دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
وزیراعظم کے معاشی ترقی سے متعلق دعوے
No image وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رواں سال کو معاشی ترقی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کا سال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔ پیداوار بڑھانے اور برآمدات کے فروغ کے لیے کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں۔ بدھ کو وزیراعظم کی زیر صدارت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اصلاحات پر جائزہ اجلاس میں جاری اصلاحات اور ٹیکس نظام میں بہتری پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، انھیں زیادہ پیداوار اور برآمدات کے فروغ کے لیے ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے۔ وزیر اعظم نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ کاروباری طبقے کے ساتھ تعاون اور ان کے جائز مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں۔ انھوں نے ایف بی آر کے سینئر افسروں کو ہر ماہ کے پہلے ہفتے میں کراچی کا دورہ کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ کاروباری برادری سے براہِ راست رابطہ ہو اور ان کے مسائل بلاتاخیر حل ہوں۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ ٹیکس قوانین کی پابندی کرنے والی کمپنیوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا جائے گا۔ حکومت کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، سرمایہ کاری اور برآمدات کو فروغ دینا اور ٹیکس نظام کو مزید شفاف اور آسان بنانا ہے تاکہ کاروباری برادری کا اعتماد بڑھے۔ وزیراعظم نے مذکورہ اجلاس میں جو کچھ کہا وہ روایتی باتیں ہیں جو ہر وزیراعظم کی زبان پر ہوتی ہیں اور وہ یہ سب نہ بھی کہیں تو ذرائع ابلاغ کو بتایا جاتا ہے کہ انھوں نے فلاں فلاں بات کہی ہے اور فلاں فلاں ہدایت جاری کر دی ہے۔ ان باتوں اور ہدایات کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ اصل دیکھنے کی یہی بات ہے۔ اگر ان سے واقعی کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہو سکتا تو آج ملک، معیشت اور عوام کی حالت اور حالات ایسے نہ ہوتے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ عام آدمی کے مسائل سے واقف ہی نہیں کیونکہ اس کا رابطہ عام آدمی سے صرف تب ہوتا ہے جب ووٹ لینے کے لیے گلیوں محلوں میں جانا پڑتا ہے اور وہ بھی بس چند دن کی منہ دکھائی ہوتی ہے، اس کے بعد نہ تو سیاست دان کبھی ان گلیوں محلوں میں جاتے ہیں اور نہ ہی انھیں عوام سے کوئی سروکار ہوتا ہے۔ معیشت کے استحکام اور ترقی کے دعوے کرنا بہت آسان ہے اسی لیے ہر حکومتی عہدیدار یہ کام صبح و شام کرتا ہے لیکن عملی اقدامات اٹھانا نہایت مشکل کام ہے، لہٰذا کوئی بھی حکمران اس طرف توجہ نہیں دیتا۔ ویسے بھی سیاسی اشرافیہ کو پتا ہے کہ عوام نے کون سا ان کا احتساب کر لینا ہے، اس لیے وہ ساری توانائیاں ان اداروں، محکموں اور شعبوں سے وابستہ شخصیات کو خوش اور مطمئن کرنے پر لگاتے ہیں جو ان کے اقتدار کے محافظ ہیں۔ اس صورتحال میں نہ تو معیشت میں کوئی بہتری آ سکتی ہے اور نہ ہی ملک مستحکم ہو سکتا ہے۔ اگر عوام میں شعور پیدا ہو جائے اور وہ اپنے حقوق کے لیے سیاسی اشرافیہ کا احتساب کرنے کا عزمِ مصمم کر لیں تو ہی بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن جب تک ایسا نہیں ہوتا تب تک سیاسی اشرافیہ کے رویوں میں کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی کی کوئی توقع نہیں کی جا سکتی۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں