دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان کا سعودی عرب میں یمنی حوثیوں کے میزائل حملوں پر سعودی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار
No image کئی برسوں سے جاری یمن کے بحران نے لاکھوں انسانوں کو انسانی المیے سے دوچار کیا ہے۔ اس تنازعے کا فوجی حل اب تک ممکن نہیں ہو سکا اس لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ فریق مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے پائیدار امن کی راہ تلاش کریں۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ کسی بھی جانب سے ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جو کشیدگی میں اضافے کا باعث بنیں۔ سعودی عرب پر میزائل حملے نہ صرف علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں بلکہ یہ امن کی کوششوں کو بھی سبوتاژ کرنے کی صیہونی سازش نظر آتی ہے۔ ۔
یہ حقیقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری غیر یقینی کی صورتحال سے بعض قوتیں اپنے سیاسی اور تزویراتی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مسلم دنیا پہلے ہی مختلف تنازعات اور بحرانوں کا شکار ہے، اس لیے ایسے اقدامات جو مزید انتشار کا باعث بنیں، امتِ مسلمہ کے ہر گز مفاد میں نہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ممالک باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں، بیرونی مداخلت سے اجتناب کریں اور امت کے اتحاد و استحکام کو مقدم رکھیں۔
بے شک پاکستان نے امتِ مسلمہ کے اتحاد، علاقائی امن اور تنازعات کے پرامن حل کی ہمیشہ حمایت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کر رہا ہے اور دوسری جانب یمن کے مسئلے کے سیاسی حل پر بھی زور دے رہا ہے۔ یہ متوازن پالیسی نہ صرف پاکستان کے قومی مفاد سے ہم آہنگ ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے، جبکہ اسلامی تعاون تنظیم کو بھی مسلم ممالک کے مابین اختلافات کم کرنے اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہیئں۔ سعودی عرب پر حملے کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتے اور ان کی روک تھام کے لیے مؤثر بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت ہے۔
بے شک پاکستان اپنے تاریخی، دینی اور برادرانہ تعلقات کی بنیاد پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور آئندہ بھی اس کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔ اس نازک مرحلے میں مسلم دنیا کے اتحاد، باہمی اعتماد اور دانشمندانہ سفارت کاری ہی وہ راستہ ہے جو خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور امن، استحکام اور ترقی کی نئی راہیں ہموار کر سکتا ہے۔ آج اگر یمن کے باغی حوثی امریکہ اور ایران کی کشیدگی سے فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیئے سعودی عرب کی مقدس دھرتی پر حملہ کرتے ہیں تو انہیں بخوبی علم ہونا چاہیئے کہ جری و بہادر افواجِ پاکستان مقدس سعودی دھرتی کے دفاع کے لئے سعودی فرمانروا اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں۔
واپس کریں