انصار عباسی
ایک دو ہفتوں سے اپنے آبائی گاؤں مری میں ہوں۔ مری پاکستان کا ایک منفرد علاقہ ہے۔ ایک طرف یہ راولپنڈی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں کے بالکل قریب ہے، دوسری طرف ملک کا سب سے بڑا سیاحتی مرکز بھی ہے۔ یہاں وزیراعظم بھی آتے ہیں، وزرائے اعلیٰ بھی، وفاقی اور صوبائی وزرا بھی۔ ہر حکومت نے مری کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اگر ایسے علاقے کی یہ حالت ہے تو پھر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کے دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے کروڑوں لوگوں کی زندگی کتنی مشکل ہو گی اس کا اندازہ لگانا آپ کیلئے آسان ہو جائے گا۔ یہ کالم مری کے بارے میں نہیں، بلکہ اس ریاستی نظام کے بارے میں ہے جس کی توجہ کا مرکز آج بھی عام آدمی نہیں بلکہ بااثر طبقہ ہے۔ ہماری سیاست میں غریب سب سے زیادہ زیرِ بحث آتا ہے، لیکن ریاستی ترجیحات میں وہ شاید سب سے آخر میں کھڑا نظر آتا ہے۔ چند روز پہلے ایک نہایت غریب خاتون اپنے پانچ سالہ بیٹے کو لے کر میرے پاس آئیں۔ بچے کو پیدائش سے پیشاب کی نالی کا ایک پیدائشی مسئلہ تھا۔ ڈاکٹروں نے پیدائش کے وقت بتایا تھا کہ دو سے پانچ سال کی عمر کے درمیان اس کی سرجری ضروری ہے، ورنہ پیچیدگیاں بڑھ جائیں گی۔ میں نے پوچھا،اب تک آپریشن کیوں نہیں ہوا؟ جواب سادہ مگر دل دہلا دینے والا تھا۔ مری کے سرکاری ہسپتال میں اس مرض کا ماہر سرجن موجود ہی نہیں۔ بعد میں ہسپتال انتظامیہ سے بھی معلوم ہوا کہ واقعی یہ سہولت موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دل کے امراض سمیت کئی پیچیدہ بیماریوں کے مریضوں کو بھی راولپنڈی یا اسلام آباد جانا پڑتا ہے۔ میں نے خاتون سے کہا کہ پھر پنڈی اسلام آباد کیوں نہیں گئیں؟ اس کا جواب شاید ہماری پوری ریاست کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے: ’’صاحب! ہمارے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست مشکل ہے۔ ہم دوسرے شہر جا کر علاج کے اخراجات کہاں سے لائیں؟‘‘ یہ ایک خاندان کی کہانی نہیں۔ یہ ہزاروں، شاید لاکھوں پاکستانیوں کی کہانی ہے۔ جن کے پاس وسائل ہیں، وہ بہترین ہسپتالوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ جن کے پاس وسائل نہیں، ان کے لیے بیماری اکثر قسمت کا فیصلہ بن جاتی ہے۔ اسی دوران ایک اور واقعہ سامنے آیا۔ مری کی واحد سرکاری جامعہ’ کوہسار یونیورسٹی‘ کی ایک طالبہ نے بتایا کہ وہ بی ایس سافٹ ویئر انجینئرنگ کے چار سمسٹر مکمل کر چکی ہے، مگر آج تک
یونیورسٹی میں کمپیوٹر استعمال نہیں کیا، کیونکہ کمپیوٹر لیب کے تقریباً تمام کمپیوٹر خراب پڑے ہیں۔ یہی صورتحال کمپیوٹر سائنس کے طلبہ کی بھی ہے۔ سوچیے، ایک طالب علم سافٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرے اور کمپیوٹر پر عملی کام ہی نہ کر سکے۔ پھر ہم نوجوانوں کو بے روزگاری کا ذمہ دار کیوں ٹھہراتے ہیں؟ اصل سوال تو یہ ہے کہ ہم انہیں کیا دے رہے ہیں؟ پھر ایک سترہ، اٹھارہ سالہ یتیم بچی ملی۔ والد کا انتقال ہو چکا تھا، گھر میں بیمار ماں اور ایک چھوٹا بھائی تھا۔ آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں۔ وہ کسی خیرات کی طلبگار نہیں تھی۔اسے صرف ایک موقع چاہیے تھا، ایک ایسا نظام چاہیے تھا جو اس کے حالات کو سمجھے اور اسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا راستہ دے۔ یہ تین الگ الگ کہانیاں نہیں، بلکہ ایک ہی مسئلے کی تین تصویریں ہیں۔ مسئلہ غربت نہیں، مسئلہ ایک ایسا نظام ہے جس کی ترجیحات میں غریب آدمی شامل ہی نہیں۔ ہم ترقی کے منصوبے بناتے ہیں، نئی عمارتیں کھڑی کرتے ہیں، بڑے بڑے اعلانات کرتے ہیں، لیکن ایک غریب ماں اپنے بیمار بچے کا علاج نہیں کرا سکتی، ایک طالب علم عملی تعلیم سے محروم ہے اور ایک یتیم لڑکی کو اپنے مستقبل کی کوئی ضمانت نظر نہیں آتی۔ یہ حالات ناقابلِ حل نہیں۔ حکومت اگر واقعی چاہے تو بڑے شہروں کے ماہر ڈاکٹروں کے لیے یہ شرط مقرر کر سکتی ہے کہ وہ مہینے میں کم از کم ایک دن قریبی پسماندہ علاقوں کے سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دیں۔ اسی طرح جامعات کے سینئر اساتذہ کو بھی مہینے میں ایک دن دور دراز جامعات میں تدریس کا پابند بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے مری جیسے علاقے کے ہسپتالوں میں ہر روز ہر قسم کا ماہر ڈاکٹر موجود ہو گا اور یہی بہتری فوری ایسے علاقوں کے تعلیمی اداروں میں نظر آئے گی۔ بغیر اضافی خرچ کیے ایسے علاقوں کے علاج اور تعلیم کے معیار میں نہ صرف فوری بہتری آئے گی بلکہ شہروں اور دیہی علاقوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج بھی کم ہوگی۔ اسی طرح گریڈ ایک سے بارہ تک کی بعض سرکاری ملازمتوں میں انتہائی نادار، یتیم اور معاشی طور پر شدید محروم خاندانوں کے لیے ایک محدود مگر مؤثر سماجی رعایت متعارف کرائی جا سکتی ہے، تاکہ ریاست کم از کم ان لوگوں کا سہارا بن سکے جن کے پاس کوئی سہارا نہیں۔ ریاست کی عظمت اس کے ایوانوں، شاہراہوں یا تقریبات سے نہیں ناپی جاتی۔ اس کا اصل پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے سب سے کمزور شہری کی زندگی کتنی محفوظ، باوقار اور امید سے بھرپور ہے۔ پاکستان میں اصل اصلاح اس دن شروع ہوگی جب حکمران، بیوروکریسی، سیاست دان اور پالیسی ساز یہ طے کر لیں گے کہ ریاست کا مرکز اشرافیہ نہیں بلکہ وہ غریب پاکستانی ہوگا جس کے پاس نہ سفارش ہے، نہ رسائی، نہ وسائل، صرف اپنے ملک سے وابستہ ایک آخری امید ہے۔بشکریہ جنگ
واپس کریں