
چند روز قبل پنجاب کے شہر چکوال میں نو سالہ ہانیہ احمد کی ہلاکت نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا بھی موضوع بن گئی۔
آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں خاندان کے ساتھ رہنے والی ہانیہ اپنے آبائی شہر چکوال آئی ہوئی تھیں۔ تاہم 10 جون کو ایک افسوسناک واقعے میں مبینہ طور پر غلط شناخت کے نتیجے میں سی سی ڈی اہلکار کی فائرنگ سے ان کے والد اور بھائی شدید زخمی ہو گئے، جبکہ ہانیہ جان کی بازی ہار گئیں۔
ہانیہ کی ہلاکت کی خبر نے ہزاروں کلومیٹر دور آسٹریلیا میں بھی گہرے دکھ اور تشویش کو جنم دیا۔ مقامی کمیونٹی نے اسے ایک ‘اجتماعی صدمہ‘ قرار دیا، جبکہ آسڑیلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے پاکستان سے مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
آسٹریلوی حکومت کی اس واقعے سے دلچسپی کے بعد پاکستان میں نہ صرف شہری اور ریاست کا تعلق زیر بحث ہے بلکہ سوشل میڈیا صارفین اور سماجی کارکنان یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ پاکستان میں ایسے سانحات پر اجتماعی ردعمل اکثر مختصر، وقتی اور محدود کیوں رہ جاتا ہے؟
ایک واقعہ، مختلف ردعمل ہمیں کیا بتاتا ہے؟
مختلف بین الاقوامی اداروں کے لیے اس واقعے کی رپورٹنگ کرنے والے چکوال کے صحافی نبیل انور ڈھکو کے مطابق دونوں معاشروں میں صدمے اور دکھ کی شدت شاید مختلف نہیں، البتہ ریاستی ردعمل ضرور مختلف ہے۔
ڈی ڈبلیو اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا، ”چکوال میں لوگ شدید دکھ اور صدمے کا شکار ہیں۔ بچے پوچھتے ہیں کہ اتنی چھوٹی بچی کو کیوں مار دیا گیا؟ دور دراز علاقوں سے لوگ تعزیت کے لیے آ رہے ہیں، سوشل میڈیا پر بھی یہ معاملہ بڑے پیمانے پر زیر بحث ہے۔ پورا معاشرہ شدید اذیت میں ہے۔‘‘
ان کے بقول، ”البتہ ریاستی ردعمل میں واضح فرق ہے۔ آسٹریلیا کے وزیراعظم نے واقعے پر فوری ردعمل دیا، جبکہ پاکستان میں اعلیٰ سیاسی قیادت خاموش نظر آئی۔ وہاں ریاست بچوں کے لیے کونسلنگ کا انتظام کر رہی ہے، یہاں معاشرہ اپنے طریقے سے بچوں کو نفسیاتی سہارا دے گا۔”
سماجی تجزیہ کار ڈاکٹر جعفر احمد کے مطابق اس طرح کے مختلف ردعمل دراصل ریاست اور اس کے شہریوں کے تعلق کی نوعیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ”ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ مغربی ممالک اس حوالے سے بہت حساس ہیں۔ ہمارے ہاں ریاست اور معاشرہ الگ الگ دائرے میں سفر کر رہے ہیں، اسی طرح کا واقعہ ساہیوال میں پیش آیا تھا، جہاں ایک خاندان غلط شناخت پر مارا گیا، لیکن بعد میں تمام ملزمان بری ہو گئے۔ وہاں ریاست عام آدمی کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، یہاں شہری اپنے حال پر ہیں۔‘‘
مسلسل سانحات: اجتماعی ردعمل محدود کیوں؟
ہانیہ احمد کا واقعہ اپنی نوعیت میں منفرد ضرور ہے، لیکن یہ پہلا موقع نہیں جب کسی انسانی المیے نے پاکستانی معاشرے کو جھنجھوڑا ہو۔ سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات پر ابتدائی غم و غصے کے بعد کیا ہوتا ہے؟
پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں سی سی ڈی کے قیام کے بعد پہلے آٹھ ماہ میں 924 افراد ہلاک ہوئے۔ دوسری جانب پاکستان میں ہر سال ہزاروں افراد سڑک حادثات میں جان گنواتے ہیں۔ ساہیوال سانحے سے لے کر متعدد دیگر واقعات تک، کئی المیے وقتی بحث کا موضوع تو بنتے ہیں، مگر جلد ہی قومی توجہ کا مرکز نہیں رہتے۔
ڈاکٹر جعفر احمد کے مطابق، ”جب لوگ بار بار ایسے واقعات دیکھتے ہیں جن میں جانوں کا ضیاع ہوتا ہے مگر اس کے باوجود زندگی اور نظام اسی طرح چلتا رہتا ہے تو لوگ عادی ہو جاتے ہیں، ان کی حساسیت نرم پڑ جاتی ہے۔‘‘
ان کے بقول، یہ اجتماعی بے حسی بھی ہے لیکن اس سے زیادہ اجتماعی مایوسی ہے۔ ”بہت ہی کم ایسی مثالیں ہیں جب احتجاج، بحث یا عوامی دباؤ کے نتیجے میں شہریوں کو انصاف ملا۔ لوگ یقین کر چکے ہیں کہ ان کی آواز یا ان کا احتجاج کوئی تبدیلی نہیں لا سکتا۔ وہ بس تھوڑی دیر کے لیے اس صدمے سے گزرتے ہیں، پھر کوئی اور واقعہ ان کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔”
بعض سماجی ماہرین کے مطابق اس رویے میں ایک اہم کردار ثقافتی عوامل کا بھی ہے۔
ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ذوالفقار حیدر کہتے ہیں، ”ہمارے ہاں کسی کی موت پر ایسے جملے اکثر سننے کو ملتے ہیں کہ قسمت میں یہی لکھا تھا، بس یہیں تک زندگی تھی۔ یہ رویہ ایک طرف صدمے کو برداشت کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن دوسری طرف سانحے کی وجوہات، ذمہ داروں اور احتساب کے سوالات کو پس منظر میں دھکیل دیتا ہے۔”
اس حوالے سے ڈی ڈبلیو اردو سے بات کرتے ہوئے ماہر نفسیات ڈاکٹر شاہد خٹک کہتے ہیں، ”مسلسل منفی خبروں، عدم تحفظ اور اجتماعی صدمات کے ماحول میں رہنے والے معاشروں میں جذباتی تھکن پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ہر نیا سانحہ دکھ تو دیتا ہے، مگر پہلے جیسا شدید ردعمل پیدا نہیں کر پاتا۔ بعض اوقات یہ رویہ بے حسی نہیں بلکہ نفسیاتی بقا کی ایک حکمت عملی ہوتا ہے۔ اس کا دماغ خودکار طریقے سے صدمے کی شدت کم کر دیتا ہے تاکہ اس کی اپنی زندگی متاثر نہ ہو۔”
جسٹس فار فاطمہ کا پوسٹر، فاطمہ کی مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھاجسٹس فار فاطمہ کا پوسٹر، فاطمہ کی مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کردیا گیا تھا
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف خوف یا مایوسی کا نہیں بلکہ سیاسی ثقافت کا بھی ہےتصویر: DW
بے حس یا بے بس: بطور معاشرہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟
نبیل انور ڈھکو کہتے ہیں، ”چند روز پہلے چکوال میں ایک نوجوان چاقو حملے سے نڈھال ہو کر روڈ کے کنارے بیٹھ گیا، کسی نے ریسکیو کو کال نہیں کی، کوئی اسے لے کر ہسپتال نہیں گیا، وہ زیادہ خون بہہ جانے سے ہلاک ہو گیا۔ لوگ ویڈیو بناتے رہے لیکن مدد کے لیے عملی قدم نہیں اٹھایا؟ بہت سے واقعات میں ایسا دیکھنے کو ملتا ہے، یہ بے حسی نہیں تو اور کیا ہے؟”
ان کا مزید کہنا تھا، ” میں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی تو بڑی تعداد میں لوگ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ مدد کے لیے آگے بڑھیں تو پولیس گواہ بننے پر مجبور کرتی ہے۔ حالانکہ پولیس کسی بھی شخص کو مجبور نہیں کر سکتی لیکن آپ سمجھ سکتے ہیں کہ لوگوں کا اداروں پر اعتماد کتنا ہے، ان کی معلومات کتنی ہیں اور وہ کس قدر خوفزدہ ہیں۔ لوگوں کے دلائل اپنی جگہ درست ہیں لیکن یہ بے حسی ہی ہے، کسی بھی قیمت پر انسانی جان کو بچانے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔”
اس حوالے سے ڈاکٹر جعفر احمد کا کہنا تھا، ”میرے خیال میں معاشرہ بے حس سے زیادہ بے بس ہے، ہم کسی سانحے میں زخمی ہونے والے کو ہسپتال لے جاؤں تو وہ کہیں گے یہ پولیس کیس ہے، اب مجھے اپنی جان چھڑانے کے لیے چار پانچ دن مسلسل پولیس اسٹیشن کے چکر لگانے پڑیں گے۔ میں نے ایک اچھا کام کرنے کی کوشش کی، بدلے میں مجھے اذیت اور کوفت مل رہی ہے۔ کیا میں اگلی بار یہ اچھا کام کروں گا؟ میرے لیے بہت مشکل فیصلہ ہے۔”
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف خوف یا مایوسی کا نہیں بلکہ سیاسی ثقافت کا بھی ہے۔
ڈاکٹر شاہد خٹک کے بقول، ”پاکستانی معاشرہ خاندان، برادری اور مقامی سطح پر تو مضبوط سماجی روابط رکھتا ہے، مگر عوامی دباؤ کے ذریعے ریاستی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کی کوئی خاص روایت نہیں۔ اس لیے یہاں ایسا ماحول ہی نہیں کہ عوام سماجی مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر نکلیں یا احتجاج کریں۔”
ماہرین کی آراء سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ مسئلہ محض بے حسی کا نہیں بلکہ مسلسل سانحات، کمزور احتساب اور اداروں پر عدم اعتماد نے بہت سے لوگوں کو اس یقین سے محروم کر دیا ہے کہ ان کا ردعمل یا آواز کسی حقیقی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ شاید اسی لیے بیشتر سانحات چند دن کی بحث کے بعد نئی خبروں کے ہجوم میں گم ہو جاتے ہیں۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو
واپس کریں