حامدمیر
وہ بدحواس ہو چکا ہے۔ اُسے یقین نہیں آ رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کیساتھ امن معاہدےپر راضی ہو چکا ہے۔ وہ بار بار اپنے قریبی ساتھیوں سے پوچھ رہا ہے کہ اس امن معاہدے پر عملدرآمد کو کیسے روکا جائے لیکن اُسکے ساتھیوں کے پاس بھی کوئی جواب نہیں ۔ اس بدحواس شخص کا نام بنیامین نیتن یاہو ہے جو اسرائیل کا وزیراعظم ہے۔15جون کوپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران میں امن معاہدے کا اعلان کیا تو نیتن یاہو کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا۔اُس نے 28 فروری کو ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران پر جو حملہ کیا تھا اُس کا مقصد صرف ایران میں رجیم چینج نہیں تھا بلکہ اصل مقصد ایران کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور گریٹر اسرائیل کے خواب کو حقیقت بنانا تھا۔ نیتن یاہو کا خیال تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کاغذ کے ٹکڑوں کی طرح بکھر جائیگا۔ لیکن اُسکے سب اندازے غلط ثابت ہوئے۔ خامنہ ای کی شہادت نے ایران کو متحد کر دیا۔ اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے ایک عالمی معاشی بحران پیدا کر دیا اور یہ وہ موقع تھا جب ٹرمپ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ ٹرمپ نے اس جنگ سے نکلنے کیلئے پاکستان کی مدد حاصل کی۔ پاکستان نے ایران اور امریکا میں سیز فائر کیلئے کوشش شروع کی ۔پاکستان کو سیز فائر کرانے میں کامیابی اسلئے ملی کہ پاکستان میں اب امریکا کا کوئی فوجی اڈہ نہیں اسلئے ایران نے پاکستان کو بطور ثالث قبول کر لیا۔ اپریل میں سیز فائر ہوا اور جون میں امن معاہدے کا اعلان ہوا۔ کوئی مانے یا نہ مانے۔ یہ امن معاہدہ دراصل اسرائیل کی شکست کا اعلان ہے۔ یہ اسرائیل کی جنگی شکست نہیں بلکہ نیتن یاہوکی سیاسی موت کا بھی پروانہ ہے۔ اکتوبر 2026ءمیں اسرائیل میں عام انتخابات ہونیوالے ہیں۔ نیتن یاہو ایران کیخلاف جنگ سے پہلے اسرائیل میں بہت مقبول تھا لیکن یہ جنگ اسرائیل کیلئے معاشی تباہی کا باعث بنی اور اسی لئے اب نیتن یاہو انتہائی غیرمقبول ہو چکا ہے۔ موصوف کیلئے سب سے بڑا دھچکا امریکا اور یورپ میں اسرائیل کیلئے حمایت کا کم ہو جانا ہے۔ ٹرمپ کی کوشش ہے کہ نیتن یاہو امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی حمایت پر آمادہ ہو جائے کیونکہ اس معاہدے میں لبنان سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کی شق بھی شامل ہے۔ نیتن یاہو کی آمادگی کے بغیراس معاہدے پر عملدرآمد بہت مشکل ہے۔ اس امن معاہدے کے اعلان پر ساری دنیا خوش تھی۔ صرف دو افراد پریشان تھے۔ ایک نیتن یاہو اور دوسرے نریندر مودی۔ نیتن یاہو کو بڑا ذہنی دھچکا اُس وقت لگا جب مودی نے بھی امریکا اور ایران میں امن معاہدے کا خیرمقدم کر دیا۔ مودی نے اپنے بیان میں پاکستان کا ذکر نہیں کیا لیکن موصوف کا گول مول بیان دراصل پاکستان کی سفارتی کامیابی کا اعتراف تھا۔ اب نیتن یاہو کے پاس دو راستے ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ کھلے دل سے اس امن معاہدے کو تسلیم کرےاور امن معاہدے کے ذریعے اسرائیل کیلئےزیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کر لیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح زبانی کلامی امن معاہدے کو تسلیم کر لیں لیکن عملی طور پر اسکی خلاف ورزی کرتے رہیں۔ اگر نیتن یاہو کے ماضی کو سامنے رکھا جائے تو خدشہ ہے کہ وہ دوسرے راستے پر چلیں گے۔ نیتن یاہو کا یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ انہیں امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کی تفصیلات کا علم نہیں ہے۔ ٹرمپ نے اُنہیں امن معاہدے سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رکھا لیکن وہ اسکا اعتراف نہیں کرینگے۔ پاکستان کی طرف سے اپریل میں سیز فائر کا اعلان ہوا تو اس وقت بھی اس میں لبنان شامل تھا۔ جون میں امن معاہدے کے اعلان میں بھی لبنان شامل تھا۔ اسی لیے اسلام آباد مذاکرات کے بعد امریکا میں اسرائیل اور لبنان کے مذاکرات کا اہتمام کیا گیا۔ 3جون کو لبنان، اسرائیل اور امریکا نے ایک مشترکہ بیان میں سیز فائرپر آمادگی ظاہر کی۔ نیتن یاہونےاس مشترکہ اعلان کے بعد بھی سیز فائر کی خلاف ورزی کی۔ اسرائیل کی یہ پرانی روایت ہے۔ اسرائیل عالمی دباؤ پر کئی دفعہ سیز فائر مان چکا ہے لیکن کبھی عملدرآمد نہیں کرتا۔ 1996ءمیں امریکا نے لبنان اور اسرائیل میں سیز فائر کروایا۔ اسرائیل نے اسکی بار بار خلاف ورزی کی۔ 2006ءمیں لبنان اسرائیل جنگ کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے ذریعہ بندکروایا گیالیکن اسرائیل نے اسکی پروا نہیں کی۔ 2024ء میں ایک دفعہ پھر اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا۔ اس مرتبہ امریکا اور فرانس نے سیز فائر کروایا۔ اس سیز فائرکو بھی اسرائیل نے بار بار توڑا۔ خدشہ ہے کہ اگر 2026ء میں اسرائیل مان بھی جائے تو سیز فائر کو قائم نہیں رکھے گا۔ ایک طرف اسرائیل کا قومی مفاد ہے۔ دوسری طرف نیتن یاہو کا ذاتی مفاد ہے۔ وہ ایران کے ہاتھوںشکست تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ 19جون کو سویٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد 60 دن بہت اہم ہونگے۔ ان 60 دنوں میں ایک جامع معاہدے کیلئے امریکا اور ایران میں مزید مذاکرات ہوں گے۔ یہ مذاکرات آسان نہیں ہوں گے۔ ان مذاکرات میں بار بار لبنان کی صورتحال رکاوٹ بن سکتی ہے کیونکہ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اُس کیلئے لبنان سے اسرائیلی فوج کی واپسی بہت اہم ہے۔ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے اور بعدازاں اسرائیل کی طرف سے لبنان میںاندھی فوجی طاقت کے استعمال میں دنیا کیلئے ایک سبق ہے۔ ایران کے خلاف ایک سپر پاور کی جنگ اور لبنان کیخلاف اسرائیل کی جنگ کے نتائج نے ثابت کیا ہے کہ آج کے دور میں ملٹری پاور ہر مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پیچیدہ سے پیچیدہ تنازعات بھی سیاسی و سفارتی مذاکرات سے حل ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان کا سفارتی کردار ایک نئی مثال ہے۔پاکستان دنیا میں امن کا نگہبان بن کر سامنے آیا ہے لیکن پاکستان کو ابھی بہت سے چیلنجز کا سامنا رہے گا۔ ایران پر صرف امریکا نے پابندیاں نہیں لگائیں۔ یورپی ممالک نے بھی ایران پر پابندیاں لگا رکھی ہیں۔ ان پابندیوں کا فوری خاتمہ نہیں ہو گا۔ یورپی یونین ایران سے اپنے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر بنانے کا مطالبہ کرے گی۔ امریکا ، ایران مذاکرات کی کامیابی میں چین کا کردار بہت اہم رہا ہے۔چین اور روس کے علاوہ ترکی،قطر اور سعودی عرب چاہتے ہیں کہ جس طرح پاکستان نے امریکا اور ایران میں مفاہمت کیلئے اہم کردار ادا کیاہے اُسی طرح اپنے ہمسائے افغانستان کے ساتھ بھی مفاہمت کا راستہ نکالے۔ پاکستان کے پالیسی ساز افغانستان کے موجودہ حکمرانوں کو بھارت کی پراکسی سمجھتے ہیں ۔میری اطلاع یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے پاکستان اور بھارت بھی آپس میں بات چیت شروع کریں۔ پاکستان اور بھارت میں مستقل امن امریکا کے بڑے تجارتی اداروں اور سرمایہ کاروں کی ضرورت بن چکا ہے اور اس سلسلے میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھی امریکا کوئی کردار ادا کرنے کیلئے تیارہے۔ لبنان میں بدامنی اسرائیل کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بدامنی بھارت کی ضرورت ہے۔ گریٹر اسرائیل اور اکھنڈ بھارت عالمی امن کیلئےمستقل خطرہ ہیں ۔ آنیوالے دنوں میں نیتن یاہو اپنے انٹیلی جینس نیٹ ورک کے ذریعہ صدر ٹرمپ کے خلاف کوئی نیا پنڈورا باکس کھول سکتے ہیں۔ کوئی نیا سکینڈل عالمی میڈیا کی ہیڈ لائینز بن سکتا ہے اور اگر ٹرمپ سیاسی مشکلات کا شکار ہو گئے تو امریکا ایران امن معاہدہ نئی مشکلات سے دوچار ہو سکتا ہے۔نیتن یاہو خود تو ڈوبیں گے ساتھ میں اپنے پرانے صنم کو بھی ڈبونا چاہتے ہیں۔ امریکا میں رجیم چینج ایران اور پاکستان دونوں کیلئےنئی مشکلات لا سکتی ہے۔ بشکریہ جنگ
واپس کریں