پاکستان میں فوجی اسٹیبلشمنٹ اور وزرائے اعظم کی معزولی۔ ایک تاریخی جائزہ ۔ احتشام الحق شامی

پاکستان کی سیاسی تاریخ محض انتخابات، حکومتوں کی تبدیلی اور آئینی ارتقاء کا تسلسل نہیں بلکہ یہ امیدوں کے بار بار ٹوٹنے، جمہوری تسلسل میں وقفہ در وقفہ تعطل اور عوامی مینڈیٹ کے عدم استحکام کی ایک پیچیدہ اور تکلیف دہ داستان بھی ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد قوم نے ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کی توقع کی تھی جس میں عوامی رائے کو حکمرانی کی بنیاد حاصل ہو۔ تاہم بدقسمتی سے ریاستی طاقت کے بعض مراکز، خصوصاً فوجی اسٹیبلشمنٹ، متعدد مواقع پر سیاسی عمل پر اثرانداز ہوتے رہے۔ اس مداخلت کا سب سے نمایاں اثر ان وزرائے اعظم پر پڑا جو عوامی ووٹ کے ذریعے منتخب ہوئے تھے۔
آغاز ہی سے عدم استحکام ۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی 1951ء میں شہادت کے بعد ملک ایک مضبوط اور پائیدار جمہوری روایت قائم کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بعد بتدریج بیوروکریسی اور عسکری اداروں کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا۔ 1953ء میں خواجہ ناظم الدین کی برطرفی نے اس تاثر کو مزید تقویت دی کہ عوامی نمائندے حقیقی فیصلہ سازی کے مرکز میں نہیں۔ 1958ء میں جنرل ایوب خان کے مارشل لا نے جمہوری نظام کو مکمل طور پر معطل کر دیا اور یہ روایت قائم ہوئی کہ فوج خود کو سیاسی بحرانوں میں حتمی ثالث کے طور پر دیکھ سکتی ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو ۔ عوامی مقبولیت سے انجام تک ۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کی علیحدگی نے ملک کو شدید بحران سے دوچار کیا۔ اس پس منظر میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک نئے پاکستان کی تشکیل کی کوشش کی، آئین سازی کی، اور معیشت و خارجہ پالیسی میں اہم اصلاحات متعارف کروائیں۔ تاہم 1977ء کے انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران نے فوجی مداخلت کی راہ ہموار کی۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا نافذ کیا، منتخب حکومت کا خاتمہ کیا، اور بعد ازاں ایک متنازع عدالتی عمل کے نتیجے میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔
بھٹو کی پھانسی محض ایک سیاسی رہنما کا خاتمہ نہیں تھی بلکہ اسے پاکستان کے جمہوری تسلسل پر ایک گہرے زخم کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
بے نظیر بھٹو اور نواز شریف — بار بار ٹوٹتی جمہوریت ۔ ضیاء الحق کے دور کے بعد 1988ء میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔ عوام نے امید ظاہر کی کہ جمہوری نظام اب استحکام حاصل کرے گا، تاہم ان کی حکومت 1990ء میں برطرف کر دی گئی۔ 1993ء میں نواز شریف کی حکومت بھی ادارہ جاتی کشمکش کا شکار رہی۔ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت بھی 1996ء میں ختم کر دی گئی۔
یہ فیصلے محض آئینی یا انتظامی نوعیت کے نہیں تھے بلکہ ان کے پس منظر میں اسٹیبلشمنٹ، ریاستی اداروں، صدارتی اختیارات اور سیاسی انجینئرنگ سے متعلق سنجیدہ سوالات موجود رہے۔ عوام بار بار انتخابی عمل کے ذریعے امید باندھتے رہے، مگر اقتدار کی اصل سمت اکثر غیر منتخب مراکز میں طے ہوتی رہی۔
1999ء ۔ ایک اور مارشل لا ۔ نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں فوجی قیادت کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی بڑھتی گئی، خصوصاً کارگل تنازع کے بعد۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ایک منتخب وزیر اعظم کو معزول اور گرفتار کیا گیا، اور آئین ایک بار پھر معطل کر دیا گیا۔اس واقعے نے یہ بنیادی سوال مزید گہرا کر دیا کہ پاکستان میں اصل اختیار کس کے پاس ہے — منتخب پارلیمان کے پاس یا طاقت کے غیر منتخب مراکز کے پاس۔
اکیسویں صدی کی نئی صورتیں ۔ 2008ء کے بعد براہِ راست مارشل لا تو ختم ہوا، تاہم سیاسی عمل پر طاقت کے مراکز کے اثرات مختلف صورتوں میں جاری رہے۔ یوسف رضا گیلانی کو عدالتی فیصلے کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ سے علیحدہ ہونا پڑا۔
2013ء سے 2017ء کے دوران نواز شریف ایک بار پھر وزیر اعظم منتخب ہوئے، مگر 2017ء میں انہیں عدالتی فیصلے کے ذریعے نااہل قرار دے دیا گیا، جسے ان کے حامی ایک طاقتور ادارہ جاتی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
2018ء کے انتخابات کے بعد عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (PTI) کی حکومت قائم ہوئی۔ ان کے دورِ حکومت میں معاشی چیلنجز، سیاسی تناؤ اور ادارہ جاتی تعلقات پر بحث مسلسل جاری رہی۔ اپریل 2022ء میں عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں عمران خان کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا، جس کے بعد ملک میں ایک نئی سیاسی صف بندی سامنے آئی۔
اس کے بعد پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ) کی اتحادی حکومتیں وجود میں آئیں، جن کی قیادت مختلف ادوار میں شہباز شریف اور اتحادی جماعتوں نے کی۔ ان حکومتوں کو شدید معاشی بحران، مہنگائی، سیاسی تقسیم اور انتظامی چیلنجز کا سامنا رہا۔ اس پورے دور میں بھی یہ بحث جاری رہی کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کس حد تک مکمل طور پر عوامی مینڈیٹ کے تسلسل سے جڑا ہوا ہے اور کس حد تک غیر منتخب ادارہ جاتی اثرات اس پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
اس تناظر میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ پاکستان میں وزیر اعظم کا منصب ہمیشہ صرف انتخابی طاقت نہیں بلکہ وسیع تر ریاستی و ادارہ جاتی توازن کا بھی عکاس رہا ہے۔
اس المیے کی انسانی قیمت ۔ہر معزولی کے نتیجے میں صرف ایک فرد اقتدار سے محروم نہیں ہوتا بلکہ اس کے وسیع تر اثرات مرتب ہوتے ہیں:
- عوامی مینڈیٹ کا کمزور ہونا- پارلیمانی بالادستی کا متاثر ہونا- سیاسی جماعتوں پر ادارہ جاتی دباؤ میں اضافہ- معاشی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ- مسلسل سیاسی عدم استحکام
پاکستان کی کئی نسلیں ایسے سیاسی ماحول میں پروان چڑھیں جہاں جمہوری تسلسل مکمل طور پر مستحکم نہ ہو سکا۔
تاریخ کا سبق ۔ مستحکم ریاستیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب وہ آئین کی بالادستی، سول اختیار اور ادارہ جاتی حدود کو واضح طور پر تسلیم کرتی ہیں۔ فوج ہر ریاست کا ایک اہم اور قابلِ احترام ادارہ ہے، تاہم جمہوری نظام میں اس کا کردار آئینی دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے قومی دفاع تک محدود ہونا چاہیے۔ جب عسکری ادارے سیاسی عمل میں فیصلہ کن کردار اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف سیاسی نظام کمزور ہوتا ہے بلکہ ریاستی ادارے بھی باہمی کشمکش کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اختتامیہ ۔پاکستان کی تاریخ میں وزرائے اعظم کی معزولیوں کا تسلسل ایک ایسے سفر کی عکاسی کرتا ہے جو بار بار اپنی منزل کے قریب پہنچ کر تعطل کا شکار ہوتا رہا۔ لیاقت علی خان سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، عمران خان اور بعد کے ادوار تک ایک مشترک حقیقت نمایاں ہے: عوامی مینڈیٹ اور اقتدار کے حقیقی مراکز کے درمیان مسلسل کشمکش۔
یہ تحریر کسی ادارے کے خلاف نہیں بلکہ اس تاریخی حقیقت کی نشاندہی ہے کہ جب بھی عوامی رائے کو کمزور کیا گیا، اس کا نقصان کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے نظامِ جمہوریت، آئینی تسلسل اور عوامی اعتماد کو پہنچا۔ ریاستیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب اقتدار کی منتقلی صرف اور صرف ووٹ، پارلیمان اور آئین کے ذریعے ہو، نہ کہ غیر منتخب دباؤ یا پسِ پردہ مداخلت کے ذریعے۔ یہی وہ بنیادی سبق ہے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ بار بار دہراتی ہے۔
واپس کریں