
پلاسٹک نے ہماری روزمرہ زندگی میں ایسی قاتلانہ خاموشی کے ساتھ قدم رکھا کہ ہمیں خبر ہی نہ ہو سکی کہ یہ سہولت ایک دن ہمارے لیے وبالِ جان بن جائے گی۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جہاں پلاسٹک نے اپنی گرفت مضبوط نہ کر لی ہو۔ بازاروں میں شاپنگ کے لیے استعمال ہونے والے تھیلے ہوں یا گھروں میں آنے والی اشیائے خوردونوش کی پیکنگ، گھی اور تیل کے تھیلے ہوں یا بوتلیں، ہر چیز اسی مصنوعی تہہ میں لپٹی ہوئی ہے۔ بڑے پیمانے پر صنعتوں میں مصنوعات کی پیکنگ ہو یا گھروں کی تعمیر میں استعمال ہونے والی پلاسٹک شیٹس، حتیٰ کہ کھیتوں میں فصلوں کو بچانے کے لیے بچھائی جانے والی پلاسٹک کی تہیں، ہر طرف پلاسٹک ہی پلاسٹک دکھائی دیتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے فطرت کے اوپر ایک۔ مصنوعی پردہ ڈال دیا ہو جس نے زمین کی اصل سانسیں دبا دی ہوں۔ پلاسٹک زمین کا گلہ گھونٹ رہی ہے اور جوں جوں زمین کی سانسیں بند ہوں گی توں توں ہمارا تنفس بھی رک جائے گا۔ یہ دن دور نہیں مگر اس کا کیا کیا جائے کہ ہم نے شتر مرغ کی طرح گردنیں جھکاتے ہوئے سر ریت میں رکھے ہیں۔ اب اس کا کیا کیا جائے کہ ہم نے کبوتر کی طرح بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کی ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ جان کی بچت ہو جائے گی۔ اب اس المیے کا کیا کیا جائے کہ عوام اور خواص دونوں یک زبان ہو کر یہی راگ الاپ رہے ہیں کہ "دہلی ہنوز دور است"۔ اب اس کا کیا جواب دیا جائے کہ بظاہر اچھے خاصے ذی ہوش لوگ بھی ماحولیات کو مغرب کا چونچلا سمجھتے ہیں۔
یہی وہ وجوہات ہیں جو ماحولیاتی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ پلاسٹک وہ مادہ ہے جو وقت کے ساتھ فنا نہیں ہوتا، مٹتا نہیں اور نہ ہی زمین میں تحلیل ہوتا ہے۔ پلاسٹک سینکڑوں برس تک زمین میں موجود رہ کر اپنی تباہ کاری جاری رکھتا ہے۔ جب یہ زمین میں دفن ہوتا ہے تو مٹی کی ساخت کو خراب کرتا ہے، پانی کے جذب ہونے کے قدرتی نظام کو متاثر کرتا ہے اور زمین کی زرخیزی کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتا ہے۔ جہاں کبھی نرم، زرخیز اور زندگی بخش مٹی ہوا کرتی تھی، وہاں اب سخت تہیں اور مصنوعی ذرات زمین کی سانسوں میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ زمین کو گویا پلاسٹک نے بانجھ کر دیا ہے۔
پانی کا نظام بھی اس آلودگی سے محفوظ نہیں رہا۔ دریا، نہریں اور سمندر پلاسٹک کے بے شمار ڈھیر کا منظر پیش کر رہے ہیں بلکہ پلاسٹک کے قبرستان لگتے ہیں۔ آبی جاندار اسے خوراک سمجھ کر نگل لیتے ہیں اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ یوں یہ زہر آہستہ آہستہ خوراک کے سلسلے کے ذریعے انسانی زندگی تک پہنچ رہا ہے۔ مائیکرو پلاسٹک کے باریک ذرات پانی، نمک، مچھلی اور ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو رہے ہیں۔ یہ ذرات آنکھ سے نظر نہیں آتے مگر جسم کے اندر جا کر خاموشی سے اپنا اثر دکھاتے ہیں، کبھی نظامِ ہاضمہ کو کمزور کرتے ہیں، کبھی سانس کی بیماریوں کو بڑھاتے ہیں اور کبھی جسم کے اندرونی توازن کو بگاڑ دیتے ہیں۔ اعصابی نظام اور آٹو امیون سسٹم یعنی انسانی وجود کا خود حفاظتی نظام اس سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے جو تمام بیماریوں کا جڑ ہے۔
پلاسٹک کے جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں ایک اور المیہ ہے۔ یہ دھواں ہوا میں زہریلے اثرات شامل کرتا ہے جو سانس کی بیماریوں، الرجی اور دیگر خطرناک امراض کو جنم دیتا ہے۔ آج ہمارے گرد جو بیماریاں بڑھ رہی ہیں، ان کے پیچھے ایک بڑا سبب یہی آلودہ ماحول ہے جو پلاسٹک کے بے دریغ استعمال سے پیدا ہوا ہے۔ یوں یہ مسئلہ صرف زمین یا پانی تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت کے ہر پہلو کو متاثر کر رہا ہے۔
اگر ہم ماضی کی طرف دیکھیں تو ایک سادہ اور فطری زندگی نظر آتی ہے۔ دیہات اور شہر دونوں میں لوگ پلاسٹک کے بغیر زندگی گزارتے تھے۔ گھروں میں خواتین پرانے کپڑوں سے تھیلے تیار کرتی تھیں، بازار جانے والے وہی تھیلے استعمال کرتے تھے اور ضرورت کی چیزیں انہی میں لے آتے تھے۔ نہ آلودگی تھی، نہ زمین پر بوجھ، نہ دریا گندے تھے۔ فطرت اور انسان کے درمیان ایک قدرتی توازن قائم تھا جو آج بکھر چکا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس بکھرے ہوئے توازن کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کریں۔ شاپنگ بیگز پر مکمل پابندی ہونی چاہیے اور ان کی جگہ کپڑے یا کاغذ کے تھیلے رائج کیے جائیں۔ دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ پلاسٹک کے بجائے ماحول دوست طریقہ اپنائیں جو کاغذ اور کپڑے کے تھیلوں پر مشتمل ہے۔ صنعتوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ پیکنگ کے لیے متبادل مواد استعمال کریں جو زمین کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔ پلاسٹک پیکنگ والی مصنوعات کی درآمد کو بھی مکمل بند کیا جائے تاکہ اس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ دوسری جانب اگر ہر ملک یہ اقدام اٹھائے گا تو ماحولیات جو کہ عالمی مسئلہ ہے اس کو ایک عالمی جواب اور حل بھی مل جائے گا۔ صرف وہی پلاسٹک استعمال ہو جو تعمیرات یا زراعت جیسے محدود اور ضروری شعبوں میں ناگزیر ہو۔
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف قوانین بنائے بلکہ ان پر سختی سے عملدرآمد کو بھی یقینی بنائے۔ اگر قانون موجود ہو مگر عمل نہ ہو تو وہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا رہ جاتا ہے۔ دوسری طرف عوام کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے۔ اگر عوام خود تبدیلی کا فیصلہ کر لیں تو یہ مسئلہ بہت حد تک جلد کم ہو سکتا ہے اور دوسرے مرحلے میں ختم ہو سکتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف ماحول کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی سوچ نہ بدلی تو کل زمین ہم سے یہی سوال کرے گی کہ ہم نے اس کے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا، اور شاید اس وقت ہمارے پاس کوئی جواب نہ ہو۔ ہماری خاموشی پر زمین ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ زمین انتقام بھی نہیں لے گی۔ ہمارے کائنات میں بشمول زمین انتقام کی جبلت نہیں ہے۔ ہر طرح کی ماحولیاتی تباہی دراصل ماحولیاتی بربادی کے نتائج ہوتے ہیں۔ بہتر ہے کہ ماحولیاتی نوحہ کی بجائے ہم فطرت سے ہم آہنگ ہو کر زندگی کے نغمے گنگنائیں۔
واپس کریں