محمد محسن خان ( راجپوت )
جدید جیو پولیٹیکل منظرنامے میں جب ہم عالمی طاقتوں کی بساط اور علاقائی سٹرٹیجک صف بندیوں کا گہرا معائنہ کرتے ہیں، تو ایک عجیب و غریب فکری تضاد سامنے آتا ہے۔ یہ تضاد بین الاقوامی تعلقات کے روایتی اصولوں سے زیادہ انسانی جبلت اور عصرِ حاضر کی "سرمایہ دارانہ ہوس" (Capitalist Greed) کے اس فلسفے سے جڑا ہے، جسے اشرافیہ نے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے ایک عالمی نظام کی شکل دے دی ہے۔ آج کی میکیاولیائی سیاست (Machiavellian Politics) میں نظریات کی موت ہو چکی ہے اور ان کی جگہ بقا، حرص اور مصلحت پسندی کے ایسے تاریک سائے لہرا رہے ہیں جنہوں نے ریاستوں اور ان کے کارپردازوں کو محض اپنے مفادات کا اسیر بنا دیا ہے۔ دنیا بھر میں ہائبرڈ وارفیئر (Hybrid Warfare)، سٹرٹیجک اتحادوں کی پل پل بدلتی جُون، اور اقتصادی جکڑبندیوں نے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں پرنسپل اور اصول محض بیانیوں کی حد تک زندہ ہیں، جبکہ زمینی حقیقت پوزیشننگ اور خود غرضی کے گرد گھومتی ہے۔
اس جیو پولیٹیکل بساط پر جب ہم پاکستان اور اس جیسے دیگر ترقی پذیر ممالک کے اندرونی و بیرونی منظرنامے کو دیکھتے ہیں، تو یہاں کی مقتدر اشرافیہ، فکری رہبر اور سماجی طبقات اسی عالمی لہر کا شکار نظر آتے ہیں۔ طاقت کے گلیاروں سے لے کر عوامی چائے خانوں تک، ہر جگہ نظریاتی پستی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا راج ہے۔ علاقائی سیاست اور داخلی استحکام کو برقرار رکھنے کے دعویدار جب اقتدار کی غلام گردشوں میں اگلی بساط سجانے کیلئے وفاداریاں بدلتے ہیں، تو وہ دراصل اس سٹرٹیجک کمزوری کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں جو کسی بھی خوددار ریاست کے زوال کا سبب بنتی ہے۔ کسی بھی بلدیاتی کونسلر سے لے کر پارلیمان کے ایوانوں تک، اور عدالتوں کے سرد کمروں سے لے کر ڈیجیٹل میڈیا کے شور شرابے تک، فکری سچائی مفقود ہو چکی ہے۔ یوٹیوب اور سوشل میڈیا کے الگورتھم نے سنسنی خیزی اور فکری گراوٹ کو ایک ایسے منافع بخش کاروبار میں تبدیل کر دیا ہے جہاں مذہبی سوانگ رچانے والے اور سیاسی دست بدست لڑائی کرنے والے، دونوں ہی بھاری مالیاتی اور تزویراتی فوائد کے عوض قوم کی فکری جڑوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں۔ یہ سارا تماشا ایک ایسے سماج کی عکاسی کرتا ہے جہاں شناخت، پاسپورٹ اور حتیٰ کہ انسانی وقار بھی مفادات کی منڈی میں نیلام ہو رہا ہے۔
جب معیشت کا پہیہ صرف منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی پر چلنے لگے، جہاں سو روپے کی چیز ہزار میں بیچنا ہنر گردانا جائے، وہاں ریاستی سلامتی اور معاشی خودمختاری کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ عالمی مالیاتی اداروں کی جکڑبندیاں اور جیو-اکنامکس (Geo-economics) کے بلند بانگ دعوے اس وقت تک بے معنی رہتے ہیں جب تک داخلی سطح پر گورننس اور اداروں کا ڈھانچہ حرص کی بنیاد پر کھڑا ہو۔ سفارتی محاذ پر جب آپ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ "ملک کا کیا بنے گا؟" تو جواب کسی بیرونی سازش میں نہیں، بلکہ اپنے ہی گریبان میں جھانکنے سے ملتا ہے۔ ہم سب اس نظام کی خرابی پر نوحہ کناں تو ہیں، لیکن خود اس خرابی کا حصہ بنے رہنے میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔ طاقتور ممالک کی خارجہ پالیسیوں کا تانا بانا بھی اسی مصلحت پسندی سے جڑا ہے، جہاں انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے نعرے صرف کمزور ریاستوں کو دباؤ میں لانے کیلئے سٹرٹیجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں۔
اس فکری اور اخلاقی قحط الرجال کا حل کسی بیرونی امداد یا جادوئی سٹرٹیجک شفٹ میں نہیں، بلکہ ایک داخلی "فکری انقلاب" اور انفرادی سطح پر عہدِ وفا میں چھپا ہے۔ جب تک ہم اپنی لامتناہی خواہشات کی قربانی دے کر قومی مفاد اور انسانی وقار کو ترجیح نہیں دیں گے، تب تک عالمی منظرنامے پر ہمارا کردار محض ایک تماشائی یا مصلحت پسند فریق کا ہی رہے گا۔ اصل چیلنج یہ ہے کہ مفادات کے اس سنگدلانہ اور ہوس پرست عالمی و علاقائی نظام میں رہتے ہوئے ہم اپنی سچی انسانی اور قومی شناخت کو کیسے بچاتے ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنی آنے والی نسلوں کو ایک پرسکون، خوددار اور مستحکم ماحول دینا ہے، تو ہمیں حرص اور موقع پرستی کے اس موجودہ فکری ڈھانچے کو یکسر مسترد کرنا ہوگا، ورنہ تاریخ کا پہیہ جب گھومتا ہے تو وہ مصلحت پسندوں کو صرف عبرت کا نشان بنا کر چھوڑتا ہے۔ فکری سچائی کا دامن تھامے بغیر جیو پولیٹیکل بقا کی کوئی بھی جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔
واپس کریں