
تاریخ گواہ ہے کہ ہر جنگ اپنے پیچھے تباہی، انسانی المیے اور معاشی بحران چھوڑ جاتی ہے لیکن اِسی جنگ کے دوران کچھ ممالک، بعض صنعتیں اور مخصوص کمپنیاں غیر معمولی مالی فوائدبھی حاصل کرتی ہیں۔ امریکہ، ایران جنگ نے عالمی سیاست، معیشت، توانائی، دفاعی صنعت اور مالیاتی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اگرچہ اس جنگ نے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کی لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند ممالک اور بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے اس بحران سے نمایاں معاشی اور اسٹرٹیجک فوائد بھی حاصل کئے۔ عرب نشریاتی ادارے الجزیرہ کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران جنگ میں نمایاں معاشی فائدہ اٹھانے والوں میں امریکہ سرفہرست رہا جبکہ دوسری طرف جنگ کے دوران دفاعی صنعت، تیل اور گیس کمپنیوں، شپنگ انشورنس اور سرمایہ کار کمپنیوں نے سب سے زیادہ منافع کمایا۔ امریکہ دنیا میں سب سے بڑا دفاعی ساز و سامان بنانے اور ایکسپورٹ کرنے والا ملک ہونے کے ساتھ ساتھ تیل اور قدرتی گیس سے مالامال بھی ہے۔ جنگ کے دوران اسلحہ، میزائل، فضائی دفاعی نظام، ڈرون ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس سسٹمز کی مانگ میں اضافہ امریکی دفاعی صنعت کیلئے بہت منافع بخش ثابت ہوا اور امریکی دفاعی کمپنیوں، توانائی کے شعبے اور بعض مالیاتی اداروں کو اس کشیدگی سے نمایاں مالی فوائد حاصل ہوئے۔ اسکے علاوہ مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی ٹیکنالوجی، خودکار ڈرون اور اینٹی ڈرون نظام تیار کرنیوالی نئی کمپنیوں کو بھی بڑے آرڈرز موصول ہوئے۔
امریکہ کے علاوہ بعض خلیجی ممالک نے بھی محدود اقتصادی فوائدحاصل کئے۔اگرچہ جنگ ان ممالک کیلئےسلامتی کے خطرات کا باعث بنی لیکن تیل کی بلند قیمتوں نےان ممالک کی آمدنی میں اضافہ کیا، تاہم یہ فائدہ مستقل نہ تھا کیونکہ کشیدگی بڑھنےسے سرمایہ کاری، سیاحت اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ روس کو بھی اس جنگ کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتیں بلند ہونے سے تیل اور گیس کی برآمدات میں بہتر قیمتیں حاصل ہوئیں۔ چین کی صورتحال نسبتاً مختلف رہی۔ ایک طرف وہ ایران کا اہم تجارتی شراکت دار ہے لیکن دوسری طرف وہ دنیا کا بڑا توانائی درآمد کنندہ بھی ہے لہٰذا تیل کی بلند قیمتوںنے چینی صنعت پر اضافی بوجھ ڈالا۔ اسکےبرعکس کئی ممالک کو بھاری معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ جاپان، جنوبی کوریا، بھارت، پاکستان اور یورپی ممالک جو بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتے ہیں، انہیں مہنگے تیل، بڑھتی شپنگ لاگت، انشورنس اخراجات اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ عالمی سپلائی چین متاثر ہوئی، فضائی پروازوںکے راستے تبدیل ہوئے اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے۔ پاکستان کیلئے یہ جنگ تشویش کا باعث رہی۔ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے درآمد کرتا ہے، اسلئے تیل کی قیمتوں میں اضافے، بحری راستوں میں رکاوٹ اور عالمی مہنگائی نے ملکی معیشت پر دباؤ بڑھایا۔ دوسری طرف جنگ کے دوران دنیا کی بڑی توانائی کمپنیوں ،جن میں سعودی آرامکو، برٹش پیٹرولیم، شیل اور ٹوٹل انرجی شامل ہیں، نے اربوں ڈالر کا منافع حاصل کیا اور صرف ایک کمپنی ٹوٹل انرجی کا منافع تقریباً ایک تہائی اضافے کے بعد 5.5 ارب ڈالر ہوگیا۔ اسی طرح جنگ کے دوران عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤکے باعث بڑی امریکی سرمایہ کار بینکوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور صرف 4 مہینوں میں مجموعی طور پر 50 ارب ڈالر کا منافع کمایا۔ جے پی مورگن کے ٹریڈنگ شعبے کو مارچ سے جون کے دوران ریکارڈ 11 ارب 60کروڑ ڈالر کی آمدن ہوئی جسکے باعث یہ بینک کی تاریخ کا دوسرا بڑا سہ ماہی منافع بن گیا۔ بگ سکس بینک جس میں بینک آف امریکہ، مورگن اسٹینلے، سٹی گروپ، گولڈمین، ویلز فارگو اور جے پی مورگن شامل ہے، ان تمام بینکوں کے منافع میں نمایاں اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر اِن بینکوں کے مطابق انہیں 4 ماہ میں 60 ارب ڈالر سے زائد کا منافع ہوا۔ اسی طرح اسلحہ اور جدید دفاعی نظام کی عالمی طلب میں اضافے کے سبب بوئنگ، لاک ہیڈ مارٹن، آر ٹی ایکس اور نارتھروپ گرومن سمیت بڑی دفاعی کمپنیوں کو اربوں ڈالر کے نئے آرڈرز موصول ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور بحری راستوں کو لاحق خطرات نے عالمی شپنگ انڈسٹری کو بھی متاثر کیا اور مال بردار جہازوں کے کرایوں اور بحری انشورنس پریمیم میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ اس صورتحال سے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں نے اربوں ڈالر کا غیر معمولی فائدہ اٹھایا۔
عالمی تنازعات اور جنگیں جہاں ایک طرف انسانی اور معاشی نقصانات کا سبب بنتی ہیں، دوسری طرف بعض صنعتوں اور افراد کیلئے غیر معمولی مواقع بھی پیدا کرتی ہیں۔ امریکہ ایران مفاہمتی معاہدے اور جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیںجو 126ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی تھیں، جنگ سے پہلے کی سطح پر آنا شروع ہوگئی تھیں لیکن حالیہ امریکہ ایران کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہے جو دنیا کی بڑی آئل کمپنیوں کے مفاد میں ہے۔ ساڑھے تین ماہ تک جاری رہنے والی امریکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں جہاں ممالک کی معیشت متاثر ہوئی، وہاں عام افراد کی زندگیاں بھی مشکلات کا شکار رہیں۔ اس جنگ نے یہ ثابت کیا کہ جدید دنیا میں جنگ صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتی بلکہ توانائی، تجارت، مالیاتی منڈیوں، ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور عالمی سفارتکاری کو بھی براہ راست متاثر کرتی ہے۔ عالمی برادری کیلئے اس جنگ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ پائیدار امن، سفارتکاری اور مذاکرات نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ بلکہ عالمی معیشت کے استحکام کیلئے بھی ناگزیر ہیں۔ بشکریہ جنگ
واپس کریں