دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کرپٹو کرنسی حرام ہے تو کیا سوچنا بھی حرام ہے؟ عبدالستار
No image شنید ہے کہ مولانا تقی عثمانی جی نے کرپٹو کرنسی کے بزنس کو ناجائز اور حرام قرار دے دیا ہے، حرام قرار دینے کے پیچھے وجہ بڑی دلچسپ بیان ہوئی ہے کہ یہ بزنس کوئی فزیکل وجود نہیں رکھتا، یعنی ہوائی یا خیالی سا کاروبار ہے، اگر سادہ لفظوں میں وضاحت کی جائے تو یہ کاروبار ایک طرح سے Abstract یعنی مجرد ہے، یہ ایک تصور ہے اور ناقابلِ لمس ہے، اگر ایسا ہی ہے تو پھر انسان کے دھڑ پر لگے سر کے متعلق کیا حکم یا رائے ہو گی، انسانی سر ایک طرح سے تھنکنگ مشین ہے اور اس کے اندر سوچ یا فکر کی صورت میں تصورات جنم لیتے ہیں جن کا کوئی فزیکل وجود نہیں ہوتا اور ناقابلِ لمس ہوتے ہیں تو پھر ہم کیا سمجھیں کہ سوچنا بھی حرام ہے اور جس مشین میں ان تصورات کا جنم ہوتا ہے کیا وہ بھی حرام ہے؟
اگر ایسا ہی ہے پھر تو ہر طرح کا بیلنس بھی حرام ہے، ہم موبائل میں بیلنس کرواتے ہیں تو ایک گھنٹی سی بجتی ہے، اس کے علاوہ کچھ پتا نہیں چلتا کہ موبائل میں ایسا کیا آیا ہے، یعنی بیلنس کا کوئی فزیکل وجود نہیں ہوتا، پھر تو بیلنس بھی حرام ہے۔
ویسے کسی دور میں بینک کے کاروبار، اس سے حاصل ہونے والی ہر طرح کی سروس، ملازمین کی تنخواہیں حتیٰ کہ ملازمت تک حرام تصور ہوتی تھی، اسپیکر آلہ شیطان، ٹی وی شیطان باکس، بیکری آئٹم حرام حتیٰ کہ پرنٹنگ پریس تک حرام قرار دیا گیا تھا، وقت کا ستم ملاحظہ کریں ذرا، فتاویٰ موجود ہیں لیکن ان سب کا استعمال خشوع و خضوع سے جاری ہے، ٹی وی سے خوفزدہ علماء کرام آج اپنی ذاتی اسکرین یعنی موبائل فون کو ایک اسٹیٹس سمبل کے طور پر اپنے ہاتھوں میں تھامے رکھتے ہیں۔
وی آئی پی مولاناؤں کے گرد موبائل کی اسکرین کا جھرمٹ ہوتا ہے، کلپ بنتے ہیں اور مختلف سوشل میڈیائی پلیٹ فارم پر اپ لوڈ ہوتے ہیں، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جن چیزوں سے ڈرتے تھے وہ سب آج ہمارے گھروں میں داخل ہو چکی ہیں، سوال یہ ہے کہ پھر فتاویٰ کی کیا حیثیت؟
یہ ایک عاجزانہ سا سوال ہے، اس کا جواب تو مولانا صاحبان ہی دے سکتے ہیں، ہم تو بس اتنا جانتے ہیں کہ وقت کا بہاؤ کسی رکاوٹ کی پرواہ نہیں کرتا، وقت نے بہرصورت آگے بڑھنا ہی ہوتا ہے۔
بشکریہ: ہم سب
واپس کریں