پٹرولیم نرخوں میں نمایاں کمی! عوام کے اطمینان کا انحصار مہنگائی میں کمی پر ہے

یہ امر واقع ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجہ میں امریکہ اور ایران کے مابین اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ٹرمپ، ایرانی صدر پزشکیان اور بطور ثالث وزیراعظم شہباز شریف کے الیکٹرانک دستخط ہونے کے ساتھ ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور خام تیل کی قیمت 79 ڈالر فی بیرل تک نیچے آ گئی۔ یہ نرخ ہفتے کے روز بھی برقرار تھے چنانچہ اس پیش رفت کے اثرات پاکستان سمیت دنیا کے متعدد ممالک کی معیشتوں پر مرتب ہونا فطری امر ہے۔
بلاشبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی حکومت پاکستان کا ایک خوش آئند اقدام ہے کیونکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں ایندھن کی قیمتوں کا براہ راست تعلق عوام کی روزمرہ زندگی سے ہوتا ہے۔ جب پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہوتے ہیں تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے اور اشیائے خورونوش کی ترسیل مہنگی ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً روز مرہ استعمال کی ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پٹرولیم نرخوں میں مسلسل اضافے نے مہنگائی کے بے قابو ہونے والے سونامی اٹھائے جس سے عام آدمی کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی، متوسط طبقہ مالی دباؤ کا شکار ہوا اور غریب طبقے کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل ہو گیا۔
بلاشبہ یہ حقیقت بھی نظر اندار نہیں کی جا سکتی کہ امریکہ ایران کشیدگی اور جنگی صورتحال کے آغاز سے قبل پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 266 روپے فی لٹر تھی چنانچہ موجودہ کمی کے باوجود پٹرولیم نرخوں کا اس سطح کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو اب بھی تقریباً 30 روپے فی لیٹر مزید کمی کی گنجائش موجود ہے۔ عوام کی توقعات بھی یہی ہیں کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا مکمل فائدہ صارفین تک منتقل ہونا چاہیئے اور کسی قسم کے اضافی مالی بوجھ یا ٹیکسوں کے ذریعے اس ریلیف کو کم نہ کیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں کمی کا ایک اہم تقاضا یہ بھی ہے کہ اس کے اثرات فوری طور پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر نظر آئیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کے لیے اقدامات کی ہدایت درست سمت میں ایک قدم ہے، تاہم صرف پنجاب ہی نہیں، پورے ملک میں ضلعی انتظامیہ، ٹرانسپورٹ اتھارٹیز اور متعلقہ اداروں کو متحرک کیا جانا ضروری ہے تاکہ پٹرولیم نرخوں میں کمی کا فائدہ براہ راست عوام تک پہنچ سکے۔ ماضی کا تجربہ یہی بتاتا ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے پر کرائے اور اشیاء کی قیمتیں فوری بڑھا دی جاتی ہیں لیکن قیمتیں کم ہونے کے باوجود ان میں اسی تناسب سے کمی نہیں کی جاتی۔ چنانچہ ناجائز منافع خوروں کے اس روئیے کی مؤثر حوصلہ شکنی ضروری ہے۔
اس حوالے سے یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنی چاہیئے کہ عوام کی مشکلات صرف پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں تک محدود نہیں بلکہ بجلی، گیس اور پانی کے نرخ بھی مسلسل اضافے کے باعث عوام کے لیے سخت تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ گھریلو صارفین کے ماہانہ بل ان کی آمدنی کا بڑا حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں جبکہ صنعتی شعبہ بھی توانائی کے بلند نرخوں کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافے کا بوجھ برداشت کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اگر حکومت فی الواقع مہنگائی میں کمی اور عوامی ریلیف کی خواہاں ہے تو اسے توانائی کے تمام شعبوں میں جامع اصلاحات اور قیمتوں میں مناسب کمی کے امکانات پر غور کرنا ہوگا۔
امریکہ اور ایران کے معاہدے کے حوالے سے پاکستان کو جو سفارتی پذیرائی اور عالمی سطح پر کریڈٹ حاصل ہوا ہے، وہ یقیناً باعثِ اطمینان ہے۔ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام، مذاکرات کی حوصلہ افزائی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے جو مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا، اسے اسی تناظر میں بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ تاہم سفارتی کامیابیوں کی اصل اہمیت کا احساس اسی صورت میں ہو گا جب ان کے ثمرات قومی معیشت اور عوامی زندگیوں میں بھی نظر آئیں گے۔ اگر عالمی امن کی کوششوں کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوئے ہیں اور معاشی استحکام کی راہ ہموار ہو رہی ہے تو حکومت کو ان فوائد کو عوامی فلاح و بہبود کے ساتھ منسلک کرنا چاہیئے۔
اندریں حالات وقت کا یہی تقاضا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں حالیہ کمی کو ایک عارضی خوشخبری کے بجائے مہنگائی میں حقیقی کمی کے آغاز میں تبدیل کیا جائے۔ اشیائے خورونوش، ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات میں کمی ہی وہ پیمانہ ہے جس پر عوام حکومتی اقدامات کا جائزہ لے کر اطمینان محسوس کر سکتے ہیں۔ اگر آنے والے دنوں میں مہنگائی کی شرح میں واضح کمی نظر آتی ہے، کاروباری سرگرمیاں بڑھتی ہیں اور عام آدمی کی زندگی آسان ہوتی ہے تو یہی حکومت کی کامیابی اور اس کی سفارتی کاوشوں کا حقیقی ثمر ہوگا۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں