دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جذباتیت کی آندھی میں بہتا ہوا شعور۔ شیر دل ملک
No image برصغیر، اور خاص طور پر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو ایک سنگین نفسیاتی المیہ سامنے آتا ہے۔ یہاں کے سیاسی شعور کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ لوگ حکومت کی مخالفت کرتے کرتے غیر محسوس طریقے سے ریاست مخالف ہو جاتے ہیں۔
یہ رویہ اس وقت انتہائی شدت اختیار کر لیتا ہے جب اس "اندھی مقلد قوم" کا پسندیدہ لیڈر اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہو جائے۔ سیاسی ناکامی کا غصہ نظام اور ریاست پر نکالا جانے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ کبھی سندھو دیش، کبھی پختونستان، کبھی آزاد بلوچستان، کبھی خود مختار کشمیر اور کچھ عرصہ قبل کچھ حلقوں کی جانب سے "گریٹر پنجاب" جیسے نعرے اور آوازیں سننے کو ملتی ہیں۔
ان نعروں کو لگانے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ جس علیحدگی یا "آزاد مستقبل" کا خواب وہ دیکھ رہے ہیں، وہ دراصل ان خطوں کے لیے ہمیشہ کی تاریک ترین رات کا آغاز ثابت ہوگا۔
موجودہ جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاسی) منظرنامے میں، یہ چھوٹے خطے تنہا اپنے دفاع کے قابل ہی نہیں رہ سکتے۔ اگر آج یہ وفاق سے الگ ہوتے ہیں، تو ان کا انجام کیا ہوگا؟
مشرقی سرحد کا اثر: کوئی پڑوسی ملک کے سامنے ہاتھ باندھے "نمستے" کرتا دکھائی دے گا۔
مغربی سرحد کا دباؤ: کوئی فارسی اور افغانی اثر و رسوخ کے نیچے اپنی شناخت کھو بیٹھے گا۔
عالمی طاقتوں کی جنگ: کوئی خطہ دو قریبی سپر پاورز کے درمیان ایسا پسے گا جہاں سیاسی اور نظریاتی سانس لینا بھی محال ہو جائے گا۔
"ریاستیں جذباتی نعروں سے نہیں، بلکہ جغرافیائی حقیقتوں، مضبوط معیشت اور ناقابلِ تسخیر دفاع سے قائم رہتی ہیں۔"
حکومت اور ریاست میں فرق سیکھیے!
حکومتیں آنی جانی چیز ہیں؛ یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ آج ایک پارٹی اقتدار میں ہے تو کل دوسری ہوگی۔ لیڈر سدا بہار نہیں ہوتے، لیکن ریاست مستقل ہوتی ہے۔
جب ہم اپنے سیاسی انتقام یا پسندیدہ لیڈر کی محبت میں ریاست کے وجود پر کلہاڑی مارنے کی کوشش کرتے ہیں، تو ہم دراصل اپنے ہی بچوں کے مستقبل کو غلامی کی دلدل میں دھکیل رہے ہوتے ہیں۔
بڑے جغرافیائی بلاکس کے اس دور میں، جہاں کمزور معیشتیں اور چھوٹے ممالک بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں، تقسیم در تقسیم کا یہ خواب خودکشی کے مترادف ہے۔
سوچیے اور فیصلہ کیجیے: کیا ہماری سیاسی وابستگی ملک کی بقا سے زیادہ اہم ہے؟ اب وقت آگیا ہے کہ ہم شخصیت پرستی کے سحر سے باہر نکلیں اور حکومت کی کارکردگی پر تنقید ضرور کریں، لیکن ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والے بیانیے کا حصہ بننے سے گریز کریں۔
برصغیر کی پوری تاریخ میں یہی ہوتا رہا ہمیشہ بیرونی حملہ آوروں کو خوش آمدید کہا جاتا رہا۔ ہمارا معاشرہ شروع ہی سے کمزور رہا آپس کی نفرتیں ہمیشہ اپنا رنگ دکھاتی رہیں۔
واپس کریں