شکیل انجم
جہاں انصاف بکتا ہو، قانون کمزور ہو اور مجرم طاقتور ہوں وہاں جرائم کا پھیلاؤ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ڈرگ مافیا اور قانون و انصاف کے گٹھ جوڑ کو توڑے بغیر کسی معاشرے میں امن، انصاف اور ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
یہ کوئی بحث طلب موضوع نہیں کہ انصاف کی دو اہم اکائیاں، تھانہ اور کچہری کلچر ایک پیج پر ہیں اور دونوں کرپشن کی دوڑ میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوششوں کے دوران مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔یہ کیسے مان لیا جائے کہ نظام عدل اور قانون کی خریدوفروخت میں حصہ لینے والے گمنام کردار ہوں؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ عدل اور قانون کے بڑے بیوپاریوں کی قوت خرید کے بارے میں بظاہر قانون کی رکھوالی کرنے اور انصاف کا دھندہ کرنے والے اپنے مستقل خریداروں کی حیثیت سے آگاہ نہ ہوں جو نئی نسلوں کی رگوں میں زہر انڈیلنے کا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں؟
یہ کیسے ممکن ہے کی انصاف کی کرسیوں پر بیٹھے ہزاروں لوگوں کے علاوہ پوری نسل کے قتل کی سازش میں ملوث مافیا انصاف کے ضوابط کے خلاف سہولتکاری کریں۔؟
باڈی لینگئج اور پیغامات کے ذریعے قانون اور انصاف کی بیمائیگی کا اعلان کرنے والی "بے تاج ملکہ" ڈرگ مافیا کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے سے انکار کرتے ہوئے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کو ترجیح دی۔سندھ کے ایک اعلیٰ پولیس آفیسر نے جو شائدایک دہائی سے زائد عرصہ سے نسلوں کو برباد ہونے سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوگا لیکن کہاں گئی اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں جن کی بنیاد پر انہیں یہ اعلیٰ منصب عطا کیا گیا لیکن وہ پنکی جس کا کوئی مول نہیں، بے بس اور ناکام ہوا اور اپنی نالائقی میڈیا پر ڈال دی جس نے اس ڈرگ بیرن کو بینقاب کیا اورقانون کے نفاذ میں بے بسی اور انصاف کی عملداری میں اس انڈر ورلڈ کے سامنے مغلوب ہونے کا اقرار کرلیا۔
پولیس حکام اپنی کوتاہیوں، غیر پیشہ ورانہ رویوں اور اپنی بنیادی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہونے کے فرائض کی ادائیگی میں مجرمانہ غفلت پر شرمندگی کا اظہار کرنے کی بجائے یہ کہتے پائے جائیں کہ انمول پنکی کو میڈیا پر اس انداز میں زینت بنانے کا فعل مجرم کو ہیرو کی صورت پیش کرنے کے مترادف ہے جو جرم کے خلاف قانون نافذ کتنے والے اداروں کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔پولیس کے انتہائی ذمہ دار اور ہائی رینکنگ آفیسر کے اس معصومانہ لیکن شاطرانہ بیانیے ایسے کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں جن کا جواب پورے معاشرے کے لئے شرمندگی کا باعث ہوتا ہے۔ اگر پولیس کو معصوم اور ان تمام ذمہ داریوں سے مبراء مان بھی لیا جائے تو ایسے مظلوم اور بے آواز طبقہ جو کسی نہ کسی طور پولیس کی ٹھوکروں میں رہتا ہے، کو کس کٹھرے میں کھڑا کیا جائے جس کا "جرم" اپنے بچوں کے لئے رزق حلال کمانے کی کوشش کرنا ہے لیکن کبھی جانے انجانے میں اس سے کوئی ایسا جرم سرزد ہو گیا ہوتا ہے جو علاقہ پولیس کی "رضا و رغبت" کے بغیر ہوا لیکن اس کی "جان خلاصی" اس شرط پر ہوئی کہ وہ آئیندہ پولیس کے لئے کام کرے گا۔یہ پرانا مفروضہ یا حقیقت ہے جب جرائم مافیا کے منظم انڈر ورلڈ، قانون اور نظام عدل کا گٹھ جوڑ ہوا اور کسی پوچھ گچھ سے مبراء جرائم کا پھیلاؤ ہوا جو صنعت کا درجہ حاصل کرگیا۔
منشیات کی تجارت دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش غیر قانونی صنعتوں میں شامل ہے۔ یہی دولت مافیا کو طاقت دیتی ہے کہ وہ پولیس، کسٹمز، جیلوں، سیاست دانوں اور عدالتی اہلکاروں تک رسائی حاصل کرے۔ تجارت صرف ایک مجرمانہ سرگرمی نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی، سیاسی اور سماجی نظام بن چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ٹرانس نیشنل آرگنائزڈ کرائم یعنی سرحدوں سے ماورا منظم جرائم میں منشیات، منی لانڈرنگ، اسلحہ، انسانی اسمگلنگ اور سیاسی کرپشن ایک دوسرے سے جڑی ہوئی کڑیاں ہیں۔ یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ جب ڈرگ مافیا قانون نافذ کرنے والے اداروں، عدلیہ، سیاست دانوں اور مالیاتی نظام میں اثر و رسوخ حاصل کر لیتا ہے تو ریاست کے اندر ایک “متوازی حکومت” وجود میں آ جاتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں جرم صرف بڑھتا نہیں بلکہ ریاستی ڈھانچے کا حصہ بن جاتا ہے۔"کمزور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور کرپشن منشیات کی غیر قانونی مارکیٹ کو زندہ رکھتے ہیں۔" یہ جملہ اس پورے مسئلے کی بنیاد بیان کرتا ہے۔ جہاں قانون کمزور ہو، وہاں مافیا طاقتور ہو جاتا ہے۔ڈرگ مافیا کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ صرف اسلحہ یا پیسہ نہیں بلکہ ریاستی تحفظ ہے۔ یہ تحفظ براہِ راست یا بالواسطہ شکل میں حاصل کیا جاتا ہے۔جب سیاست جرم سے جڑ جائے تو عوام کا ریاست پر اعتماد ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔یہ حقیقت اب عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے کہ ڈرگ مافیا صرف ایک جرائم پیشہ گروہ نہیں بلکہ ایک منظم "متوازی طاقت" ہے جو قانون، سیاست، معیشت اور انصاف کے اداروں میں سرایت کر کے ریاست کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے۔بشکریہ جنگ
واپس کریں