دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
محسنِ ایران؟
حامدمیر
حامدمیر
آپ مانیں یا نہ مانیں، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے محسن ہیں۔ ٹرمپ نے اسرئیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران کو ولن سے ایک ہیرو بنا دیا ہے۔ آج کل ٹرمپ روزانہ ایران کو للکارتے نظر آتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ ٹرمپ کو عالمی سیاست میں ولن بن جانا اچھا نہیں لگ رہا۔ وہ ایران کو للکار کر خود کو اصل ہیرو ثابت کرنیکی کوشش میں ہیں، لیکن اس کوشش میں وہ ایران کو ایک سپر پاور امریکا کے برابر لے آئے ہیں۔ ٹرمپ بار بار اعلان فرما رہے ہیں کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دینگے۔ وہ یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ ایران ہمارے ساتھ ڈیل کرنا چاہتا ہے اور بہت جلد یہ ڈیل ہو جائیگی، لیکن پھر ایک دھمکی دیکر ڈیل کے تاثر کو خود ہی زائل بھی کر دیتے ہیں۔ اگر میں یہ کہوں کہ امریکا اور ایران میں ایک غیراعلانیہ ڈیل دونوں ممالک کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات سے پہلے طے ہو چکی تھی تو شاید آپ کو یقین نہ آئے۔ آپ یقین کریں یا نہ کریں، لیکن 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف جو جنگ شروع کی تھی، ٹرمپ مارچ کے وسط میں اس جنگ سے خود نکلنا چاہتے تھے۔ یورپی ممالک اور برطانیہ نے اس جنگ میں ٹرمپ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا اور امریکا میں یہ جنگ بہت غیر مقبول تھی۔ ٹرمپ کی خواہش پر پاکستانی قیادت نے ایران کے ساتھ سیز فائر کی کوشش شروع کی تو ایرانی قیادت سیز فائر پر آمادہ نہیں تھی۔ جی ہاں! اس جنگ کے بہت سے رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران میں صرف رجیم چینج نہیں چاہتے تھے بلکہ ایران کو ٹکڑوں میں بانٹنا چاہتے تھے ۔ ایک ملک کے تین ملک بنانا چاہتے تھے۔لیکن آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت نے ایرانی قوم کو متحد کر دیا۔ ایرانی قیادت کی قربانی اور ایرانی قوم کا اتحاد امریکا کی شکست بن گیا، اور پھر اس شکست کے ملبے میں سے پاکستان ایک ثالث بن کر ابھرا۔ جب پاکستان نے ایرانی قیادت سے سیز فائر کیلئے بات چیت شروع کی تو ایرانی قیادت نے صاف صاف کہا کہ ٹرمپ ایک ناقابلِ اعتبار انسان ہے۔ ٹرمپ بار بار ایران کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے اور بار بار ایران پر حملہ کر دیتا ہے، لہٰذا اب سیز فائر اسی وقت ہو گا جب ٹرمپ ہمیں ایران پر دوبارہ حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرائیگا اور ہمارے ساتھ ایک جامع معاہدہ کرئیگا۔پاکستان نے ایرانی قیادت کا جواب ٹرمپ تک پہنچا دیا۔ ٹرمپ نے یقین دلایا کہ وہ تیسری دفعہ ایران پر حملہ نہیں کرئیگا اور جامع معاہدےکیلئے بھی تیار ہے۔ پھر دونوں ممالک میں ایک معاہدے پر بات چیت شروع ہوئی۔ یہ ایک لمبی کہانی ہے جس میں چین کا کردار بھی بہت اہم ہے لیکن اس کہانی کا سب سے اہم موڑ 8 اپریل کو پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے امریکا اور ایران کے درمیان سیز فائر کا اعلان تھا۔جب گیارہ اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان پچاس سال میں پہلی دفعہ اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہوئے تو پاکستان ان دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدے کے اہم نکات پر پہلے ہی اتفاق کروا چکا تھا۔ اس اتفاق کے بعد ہی ایران کے وفد نے پاکستان آنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ ایرانی قیادت نے بار بار پاکستان سے یہ کہا کہ 2025ء میںعمان نے بھی امریکا اور ایران میں مذاکرات کروائے تھے لیکن عمان کا کردار صرف ایک میسنجر یا پوسٹ مین کا تھا پاکستان کو نہ صرف ثالثی کرنی ہوگی بلکہ یقین دلانا ہوگا کہ ایران پر دوبارہ حملہ نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے بار بار پاکستانی قیادت کی تعریفیں کر کے ایران کو یقین دلانے کی کوشش کی کہ پاکستان کو امریکا کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کا پہلا راؤنڈ شروع ہونے سے قبل وہ مسئلہ حل ہو چکا تھا جس پر ٹرمپ ابھی تک شور مچا رہے ہیں۔ ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر آمادگی ظاہر کر چکا تھا اور امریکا نے ایران پر اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ تسلیم کر لیا تھا۔ اسلام آباد میں امریکا اور ایران نے اس معاہدے پر عمل درآمد کیلئے ایک ٹائم فریم اور دیگر تفصیلات طے کرنی تھیں۔ جب سب معاملات طے پا گئے تو ٹرمپ کی ایک فون کال کے بعد امریکی وفد نے یورینیم کی افزودگی کا مسئلہ چھیڑ دیا۔ یہ ٹیکنیکل معاملہ بعد میں طے ہونا تھا لیکن ایران نے اس معاملے پر لچک دکھا دی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا کے نائب صدرجے ڈی وینس بار بار یہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد مذاکرات بہت اہم تھے۔ ان مذاکرات میں فریقین معاہدے پر دستخط کے قریب تھے، لیکن اچانک جے ڈی وینس کو واپس امریکا بلا لیا گیا۔ واپس جانے کیلئے جے ڈی وینس نے جو بہانے بنائے اُن پر پاکستانی میزبان اور ایرانی مہمان ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے اور امریکی وفدہوٹل سے سیدھا نور خان ایئربیس چلا گیا۔ شائد ٹرمپ خود اس معاہدے پر دستخط کرکے ہیرو بننا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے کچھ امریکی صحافیوں کوفون کر کے کہا کہ آپ اسلام آباد سے واپس نہ آئیں کیونکہ ہو سکتا ہے میں خود بھی اسلام آباد آ جاؤں۔ ٹرمپ نے اپنے وفد کو نامناسب انداز میں اسلام آباد سے واپس بلا کر وہ غلطی کی جسکا خمیازہ پوری دنیا نے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کی صورت میں بھگتا۔ امریکا نے لبنان اور اسرائیل میں سیز فائر کروا کے ایران کا ایک اہم مطالبہ پورا کر دیا، لیکن ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیانات کے باعث ایرانی قیادت امریکی وفد کے ساتھ دوبارہ آمنے سامنے بیٹھنے پر تیار نہ تھی۔ دونوں ممالک میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز پھر بند ہو گئی۔ لہٰذا فیلڈ مارشل عاصم منیر 15 اپریل کوخود تہران پہنچے۔ انہوں نے تہران میں ایرانی قیادت سے بات چیت کی اور دوسری طرف ٹرمپ سے بھی براہ راست بات کی۔ ایک دفعہ پھر تمام معاملات طے ہو گئے۔ امریکا اور ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کر لیا۔ 18 اپریل کو فیلڈ مارشل عاصم منیر واپس پاکستان پہنچے اور مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کے انتظامات شروع ہوئے، لیکن ٹرمپ نے پھر سے ایران کے خلاف بیان بازی شروع کر دی۔ پاکستان نے پوری کوشش کی کہ سیز فائر نہ ٹوٹے کیونکہ اسرائیل پوری کوشش کر رہا تھا کہ سیز فائر ٹوٹ جائے۔ اسرائیل نے ایران کو ترکی اور سعودی عرب سے لڑانے کی بار بار سازش کی۔ ٹرمپ نے مئی کے وسط میں دورۂ چین سے قبل ایران کے ساتھ اپنی شرائط پر معاہدے کیلئے بہت جتن کیے لیکن ایران اس معاہدے سے آگے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا جو 8 اپریل سے قبل طے پایا تھا۔ اس مرتبہ ایران نے فیصلہ کیا کہ ٹرمپ کو کسی معاہدے کے بغیر خالی ہاتھ چین بھیجا جائے اور خالی ہاتھ واپس لوٹایا جائے۔ وہ معاہدہ جسکی تفصیلات 8 اپریل کو سیز فائر کے اعلان سے قبل طے ہو چکی تھیں، ابھی تک ایک حقیقت ہے۔ اس معاہدے میں تاخیر کے ذمہ دار ٹرمپ ہیں جنہوں نے 12 اپریل کو بڑے نامناسب طریقے سے امریکی وفد کو اسلام آباد سے واپس بلا کر ایرانی وفد کی توہین کی۔ اب امریکی میڈیا کبھی کہتا ہے کہ پاکستان نے نور خان ایئربیس پر ایران کے جنگی طیاروں کو چھپایا، کبھی کہتا ہے کہ رجیم چینج آپریشن میں سابق ایرانی صدر محمد احمدی نژاد کو اقتدار سونپنا تھا۔ مقصد غلط فہمیاں پھیلانا ہے۔صاف نظر آ رہا ہے کہ ٹرمپ دھونس، دھمکی اور فیک نیوزکے ذریعے ولن سے ہیرو بننے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ آج نہیں تو کل امریکا اور ایران میں امن معاہدہ ہونا ہی ہے۔ یہ وہی معاہدہ ہو گا جو 8اپریل سے قبل طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے بعد ٹرمپ اپنے آپ کو فاتحِ ایران قرار دیں گے لیکن سچ یہ ہے کہ وہ محسنِ ایران بن چکے ہیں۔نہ وہ ایران پر حملہ کرتے نہ ایران انہیں شکست دیتا اور نہ ہی ایران کو امریکا کی اقتصادی پابندیوں سے نجات حاصل کرنے کا یہ سنہری موقع ملتا۔
واپس کریں