دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
برطانوی نو آبادیاتی ذہنیت کی باقیات پر مشتمل یہ کالے انگریز
جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ
جنید احمد شاہ ایڈووکیٹ
کل کشمیریوں کا راولاکوٹ سے مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کا آغاز ہو گا ، شہر میں کرفیو نافذ ہے ، عوام اور فورسز آمنے سامنے ہوں گی ۔ اگر یہ معاملہ تصادم کی شکل اختیار کر جاتا ہے تو بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے بعد اب آزاد کشمیر بھی اِنکی فرعونیت کے سامنے ایک طویل مزاحمت ، نفرت اور بغاوت کی مثال بنے گا۔
یہ صرف پنجاب اور سندھ پر ہی حکومت کرنے کے قابل رہیں گے ، باقی اکائیاں شدید ردعمل اور نفرت کی آماجگاہ بنیں گی۔ گولی اور بندوق کا استعمال وقتی طور پر احتجاج کو روک تو سکتا ہے لیکن قلوب و اذہان میں پلنے والی نفرت نسلوں تک پھیلتی ہے۔ طاقت کا استعمال جسم کو قابو تو کر سکتا ہے لیکن فکر ، سوچ اور ذہن کو کبھی بھی کنٹرول نہیں کیا جاسکتا ہے۔
کشمیر کا ایک مزاحمتی مزاج ہے ،، ریاستِ کشمیر کی ایک تاریخی، آئینی اور قانونی حیثیت ہے اور خطہ کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے ، جسکا مستقل حل نکلنا اور اِسکی شناخت کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔ یہ کوئی صوبہ نہیں ہے ، جہاں بلوچستان اور خیبرپختونخوا والا پیٹرن استعمال کر کے حالات پر قابو پا لِیا جائے گا۔۔۔
ریاست پاکستان اور ریاست کشمیر کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں کی سیاسی قیادت آلہ کار ہے ، مقتدرہ تمام فیصلوں پر حاوی ہے اور اُسے ہر چیز کا حل گولی چلانے میں ہی نظر آتا ہے۔
برطانوی نو آبادیاتی ذہنیت کی باقیات پر مشتمل یہ کالے انگریز آج بھی فرعونی خصلتوں اور صفات کے حامل ہیں ، جنکے ظلم و جبر سے اِس خطے میں بسنے والی تمام اکائیاں پریشان اور اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
واپس کریں