دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قومی سیاست کی بازیافت
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
ریاستوں کی سیاسی زندگی میں بعض اوقات ایسے موڑ آتے ہیں جہاں مسائل کی کثرت سے زیادہ خطرناک چیز ان مسائل کے حل کے لیے اجتماعی بصیرت کا فقدان ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے ہی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی کشیدگی، ادارہ جاتی عدم اعتماد، انتخابی تنازعات، علاقائی بے چینی اور قومی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم ایک دوسرے سے جڑ کر ایک وسیع تر سیاسی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں جب وزیر اعظم کی جانب سے ایک نئے "میثاقِ جمہوریت" کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے تو اس تجویز کو محض سیاسی بیان سمجھ کر رد کر دینا بھی مناسب نہیں، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار نیت، شمولیت اور عملی اقدامات پر ہوگا، محض اعلانات پر نہیں۔
دنیا کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے اجتماعی ضابطۂ کار کا نام ہے جس میں اقتدار کی منتقلی، اختلافِ رائے کا احترام، آئینی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کی حرمت بنیادی اصولوں کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس آئین موجود نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ آئین کے ساتھ عملی وفاداری ہمیشہ یکساں نہیں رہی۔ 1973ء کا آئین قومی اتفاقِ رائے کی ایک غیر معمولی دستاویز تھا جس نے مختلف سیاسی و فکری دھاروں کو ایک مشترکہ قانونی اور سیاسی فریم ورک میں جمع کیا، مگر گزشتہ نصف صدی میں بارہا ایسے مواقع آئے جب آئینی روح کو پس منظر میں دھکیل کر وقتی سیاسی مفادات کو ترجیح دی گئی۔
یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کسی بھی جمہوری معاشرے میں اصل میثاق درحقیقت آئین ہی ہوتا ہے۔ اگر آئینی اصولوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے تو الگ سے کسی سیاسی معاہدے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ لیکن جب آئین کی تعبیر، اطلاق اور احترام سیاسی مصلحتوں کے تابع ہو جائے تو پھر اعتماد کی بحالی کے لیے اضافی سیاسی ضمانتوں اور قومی مکالمے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان میں میثاقِ جمہوریت 2006ء اسی تاریخی ضرورت کا نتیجہ تھا جس نے دو بڑی سیاسی جماعتوں کو اس نتیجے پر پہنچایا کہ باہمی محاذ آرائی کے بجائے جمہوری نظام کا استحکام قومی مفاد کا تقاضا ہے۔
آج کے حالات میں سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ نیا میثاق ہونا چاہیے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ اس میں شامل کون ہوگا اور اس کی بنیاد کیا ہوگی۔ کسی بھی قومی سیاسی معاہدے کی کامیابی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک کی تمام بڑی سیاسی قوتیں اس عمل کا حصہ نہ بنیں۔ سیاسی جماعتوں کو دیوار سے لگانے، قیادتوں کو غیر مؤثر بنانے یا مخالف آوازوں کو محدود کرنے کی حکمت عملی وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے مگر پائیدار سیاسی استحکام پیدا نہیں کر سکتی۔ تاریخ بارہا یہ ثابت کر چکی ہے کہ سیاسی قوتوں کو دبانے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ وہ نئے اور زیادہ پیچیدہ بحرانوں کو جنم دیتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی ساخت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ قومی جماعتوں کا بتدریج علاقائی جماعتوں میں تبدیل ہونا وفاقی ہم آہنگی کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے۔ جب سیاسی جماعتیں پورے ملک کی نمائندگی کے بجائے مخصوص صوبوں یا علاقوں تک محدود ہونے لگیں تو قومی بیانیہ کمزور اور علاقائی شناختیں زیادہ طاقتور ہو جاتی ہیں۔ یہی وہ رجحان ہے جس نے ماضی میں بعض سیاسی قوتوں کو قومی دھارے سے دور کیا اور آج بھی اس کے اثرات مختلف صورتوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ایک مضبوط وفاق کی بنیاد ایسی قومی سیاست پر استوار ہوتی ہے جو تمام اکائیوں کو مساوی سیاسی شرکت کا احساس فراہم کرے۔
آزاد کشمیر اور بلوچستان کی موجودہ صورتحال بھی اسی وسیع تر تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ دونوں خطوں کے مسائل اپنی نوعیت، تاریخ اور محرکات کے اعتبار سے مختلف ہیں، لیکن ان کے حل کے لیے ایک مشترکہ اصول ضرور موجود ہے، اور وہ ہے سیاسی شمولیت، مکالمہ اور اعتماد سازی۔ ریاستی استحکام کا تعلق صرف انتظامی اقدامات سے نہیں بلکہ اس احساس سے بھی ہوتا ہے کہ شہری خود کو قومی فیصلوں کا حصہ سمجھتے ہیں۔ جہاں یہ احساس کمزور پڑ جائے وہاں فاصلے بڑھنے لگتے ہیں۔
پاکستان کے سیاسی بحرانوں کا ایک بنیادی سبب انتخابی عمل پر مسلسل اٹھنے والے سوالات بھی رہے ہیں۔ انتخابی شفافیت صرف ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ جمہوری نظام کی اخلاقی بنیاد ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ ان کے ووٹ کی حقیقی قدر موجود ہے تو سیاسی تنازعات کے حل کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس جب انتخابی نتائج متنازع ہوں تو جمہوری اداروں پر اعتماد متاثر ہوتا ہے اور سیاسی کشمکش طویل ہوتی چلی جاتی ہے۔
اس وقت ملک کو کسی نئے سیاسی نعرے سے زیادہ ایک نئے سیاسی رویے کی ضرورت ہے۔ آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کا احترام، سیاسی اختلاف کے حق کو تسلیم کرنا اور تمام بڑی سیاسی قوتوں کو مکالمے کی میز پر لانا وہ بنیادی اصول ہیں جن کے بغیر کوئی بھی نیا معاہدہ محض ایک رسمی دستاویز ثابت ہو سکتا ہے۔ قومی سیاست کی بازیافت کا راستہ الزام تراشی، انتقام اور اخراج کی سیاست سے نہیں بلکہ شمولیت، مفاہمت اور جمہوری اعتماد کی بحالی سے نکلتا ہے۔
پاکستان نے عالمی سطح پر مختلف تنازعات میں مفاہمت اور ثالثی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر ہم بین الاقوامی سطح پر متحارب قوتوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں تو اپنے داخلی سیاسی اختلافات کو بھی قومی دانش اور جمہوری بالغ نظری کے ذریعے کم کر سکتے ہیں۔ آج ضرورت کسی نئے معاہدے سے زیادہ اس عزم کی ہے کہ آئین کو محض ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ قومی اتفاق اور سیاسی بقا کی بنیاد سمجھا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو مسلسل سیاسی کشیدگی سے نکال کر پائیدار جمہوری استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔
واپس کریں