دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
شملہ سے صوبے تک: بلاول صاحب ! یہ تدبیر نہیں، تدفین ہے۔ دلاور خان ایڈووکیٹ
No image وہ چراغِ کشمیریات جس کی لو سے پیپلزپارٹی کبھی اقوامِ متحدہ کے منبر پر تاریخ کے سینے میں حرفِ حق تراشتی تھی، آج راکھ میں سسک رہا ہے۔ ایوانِ آزاد کشمیر میں کرسی کی کھنک ہے، کاز کی دھڑکن نہیں۔ جس زبان نے شملہ کے صحیفے پر خودارادیت کا مسلّمہ مقدمہ دو سرحدوں کے جھگڑے میں بدل دیا، جس دستِ سیاست نے گلگت سے سٹیٹ سبجیکٹ کا حصار توڑ کر دہلی کو پورے کشمیر کی شناخت نوچنے کا حیلہ تھما دیا، وہی زبان آج متناسب نمائندگی کے پردے میں آزاد کشمیر کی شناخت کا تیا پانچہ کرنے نکلی ہے۔ شب ہے کہ فطرت نہیں بدلتی۔
آپ کہتے ہیں پیپلزپارٹی کی بنیاد کشمیر پر اٹھی۔ سچ۔ مگر اسی بنیاد پر شملہ کی دیوار چنی گئی: حقِ خودارادیت کا آفاقی مقدمہ دو دارالحکومتوں کی میز پر سرحدی تنازع بنا دیا گیا۔ پھر آپ کے نانا نے گلگت سے سٹیٹ سبجیکٹ کی ڈھال ہٹائی۔ اسی رخنے سے دہلی اندر اترا اور مقبوضہ کشمیر سے سٹیٹ سبجیکٹ کا قفل توڑ دیا۔ پیپلزپارٹی نے حصار میں شگاف ڈالا، پھر دشمن کی یلغار پر مرثیہ بھی لکھا۔ کمال ہمدردی و محبت ہے۔
بلاول صاحب! آپ زخم پر مرہم رکھنے آئے، مگر نسخہ آئین کی شہ رگ چیرتا ہے۔ مہاجر نشستوں کی اصلاح حق، مگر متناسب نمائندگی؟ یہ بنیادوں میں بارود بھرنا ہے۔
آزاد کشمیر کی اسمبلی دو ستونوں پر قائم ہے: 33 دھرتی کے، 12 ہجرت کے۔ یہ 45 براہِ راست منتخب، میزانِ آئین میں ہم پلہ ہیں۔ ایک ستون دوسرے پر سایہ نہیں کر سکتا۔ براہِ راست کو بالواسطہ کرنا، نقشہ مٹا کر نیا ملک تراشنا ہے۔ اور یہ مہاجر عام نہیں: Citizenship Act 1951 کی شق 14-B نے انہیں مقصدِ کبریٰ کی آئینی زِرہ پہنائی ہے۔
اپنے گریبان میں جھانکیے: اگر اسلام آباد بھی آزاد کشمیر اور گلگت کو آئینی پیکر کا حصہ بنا لے، تو 5 اگست 2019 پر دہلی سے حجت کس زبان سے ہو گی؟ جب جرم اور دلیل ایک لباس پہن لیں، تو اخلاق کی سند خاک ہو جاتی ہے۔ کشمیر کا فیصلہ نہ آپ کا ایوان کرے گا، نہ ان کا۔ فیصلہ رائے شماری کرے گی، وہی عہد جو اقوامِ متحدہ کے منبر سے باندھا گیا تھا۔
تقسیم در تقسیم، اور قومی اسمبلی و سینیٹ کی نشستیں حل نہیں، گرہ در گرہ ہیں۔ یہ حقِ حاکمیت عطا کرنا نہیں، غصب کرنا ہے۔ شناخت کو جِلا دینا نہیں، مسخ کرنا ہے۔ یہ مسائل کا حل نہیں، الجھاؤ کا نیا روپ ہے۔ اب صوبائی کفن اوڑھا کر مسئلے کو دفن کرنے کی یہ بے چینی کیسی؟ یہ عجلت کس تحریر کا پیش خیمہ ہے؟
حقِ روزگار اور خودانحصاری کا درست راستہ یہ ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے پانی، جنگل، معدنیات ، سیاحت المختصر وہاں کے وسائل پر وہاں کے لوگوں کو حقِ تصرف دیا جائے۔ خیرات کی نشستیں نہیں، اختیار کی کنجی دیجیے۔ جب مقامی ہاتھ کو اپنی زمین کے خزانے پر دسترس ہو گی، تب یہ خطہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گا۔ یہی معاشی خودمختاری کشمیر کاز کی اصل ڈھال ہے، ورنہ نشستوں کا صدقہ شناخت کا کفن بن جائے گا۔
اخلاص ہے تو آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کو پوری ریاست کی نمائندہ، با اختیار حکومت تسلیم کیجیے۔ اسی کو دنیا کے سامنے کشمیر کا مقدمہ لڑنے دیجیے۔ آزاد کشمیر اور گلگت کو جوڑ کر 28 اپریل 1949 سے پہلے کی وحدت بحال کیجیے۔ یہی اصول ہے، یہی تاریخ کا قرض ہے، یہی انصاف کا تقاضا ہے۔
آزاد کشمیر پیپلزپارٹی کا فرض ہے کہ اپنے نوجوان قائد کی انگلی تھامے، اسے آئین کی صراطِ مستقیم پر لائے۔ وہ زبان کہاں گئی جو بے زبانوں کے حلق میں صدا بنتی تھی؟ یہ گونگا پن، یہ لکنتِ فکر، یہ لمحۂ فکریہ نہیں، لمحۂ ماتم ہے۔
بلاول صاحب! اصلاح کیجیے، محروم کو اس کا حق دیجیے، مگر اقوامِ متحدہ کے وعدوں کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیجیے۔ کشمیریوں سے کیے عہد کا چراغ گل نہ ہونے دیجیے۔ بے نام، بے صدا انسانوں کا حقِ سماعت پامال نہ کیجیے۔ خدا راہ، سینیٹ و قومی اسمبلی میں نشستوں کا دامِ ہمرنگِ زمیں بچھا کر کشمیر ایشو اور کشمیریوں کی شناخت کی گردن زدنی کا سامان نہ کیجیے۔ کیونکہ جب زبان علم سے کٹ جائے، تو تقریر نعرہ رہ جاتی ہے، تدبیر نہیں بنتی۔ اور جب تدبیر دم توڑ دے، تو قومیں نوحہ بن جاتی ہیں، اور نوحے تاریخ نہیں لکھتے، مزار بناتے ہیں۔
واپس کریں