
اس ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کیوں نہیں آتی؟ غیر سیاسی قوتوں،بینک ملازمین، آئی ایم ایف کے نوکروں کی جانب سے پے در پے بدلتی اور من پسند معاشی پالیسیاں اور عدم انصاف تو وجوہات ہیں ہی لیکن عدم سیاسی استحکام اس کی بڑی وجہ ہے۔ ملک عزیز کی آزادی یا بٹوارے سے اب تک کی تاریخ کا تقریباً نصف حصہ فوجی حکمرانی میں گزرا ہے اور ظاہر ہے یہ دور سیاسی عدم استحکام کا باعث بنا، جس کے نتیجے میں جمہوری اور معاشی نظام کمزور ہوا۔
اہم وزرائے اعظم جو برطرف یا اقتدار سے بے دخل ہوئے۔
خواجہ ناظم الدین (1953) گورنر جنرل غلام محمد نے برطرف کیا۔محمد علی بوگرہ (1955) گورنر جنرل نے برطرف کیا۔حسین شہید سہروردی (1957) صدر نے برطرف کیا۔فیروز خان نون (1958) صدر اسکندر مرزا نے برطرف کیا (مارشل لا لگنے سے پہلے)۔ذوالفقار علی بھٹو (1977) جنرل ضیاء الحق نے مارشل لا لگا کر برطرف کیا (بعد میں پھانسی دی گئی)۔محمد خان جونیجو (1988) جنرل ضیاء الحق نے برطرف کیا۔
بینظیر بھٹو (1990 اور 1996) صدر غلام اسحاق خان (1990) اور صدر فاروق لغاری (1996) نے آٹھویں ترمیم کے تحت برطرف کیا۔نواز شریف (1993، 1999، 2017) 1993: صدر غلام اسحاق خان نے برطرف کیا۔1999: جنرل پرویز مشرف نے فوجی بغاوت کر کے برطرف کیااور2017: سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں نااہل قرار دے کر برطرف کیا اسی طرح یوسف رضا گیلانی کو (2012) سپریم کورٹ نے نااہلی کا کیس چلا کر برطرف کیا۔ بدقسمتی سے یہ ہے ہماری سیاسی تاریخ اور جمہوری لیگیسی۔ باقی جنتا عرصہ نام کی جمہوری حکومتیں رہیں ان کی باگ ڈور غیر سیاسی قوتوں کی ہاتھوں میں رہی۔
قانونی احتساب ہو، واٹس ایپ والے عدالتی فیصلے ہوں یا سیاسی سازش، پسند اور ناپسند کی بنیاد پر سیاست دانوں کی نااہلیوں نے پاکستانی جمہوری نظام کو بند گلی میں کھڑا کر دیا ہے۔ ایک جانب قانون کی حکمرانی کی بات ہوتی ہے تو دوسری طرف منتخب نمائندوں کو عدالتی اور اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہٹانے کی روایت پر سوالات اٹھتے ہیں۔ پاکستانی سیاسی نظام75 برسوں سے مسلسل پیدا کردہ تنازعات کے گرد گھوم رہا ہے۔ آدھی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، ملک آئی ایم ایف چلا رہا ہے، نام مسلسل جمہوریت کا لیا جا رہا ہے اور انصاف آخری نمبروں پر براجمان ہے۔ اس ملک کو چلانے والے ہمارے تجربہ کار بزرگوں کو اب سمجھ لینا چاہیئے کہ بڑے کیک اور مضبوط معیشت کے لیئے نہ صرف سیاسی نظام کو آذادانہ بنانا ہو گا بلکہ سیاسی معاملات سے خود کو مکمل طور پر علیحدہ ہو کر ثابت کرنا ہو گا کہ اس ملک کو صرف سیاست دان چلا رہے ہیں نہ کہ غیر سیاسی قوتیں۔ کسی ملک کا دنیا میں باعزت مقام حاصل کرنے کا یہی ایک طریقہ اور قانون ہے۔
واپس کریں