ہمیں متبادل منصوبہ (پلان بی) بھی تیار رکھنا ہو گا۔طاہر سواتی

ٹرمپ کے بعد، روسی صدر پوٹین نے چین کا دورہ کیا اور اب وزیرِ اعظم شہباز شریف چین جا رہے ہیں۔ اس سے آپ ٹرمپ کے دورے کے اثرات کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔
اس دورے کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ ثالثی کی کوششوں میں پاکستان کے بعد قطر بھی شامل ہو گیا۔ پچھلے ہفتے قطر کے اعلیٰ سطحی وفد نے تہران کا دورہ کیا، جبکہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی ہفتے میں دو بار ایران کا سفر کر آئے ہیں۔
کل فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران جانے کے بعد قطر کا وفد بھی دوبارہ وہاں پہنچ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بار معاہدے کا ڈرافٹ قطر نے تیار کیا ہے، جو دراصل پاکستان کے ڈرافٹ کا ایک نرم ورژن ہے، جس میں ایران کو بہت زیادہ رعایتیں دی گئی ہیں۔ ترکی، مصر اور سعودی عرب کی مشاورت بھی اس میں شامل ہے۔
جبکہ امریکی وزیرِ خارجہ مارک روبیو نے کہا:
"اس معاملے میں بنیادی رابطہ کار پاکستان رہا ہے اور اس نے قابلِ تحسین کردار ادا کیا ہے۔ واشنگٹن کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اعلیٰ ترین سطح پر براہِ راست اور مسلسل رابطہ ہے۔"
امریکہ نے ایک مکمل اور حتمی معاہدے کی پیشکش کی ہے، جس کے مطابق ایران سمیت تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی ہو جائے گی، امریکہ ناکہ بندی ختم کر دے گا، پابندیاں ہٹا دی جائیں گی، اور ایران کے 25 فیصد اثاثے جو 25 ارب ڈالرز بنتے ہیں، جاری کر دیے جائیں گے۔ لیکن اس سب کے بدلے ایران کو افزودہ یورینیم حوالے کرنا ہو گا اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا پڑے گا۔
دوسری جانب، ایران بڑی چالاکی سے حتمی معاہدے کی بجائے وقتی طور پر بلا کو ٹالنا چاہتا ہے۔ اس عارضی معاہدے کے تحت ایران چاہتا ہے کہ پابندیاں ہٹا دی جائیں، منجمد اثاثے ریلیز کر دیے جائیں، ناکہ بندی فوری ختم ہو، اور اس کے بعد یورینیم پر بات چیت شروع کی جائے اور ہرمز پر بھتہ ٹیکس تسلیم کر لیا جائے۔
دوسری جانب، سپریم لیڈر کا ایک فرمان جاری ہوا ہے کہ یورینیم کبھی نہیں دی جائے گی۔ پاسداران اور سیاسی قیادت دونوں اس حوالے سے ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ یورینیم دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ ہماری شرائط مان لے یا اس کے نتائج کے لیے تیار ہو جائے۔ لیکن کیا امریکہ ایران کے اس جال میں آ جائے گا؟
ٹرمپ نے کل پھر کہا ہے:
"ہم یورینیم لے کر اسے ضائع کر دیں گے، لیکن ایران کے پاس کبھی نہیں رہنے دیں گے۔"
ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے کے آخر میں اپنے نیشنل گالف کلب کے دورے اور اپنے بیٹے کی شادی میں سرکاری طور پر شرکت بھی منسوخ کر دی ہے۔ انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ایرانی مسئلے کی وجہ سے پورے تین روزہ ویک اینڈ کے دوران وائٹ ہاؤس میں ہی رہیں گے۔
دو دن قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم اور صدر ٹرمپ کے درمیان طویل گفتگو ہوئی، جس میں متعدد بار تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ نیتن یاہو کو پاکستان اور قطر دونوں کی ثالثی پر تحفظات ہیں اور وہ کسی ایسے معاہدے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں یورینیم کے مسئلے کا حل شامل نہ ہو۔
ٹرمپ نے اتمامِ حجت کے لیے یہ حتمی ڈیل پاکستان، قطر، امارات، ترکی اور سعودی عرب کے حوالے کر دی ہے۔
اس سلسلے میں مارک روبیو نے کہا:
"ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ ہو جس کے تحت آبنائے کھلی رہے اور ایران اپنے جوہری عزائم ترک کر دے… لیکن ہمیں متبادل منصوبہ (پلان بی) بھی تیار رکھنا ہو گا۔"
اب ایرانی قیادت کے پاس ملک کو بچانے اور آگے لے جانے کا بہترین موقع ہے، لیکن وہ اپنی انا اور طاقت کے زعم میں بڑی غلطی کرنے جا رہے ہیں۔ البتہ اس کے بعد جو جنگ شروع ہو گی، شاید اِن ممالک کے پاس اسے روکنے کا کوئی جواز بھی نہیں ہو گا۔
غالباً یہی ہے کہ ایامِ حج تک مذاکرات کا سلسلہ چلتا رہے گا،لیکن حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔
واپس کریں