباہ ہوں گی، قحط پھیلے گا اور پوری زمین ایک طویل ایٹمی سردی کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ اس جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوگا، صرف شکست خوردہ انسانیت ہوگی۔
جنگ صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتی، اس کی قیمت وہ بچے ادا کرتے ہیں جن کے اسکول ملبے میں بدل جاتے ہیں، وہ مائیں ادا کرتی ہیں جو اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھاتی ہیں، وہ کسان ادا کرتے ہیں جن کی زمین بارود سے بھر جاتی ہے، اور وہ معاشرے ادا کرتے ہیں جہاں ہسپتالوں سے زیادہ اسلحہ خانوں پر سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے۔
دنیا کی ایک تلخ حقیقت جنگی معیشت بھی ہے۔ اسلحہ سازی دنیا کے منافع بخش ترین کاروباروں میں شامل ہے۔ جب امن قائم ہوتا ہے تو ہتھیار نہیں بکتے، لیکن جب خوف، نفرت اور کشیدگی بڑھتی ہے تو اسلحے کی منڈیاں آباد ہوتی ہیں۔ اسی لیے بعض طاقتور مفادات کے لیے جنگ صرف ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک معاشی کاروبار بھی ہے۔ جہاں انسان مرتے ہیں، وہاں کچھ ادارے منافع کماتے ہیں؛ جہاں شہر جلتے ہیں، وہاں کچھ کمپنیاں اپنے حصص کی قیمت بڑھتے دیکھتی ہیں۔ یہی جنگی معیشت کا سب سے تاریک اور سفاک چہرہ ہے۔
دنیا کو جہنم بنانے والے ہمیشہ وردی پہن کر نہیں آتے۔ کبھی وہ نفرت کے سوداگر ہوتے ہیں، کبھی اسلحے کے تاجر، کبھی جنگ کو قومی عظمت کا نام دینے والے سیاست دان، اور کبھی وہ طاقتیں جو مذاکرات کے بجائے بمبار طیاروں پر یقین رکھتی ہیں۔ یہ لوگ امن کی زبان کو کمزوری اور جنگ کو طاقت کا استعارہ بنا کر پیش کرتے ہیں، حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ جنگوں نے کبھی مستقل امن پیدا نہیں کیا، بلکہ نئی نفرتوں، نئی انتہاپسندی اور نئے تنازعات کو جنم دیا ہے۔
آج جب دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، ایٹمی طاقتیں ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں اور ہتھیاروں کے ذخیرے مسلسل بڑھ رہے ہیں، تو ہیروشیما پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ اگر خدانخواستہ ایک عالمی ایٹمی جنگ چھڑ گئی تو شاید نہ کوئی فاتح بچے گا، نہ کوئی دارالحکومت، نہ کوئی معیشت، نہ کوئی سرحد اور نہ ہی وہ تہذیب جس پر انسان آج فخر کرتا ہے۔
اس لیے 6 اگست صرف سوگ کا دن نہیں، عہد کا دن بھی ہونا چاہیے۔ عہد اس بات کا کہ اختلاف کو جنگ نہیں، مکالمے سے حل کیا جائے؛ وسائل کو بارود پر نہیں، انسان پر خرچ کیا جائے؛ بجٹ میں میزائلوں سے زیادہ جگہ تعلیم، صحت، ماحول اور بھوک کے خاتمے کو دی جائے؛ اور آنے والی نسلوں کو خوف نہیں بلکہ امن کی میراث دی جائے۔
ہیروشیما ہمیں پکار رہا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا انسان اب بھی اس پکار کو سننے کے لیے تیار ہے، یا وہ ایک اور ہیروشیما کا انتظار کر رہا ہے؟
واپس کریں