دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
قومی اقتصادی سروے رپورٹ، مجوزہ قومی بجٹ کا حجم اور محصولات وصولی کے اہداف
No image رواں مالی سال کی قومی اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق حکومت زیادہ تر اقتصادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس سلسلہ میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں قومی اقتصادی سروے رپورٹ جاری کی جس کے مطابق زراعت، صنعت، خدمات، قومی بچت، سرمایہ کاری، لائیو سٹاک جنگلات اور ماہی پروری کے شعبے میں گروتھ ہدف سے کم رہی تاہم ترسیلاتِ زر 8.2 فیصد اضافے سے 30.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ ان ریکارڈ ترسیلاتِ زر کے باوجود کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس سکڑ کر 72 ملین ڈالر رہ گیا ہے جبکہ مارچ 2026ء کے اختتام تک پاکستان کا مجموعی عوامی قرضہ بڑھ کر 833 کھرب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں اقتصادی ترقی کی شرح 3.7 فیصد رہی جو چار سال کی بلند ترین شرح ہے۔ رواں مالی سال میں مہنگائی کی اوسط شرح 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکستان کی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے اور دو برس میں فی کس آمدنی 1.751 ڈالر سے بڑھ کر 1.901 ڈالر ہو گئی ہے۔ رپورٹ میں ملکی معیشت، سماجی حالات اور ماحولیاتی صورت حال کے بارے میں انتہائی تشویشناک صورت حال بیان کی گئی ہے جس میں غربت اور بیروزگاری میں اضافہ، تعلیم اور انسانی سرمائے پر کم سرمایہ کاری، بڑھتا ہوا سرکاری قرض، خوراک و توانائی میں شدید درامدی انحصار، ماحولیاتی بحران اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات نمایاں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تعلیم و انسانی سرمائے پر کم سرمایہ کاری اور غربت کے باعث شہریوں کی بدلتی غذائی عادات اور بنیادی سہولتوں میں کمی ہوئی ہے۔ اس وقت 60 لاکھ کے قریب نوجوان بے روزگار ہیں اور ہر تیسرا بچہ سکول سے باہر ہے۔ رپورٹ کے مطابق غربت کی شرح 21.9 سے بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی ہے اور سرکاری قرضہ 833 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے بتایا کہ مالیاتی کرنٹ اکاؤنٹ خسارے اور ڈیٹ ٹْو جی ڈی پی میں کمی آئی ہے جبکہ مینوفیکچرنگ کے 22 میں سے 16 شعبوں نے بہتر کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کے بقول ترسیلاتِ زر اور فری لانسنگ برامدات میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبوں کے ساتھ ترقیاتی پروگرام کے انجماد بارے مفاہمت ایک سال سے زیادہ عرصے کے لیئے مؤثر رہے گی۔ بجٹ میں ٹیرف اصلاحات کو آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے بقول ملک کے 35 سے 40 لاکھ چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیئے ہمیں کہیں نہ کہیں سے کام شروع کرنا تھا جس کا اب آغاز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ڈسکوز کی نجکاری کو آگے بڑھایا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں وفاقی سیکرٹری خزانہ اور چئیرمین ایف بی آر بھی موجود تھے۔ محمد اورنگ زیب نے پریس کانفرنس میں خطے کی صورت حال اور موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق درپش چیلنجز کا بھی احاطہ کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ کی پیش کردہ رواں مالی سال کی قومی اقتصادی سروے رپورٹ نے یقینناً ملک کی معاشی صورت حال کا ایک ایسا خاکہ پیش کیا ہے جس میں چند مثبت اشاریوں کے باوجود مجموعی تاثر زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آتا۔۔ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے دعوے اپنی جگہ، لیکن اعداد و شمار یہی بتارہے ہیں کہ معیشت کے بیشتر اہم اہداف حاصل نہیں ہو پائے۔ شرح نمو 3.7 فیصد تک پہنچ کر گزشتہ چار برس کی بلند ترین سطح پر ضرور آئی ہے، ترسیلات زر اور فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تاہم زراعت، صنعت، خدمات، قومی بچت، سرمایہ کاری، لائیو سٹاک، جنگلات اور ماہی پروری جیسے بنیادی شعبے اپنے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ معاشی بحالی کا عمل ابھی نازک مرحلے میں ہے اور اسے پائیدار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور غیر معمولی چیلنجز کے باوجود اقتصادی استحکام حاصل کیا گیا ہے۔ بلاشبہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کو سیاسی بے یقینی، توانائی کے بحران، مہنگائی، سیلاب کی تباہ کاریوں اور بیرونی مالی دباؤ جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے۔ ان حالات میں مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں کسی حد تک کمی ایک مثبت پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ تاہم استحکام کے دعوے اس وقت تک عوام کے لیے بے معنی ہوں گے جب تک ان کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچیں۔
اقتصادی سروے کا سب سے تشویشناک پہلو غربت میں اضافے سے متعلق ہے۔ رپورٹ کے مطابق غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے جس سے یہی مراد ہے کہ کروڑوں پاکستانی بنیادی ضروریات زندگی پوری کرنے میں بھی مشکلات کا شکار ہیں۔ مزید براں بیروزگاری میں اضافے اور ہر تیسرے بچے کے سکول سے باہر ہونے کی حقیقت اوراسی طرح ہر پاکستانی پر اوسطاً تین لاکھ تیس ہزار روپے کے قرضے کا بوجھ اقتصادی سروے رپورٹ میں پیش کئے گئے ایسے حقائق ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی معاشی پالیسی کی کامیابی کا اصل پیمانہ عوام کا معیار زندگی ہوتا ہے۔ اگر غربت اور بیروزگاری بڑھ رہی ہو تو معاشی اشاریوں میں بہتری کے دعوے اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔
بے شک پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ کمزور ٹیکس سسٹم اور محدود ٹیکس نیٹ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال بجٹ کی تیاری کے وقت حکومت کو ریونیو اہداف کے حصول کے لیے نئے ٹیکس عائد کرنے پڑتے ہیں۔ گذشتہ روز قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ کا حجم بجٹ دستاویز کے مطابق 17 ٹریلین روپے اور ریونیو ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے رکھا گیا ہے جو انتہائی بلند ہدف ہے چنانچہ اس کے حصول کے لیے مختلف شعبوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 25 فیصد تک بڑھانے اور پٹرولیم لیوی کے ذریعے 1727 ارب روپے وصول کرنے کا فیصلہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
اندریں حالات اصل سوال یہ ہے کہ اگر رواں مالی سال میں بھی ریونیو کے اہداف مکمل طور پر حاصل نہ ہو پائے تو آئندہ سال ان سے کہیں زیادہ بلند ہدف مقرر کرنا پڑے گا جس کا حصول ناممکنات میں شامل ہو سکتا ہے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی محصولات میں کمی کا خدشہ پیدا ہوتا ہے تو اس کا بوجھ بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے عام شہریوں پر منتقل کر دیا جاتا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس اور روزمرہ استعمال کی اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافہ بالآخر مہنگائی کی نئی لہر کو جنم دیتا ہے۔ یوں محصولات تو بڑھ جاتے ہیں مگر عوام کی قوت خرید مزید کمزور ہو جاتی ہے اور مہنگائی کے ہاتھوں عملاً ان کا کچومر نکل جاتا ہے۔
یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ موجودہ پیش کردہ بجٹ بھی بڑی حد تک آئی ایم ایف کی شرائط اور تقاضوں کے مطابق مرتب کیا گیا ہے۔ پاکستان کو مالیاتی استحکام اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے بے شک عالمی مالیاتی اداروں کے تعاون کی ضرورت ہے تاہم اس کے لیئے ایسی پالیسی مرتب کرنا ضروری ہے جس سے معاشی اصلاحات کا بوجھ یکساں طور پر تقسیم ہو۔ اگر تمام تر قربانیاں تنخواہ دار، متوسط طبقے اور غریب عوام ہی دیتے رہیں اور اس کے برعکس ٹیکس چوری، غیر دستاویزی معیشت اور مراعات یافتہ طبقات بدستور محفوظ رہیں تو معاشی اصلاحات کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکیں گے۔
یہ امر واقع ہے کہ پاکستان کو اس وقت 37 ارب ڈالر سے زائد کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے۔ اس خسارے کو کم کرنے کے لیے برآمدات میں اضافہ، صنعتی سرگرمیوں کی توسیع اور زرعی پیداوار میں خاطر خواہ بہتری ناگزیر ہے۔ افسوس اس امر کا ہے کہ اقتصادی سروے کے مطابق انہی شعبوں میں اہداف حاصل نہیں ہو سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ محض ٹیکسوں کے ذریعے آمدنی بڑھانے کے بجائے پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافے کی پالیسیوں پر توجہ دے۔ جب تک معیشت کا پیداواری ڈھانچہ مضبوط نہیں ہوگا، مالیاتی استحکام عارضی ہی ثابت ہوتا رہے گا۔
اس تناظر میں عوام کے لیے فوری ریلیف کی ضرورت بھی اپنی جگہ اہم ہے۔ خطے میں کشیدگی اور عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی میں مزید اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اگر حکومت پٹرولیم نرخوں کو امریکہ۔ایران کشیدگی سے قبل کی سطح کے قریب لانے میں کامیاب ہو جائے تو ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اس اقدام سے عوام کو فوری ریلیف ملے گا اور حکومت کے معاشی استحکام کے دعوؤں پر بھی عوام کا اعتماد بڑھے گا۔
بے شک ملک اس وقت اقتصادی دباؤ کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں صرف اعداد و شمار کے ذریعے معیشت کی اچھی تصویر دکھانے سے بات نہیں بنے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں، غربت اور بیروزگاری میں کمی آئے، تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے اور ٹیکس سسٹم کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے۔ اگر مجوزہ بجٹ عوامی توقعات کے مطابق مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع نکالنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کا باعث بنے گا تو یہ حقیقی معنوں میں معاشی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہو گی بصورت دیگر معاشی استحکام کے دعوے صرف سرکاری رپورٹوں اور عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والے اعداد و شمار تک ہی محدود رہ جائیں گے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں