دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پارلیمنٹ عوام کا قرض اتارے۔محمود شام
No image میرے پاکستان کو اس وقت جن سنگین عالمی علاقائی اور ملکی مسائل کا سامنا ہے میں ان پر کڑ ھ رہا تھا اور اپنی ناقص عقل کے مطابق دو روز سے سوچ رہا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کر کے تمام مسائل کا احاطہ کیا جائے اور ارکان پارلیمنٹ کی تقریروں کی روشنی میں پاکستان اپنی خارجہ اور داخلہ پالیسی مرتب کرے۔ اب بھی اگرچہ میں اسی پر اصرار کر رہا ہوں لیکن اس سے پہلے میں نے کچھ تحقیق کرنا چاہی کہ پارلیمنٹ کے ایک سیشن پر پاکستان کے عوام کا خرچہ کتنا ہو جاتا ہے۔ مختلف ویب سائٹس نے میری مدد کی۔ میں تولرز کر رہ گیا ہوں کہ پارلیمنٹ کے ایک روزہ سیشن کے اخراجات آسمان کو چھو رہے ہیں ۔ان میں کفایت شعاری کا کوئی امکان نہیں ہے کیونکہ پاکستان کے غریب عوام کے نمائندے چاہے وہ فارم 45 کے ہوں یا 47کے کوئی بھی اپنی تنخواہ اپنی مراعات چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ۔

قومی اسمبلی کے 336ارکان ہیں، سینٹ کے 100۔ ان ارکان کے زمینی فضائی سفر کے اخراجات ،پارلیمنٹ اسٹاف کے ایک روز کے خرچے ،کیفےٹیریا بلڈنگ کی دیکھ بھال آرائش پروٹوکول، پارلیمنٹ لاجز کے معمولات پر اٹھنے والی رقم سب ملا کر ایک دن کے سیشن کے اخراجات کا اندازہ 70 سے 90ملین روپے یعنی کم از کم نو کروڑ روپے روزانہ ہے۔ قومی اسمبلی کے ہر رکن کی ماہانہ تنخواہ قریبا2لاکھ ہے پارلیمنٹ لاجز میں اسکی اور اہل خانہ کی رہائش کے 10لاکھ ماہانہ، سینٹ کے چیئرمین کی تنخواہیں اور مراعات حال ہی میں بڑھائی گئی ہیں اور بعض اسمبلیوں میں انکو اور ان کے اہل خانہ کو تاحیات مراعات بھی دی جا رہی ہیں ۔

اپوزیشن لیڈر کی بھی مراعات ایک وفاقی وزیر کے برابر ہیں۔ اسمبلیوں میں ایک ایک کرسی کئی کئی لاکھ کی ہے ۔جبکہ پارلیمنٹوں کی ماں برطانوی پارلیمنٹ کے سیشن آپ نے بھی دیکھے ہوں گے اب تک بینچوں پر بیٹھتے ہیں ۔وہاں میرے خیال کے مطابق تو کبھی آرام دہ گھومتی جھومتی کرسیوں کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔لیکن ہزاروں ارب روپے قرض تلے دبے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ارکان کی کرسیاں بہت آرام دہ اور مہنگی ہوتی چلی جاتی ہیں۔ اب اگر تاریخ کا قریب سے مطالعہ کریں تو جب وفاق یا صوبے میں اسمبلیاں نہیں ہوتی ہیں ضخیم کابینہ بھی نہیں ہوتی ۔انہی دنوں اہم فیصلے بھی ہوتے ہیں دور رس پالیسیاں بھی مرتب ہوتی ہیں۔ فیصلہ سازی ہر چند کہ اسمبلیوں کے ہوتے ہوئے بھی چند لوگ ہی کرتے ہیں ۔

ایک غریب ملک پر جمہوریت کتنا بوجھ ڈالتی ہے ان غیر ضروری اداروں کے اخراجات ضروری اداروں سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں لیکن ہم جمہوری ذہنوں کو مسئلے کا حل پارلیمنٹ کے فعال سیشن میں ہی نظر آتا ہے ۔بار بار یہی مشورہ دیتے ہیں کہ پارلیمنٹ سپریم ہے سب اداروں سے بالاتر اس لیے ارکان اسمبلی اور سینٹ کو عالمی علاقائی ملکی مسائل پر اظہار خیال کرنا چاہئے۔ اگر درپیش چیلنجوں پر واقعی سنجیدہ بحث ہو اور ہر رکن اپنے ضمیر کی آواز میں آواز ملائے اور اپنے علاقے کے عوام سے اپنی سیاسی پارٹی کے کارکنوں سے مشاورت کر کے بحث میں حصہ لے تو ایک روز کے مہنگے اخراجات کی قیمت بھی وصول ہو جائے گی ۔واہگہ سے گوادر تک عوام پکار اٹھیں گے کہ پہلی بار ہمارے نمائندے ہماری حقیقی نمائندگی کر رہے ہیں۔

مجھے یقین دلانے کی ضرورت نہیں ہے آپ خود محسوس کر رہے ہیں اس وقت ہم ہر جانب سے خطرات میں گھرے ہوئے ہیں ۔عالمی سطح پر ہماری ثالثی کی یقیناََ پذیرائی ہوئی تھی اور پاکستان کے پاسپورٹ کی قدر میں اضافہ ہوا تھا۔ دوسرے ملکوں میں رہتے پاکستانیوں کو اچانک جس عزت سے دیکھا جا رہا تھا وہ ہمارے ہمسائے برادر اسلامی ملک ایران اور دنیا کی سپر طاقت امریکہ کے درمیان دوبارہ خوفناک جنگ نے پھر معرض التوا میں ڈال دیا ہے۔ وہ ممالک پھر ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں ایران سے پابندیاں ہٹنے کے نتیجے میں گیس پائپ لائن کی تعمیر سے سستی توانائی کی جو آس بندھی تھی وہ ڈگمگا گئی ہے۔ اسی طرح ایران سے پٹرول کی ارزاں قیمتوں پر دستیابی کی امید بھی اب مٹ رہی ہے ۔

ہمارے ازلی دشمن بھارت کی طرف سے بھی اب سازشوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ بار بار ان کے وزراء آرمی چیف دھمکیاں دے رہے ہیں۔ افغانستان کے لاکھوں بھائیوں کو ہم سالہا سال سے جو سہارا دیتے آ رہے تھے وہاں کی طالبان حکومت بھی بھارت کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر ہمارے احسانات چکا رہی ہے ۔اب غور طلب امر یہ ہے کہ ہم ان کیلئے اب تک جو کچھ کرتے آئے ہیں کیا وہ پالیسیاں ہماری اسمبلیوں میں مرتب ہوئی تھیں یا اس وقت کے حکمرانوں کے شخصی فیصلے تھے ۔

ترکی اور پاکستان کے ہمیشہ قریبی تعلقات رہے ہیں۔ اب صدر اردوان نے عین اس وقت، جب امریکہ اور اسرائیل ایران پر دوبارہ حملے کر رہے ہیں، نیٹو کی میزبانی کر کے اور امریکی صدر کو بلا کر جو راستہ اختیار کیا ہے۔ اس پر بھی پاکستان کے عوام کے دلوں میں سوالات ہیں ۔

آج اتوار ہے۔ اپنے بیٹے بیٹیوں، پوتے پوتیوں ،نواسے نواسیوں، بہووں دامادوں سے دوپہر کے کھانے پر تبادلہ خیال کا دن۔ ان کے ذہنوں میں اسلامی ملکوں کی تنظیم کے بارے میں سوالات ہیں۔ ایک مسلم ملک ایران اور دوسرے مسلم عرب ممالک کے درمیان جنگی صورتحال پر بے حساب استفسارات ہیں۔ ہماری معیشت اب بھی کمزور ہے ۔کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ اپنے وسائل پر انحصار کی بجائے اب بھی قرضوں کی معیشت ہی چل رہی ہے۔ آئی ایم ایف ہماری معیشت اور بجٹ میں بار بار مداخلت کرتا ہے اور ہم بخوشی آئی ایم ایف کی شرائط مانتے ہیں ۔بھارت نے سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد یک طرفہ طور پر روکا ہوا ہے۔ انرجی کے تنازعات ہیں۔ غربت کی لکیر کے نیچے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نوجوانوں کے لیے ہم باعزت روزگار نہیں فراہم کر پا رہے ہیں ۔اس لیے ترک وطن کا سلسلہ زوروں پر ہے۔ مضبوط معیشت کیلئے جس سیاسی استحکام کی ضرورت ہے وہ میسر نہیں ہے ۔آزاد جموں کشمیر میں انتخابات ہونے والے ہیں مگر اس سے پہلے دھرنوں انٹرنیٹ کی بندش اور مذاکرات میں تعطل نے انتہائی سنگین صورتحال کو جنم دیا ہے ۔بلوچستان میں بھی امن و امان خطرے میں ہے۔

ایسی صورتحال میں پارلیمنٹ میں کھلی بحث سے ہی مسائل کی شناخت اور ان کے حل کا کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔ اس لیے ہماری گزارش تو یہی ہے کہ ہمارے نمائندے ان سارے عالمی علاقائی اور مقامی چیلنجوں پر اپنی پارٹی کے نقطہ نظر سے بحث کریں ۔عوام کو اعتماد میں لیں واہگہ سے گوادر تک یہ احساس دلائیں کہ آپ نے جن ارکان کو ووٹ دیا ہے وہ آپ کو درپیش مسائل کا ادراک رکھتے ہیں اور ایک فیصلہ کن پالیسی تشکیل دینا چاہتے ہیں۔

پارلیمنٹ اپنے عوام کا قرض اسی طرح اتار سکتی ہے۔بشکریہ جنگ
واپس کریں