دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
عالمی سیاست کا نیا موڑ - کثیر القطبی دنیا
زین سہیل وارثی
زین سہیل وارثی
اسے نئی سامراجی حکمت عملی کہا جائے یا عالمی طاقتوں کے نئے توازن کی ابتدا، اس کا حتمی فیصلہ تاریخ کرے گی۔ فی الحال ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں غیر متوقع واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ کی قیادت ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے، جو اپنی پالیسیوں میں غیر معمولی لچک اور بعض اوقات تضاد کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے دعوے کے ساتھ میدان میں اترے، لیکن ان کی کئی پالیسیاں خود امریکہ کے روایتی عالمی کردار سے انحراف کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
موجودہ عالمی منظرنامے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ جب کسی تنازع میں براہِ راست مداخلت کرتا ہے تو اس کے روایتی اتحادی پہلے جیسی آمادگی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ دوسری جانب وہ صہیونی بیانیہ، جسے مغرب میں دہائیوں تک غیر متزلزل حمایت حاصل رہی، اب خود مغربی معاشروں میں تنقید اور سوالات کی زد میں ہے۔ یہ تبدیلی وقتی ہے یا مغربی سیاست اور معاشرت میں ایک مستقل فکری تبدیلی کا آغاز، اس کا جواب بھی آنے والا وقت دے گا۔
پاکستان کا کردار بھی اس بحران میں قابلِ توجہ رہا ہے۔ ایک ایسی ریاست، جسے ماضی میں عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان سمجھا جاتا تھا، آج مصالحت اور ثالثی کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے۔ اگرچہ ان کوششوں کی مکمل تفصیلات بند کمروں کی سفارت کاری تک محدود ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان سفارتی سرگرمیوں نے مستقبل کے کسی نئے عالمی توازن کی بنیاد رکھنے میں خاموش کردار ادا کیا ہو۔
میری رائے میں جب آئندہ دہائی میں اس دور کی تاریخ لکھی جائے گی تو مورخین ڈونلڈ ٹرمپ کے دور کو عالمی نظام کی تبدیلی کے ایک اہم موڑ کے طور پر ضرور یاد کریں گے۔ دنیا بہرحال کثیر القطبی نظام کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن ٹرمپ کی پالیسیوں نے اس عمل کو غیر معمولی رفتار عطا کر دی ہے۔ شاید اسی لیے بعض مبصرین انہیں طنزیہ یا حقیقی معنوں میں "امن کے انعام" کا مستحق بھی قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان کے فیصلوں نے پرانے عالمی نظام کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔
بدقسمتی سے ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے۔ دونوں جانب سخت گیر نظریات غالب دکھائی دیتے ہیں اور مفاہمت کی گنجائش مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے۔ امن کی آواز مدھم پڑتی جا رہی ہے اور جنگ کے سائے مزید گہرے ہوتے محسوس ہو رہے ہیں۔
میرا ذاتی تجزیہ یہ ہے کہ امریکہ اب مشرقِ وسطیٰ میں اپنی براہِ راست ذمہ داریوں سے بتدریج دستبردار ہونا چاہتا ہے۔ شاید واشنگٹن یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ دنیا کے ہر تنازع کی ذمہ داری اب امریکہ پر نہیں ڈالی جا سکتی، اور علاقائی قوتوں کو اپنے مسائل خود حل کرنے ہوں گے، ورنہ ان کے نتائج بھی خود ہی بھگتنا ہوں گے۔
اس بحران کا ایک اہم پہلو عالمی معیشت بھی ہے۔ اگر آبنائے ہرمز یا باب المندب جیسی اہم آبی گزرگاہیں کسی بھی وجہ سے مکمل بند ہو جاتی ہیں تو توانائی کی عالمی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ایندھن کی قلت پیدا ہوگی بلکہ افراطِ زر اور عالمی کساد بازاری کا ایک نیا دور بھی جنم لے سکتا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر ممالک اور عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔
اگر یہ تنازع آئندہ چند ہفتوں میں حل نہ ہو سکا تو دنیا ایک ایسے معاشی بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات کئی برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ بے روزگاری، مہنگائی، توانائی کا بحران اور معاشی عدم استحکام بہت سے ممالک کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔
اسی دوران عالمی اتحاد بھی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اپنی خارجہ پالیسیوں کا ازسرِنو تعین کر رہے ہیں اور علاقائی صف بندیاں بدل رہی ہیں جس کی حالیہ مثال متحدہ عرب امارات کا مشرق وسطی کی تعاون تنظیم اور اوپیک کی رکنیت سے انخلا ہے۔ اگر پیٹرو ڈالر کا نظام کمزور پڑتا ہے تو عالمی مالیاتی نظام میں بھی بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں، جن کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کریں گے۔
ایران نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کے انجام کے بارے میں شدید خدشات موجود ہیں۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس کے نتائج صرف ایران تک محدود رہیں گے یا پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آئے گا۔ اسی طرح یہ سوال بھی ابھی تشنۂ جواب ہے کہ آیا امریکہ کو ایرانی بحران میں الجھانا روس اور چین کی طویل المدتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے یا نہیں۔
اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ایک نئے دوراہے پر کھڑی ہے۔ پرانا عالمی نظام اپنی گرفت کھو رہا ہے جبکہ نیا نظام ابھی پوری طرح تشکیل نہیں پا سکا۔ ایسے میں ہر فیصلہ، ہر اتحاد اور ہر تنازع صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی مستقبل پر اثر انداز ہوگا۔ آنے والے برس یہی طے کریں گے کہ آج کے یہ واقعات محض وقتی سیاسی اتار چڑھاؤ تھے یا ایک نئے عالمی نظام کی بنیاد۔
واپس کریں