دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پٹرول کی قیمتیں: عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ عوام تک کیوں نہیں پہنچتا؟
No image (پشاور۔ خالد خان): پاکستان میں پٹرول محض ایک ایندھن نہیں بلکہ معیشت کی شہ رگ ہے۔ ملک کے کروڑوں شہری روزگار، کاروبار، زراعت، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے پٹرول اور ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو عوام بجا طور پر یہ توقع کرتے ہیں کہ اس کا فائدہ مقامی سطح پر بھی منتقل ہوگا۔ تاہم اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں نمایاں کمی کے باوجود عوام کو محدود ریلیف ملتا ہے، جس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ آخر عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر پاکستانی صارفین تک مکمل طور پر کیوں نہیں پہنچتا؟
جون 2026 کے دوران عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ آئل تقریباً 75 سے 80 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہا، جبکہ بعض مواقع پر قیمتیں 80 ڈالر سے بھی نیچے آئیں۔ دوسری جانب پاکستان میں پٹرول کی قیمت اب بھی کئی شہریوں کی قوتِ خرید سے کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ عوام کا مؤقف ہے کہ جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا متناسب فائدہ صارفین تک پہنچنا چاہیے۔
معاشی ماہرین کے مطابق پٹرول کی مقامی قیمت صرف خام تیل کی عالمی قیمت سے متعین نہیں ہوتی۔ اس میں درآمدی لاگت، ریفائننگ اخراجات، روپے اور ڈالر کی شرحِ تبادلہ، ڈیلر کمیشن، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن اور سب سے بڑھ کر حکومتی ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی شامل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل سستا ہونے کے باوجود مقامی قیمتوں میں اس تناسب سے کمی نظر نہیں آتی جس کی عوام توقع کرتی ہے۔
عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ پٹرولیم لیوی اور دیگر محصولات کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑتا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں چند روپے اضافے یا کمی کے اثرات صرف پمپ تک محدود نہیں رہتے بلکہ ٹرانسپورٹ کرایوں، زرعی لاگت، اشیائے خورونوش، تعمیراتی سامان اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں تک پہنچتے ہیں۔ یوں ایندھن کی قیمت پورے معاشی نظام پر اثر انداز ہوتی ہے۔
ایک اور اہم مسئلہ مصنوعی قلت اور ذخیرہ اندوزی کے الزامات ہیں۔ ماضی میں مختلف مواقع پر پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں، محدود سپلائی اور غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی جس سے عوامی بے چینی میں اضافہ ہوا۔ اگرچہ حکومتی ادارے اکثر یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ملک میں ایندھن کے ذخائر اور سپلائی کی صورتحال مستحکم ہے، تاہم عوام کا مطالبہ ہے کہ نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی مصنوعی قلت یا ناجائز منافع خوری کی روک تھام ممکن ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ایسی شفاف اور قابلِ فہم پٹرولیم قیمت پالیسی کی ضرورت ہے جس کے تحت عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں خام تیل، ٹیکسز، لیوی، درآمدی اخراجات اور دیگر عوامل کا حصہ کتنا ہے۔ اس سے نہ صرف غلط فہمیوں کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
حکومت کے لیے ضروری ہے کہ جب بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے تو اس کا مناسب اور منصفانہ فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے۔ اسی طرح ٹیکسوں اور لیوی کے بوجھ کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے تاکہ مہنگائی سے متاثرہ غریب اور متوسط طبقے کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ معاشی استحکام صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ عام شہری کی زندگی میں آنے والی آسانی سے ظاہر ہوتا ہے۔ اگر پٹرول کی قیمتوں میں منصفانہ توازن قائم کیا جائے تو اس کے مثبت اثرات پوری معیشت، کاروباری سرگرمیوں اور عوامی فلاح پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
واپس کریں