مہر اشتیاق احمد
ماہِ ذوالحجہ کا چاند نظر آتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں ایک خاص قسم کا جوش و جذبہ اور ایمانی خوشی لہرانے لگتی ہے۔ عیدالاضحیٰ ، جسے ہم عام زبان میں بڑی عید بھی کہتے ہیں، صرف ایک روایتی تہوار یا خوشی منانے کا دن نہیں ہے ۔ یہ دن دراصل تاریخِ اسلام کی اس عظیم اور بے مثال قربانی کی یادگار ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اللہ رب العزت کے حکم پر دی تھی ۔ باپ نے بیٹے کی گردن پر چھری پھیرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی اور بیٹے نے بھی تسلیم و رضا کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرتے ہوئے اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں پیش کر دیا۔ یہ وہ لازوال واقعہ ہے جس کی یاد تازہ کرنے کے لیے ہر سال دنیا بھر کے کروڑوں مسلمان سنتِ ابراہیمی پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی دیتے ہیں۔ پاکستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کی طرح ہمارے شہر سیالکوٹ میں بھی عید کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں، مویشی منڈیاں سج گئی ہیں اور ہر طرف گہما گہمی ہے ۔ لیکن اس برکتوں والے مہینے اور عید کی آمد پر ہمیں ایک حساس شہری کی حیثیت سے اپنے معاشرے ، اپنے اردگرد کے ماحول اور اپنے سماجی رویوں کا جائزہ لینے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ اس سال چارے کی قیمتوں ، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور عام مہنگائی کی وجہ سے قربانی کے جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ۔ منڈیوں میں بیوپاری بہت زیادہ قیمتیں مانگ رہے ہیں، جس کی وجہ سے غریب، دیہاڑی دار اور متوسط طبقے کے لوگ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ وہ لوگ جو سارا سال پیسے جمع کرتے ہیں تاکہ عید پر قربانی کر سکیں ، اب منڈیوں کے چکر کاٹ کاٹ کر مایوس لوٹ رہے ہیں کیونکہ ان کا بجٹ جانوروں کی قیمتوں سے میچ نہیں کر رہا۔ دوسری طرف، ہمارے معاشرے کا وہ متمول اور امیر طبقہ ہے جس کے لیے پیسہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اب قربانی جیسے خالص اور پاکیزہ عبادتی عمل میں بھی نمود و نمائش، دکھاوا اور فخر کا عنصر شامل ہو چکا ہے ۔ لوگ لاکھوں اور کروڑوں روپے کے جانور خریدتے ہیں اور پھر ان کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا ، یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر شیئر کرتے ہیں تاکہ دنیا بھر سے”واہ واہ“ سمیٹ سکیں ۔ قربانی کا مقصد صرف یہ نہیں ہے کہ ہم سب سے مہنگا یا سب سے بڑا جانور خرید کر لوگوں کو دکھائیں۔ اللہ تعالیٰ کا قرآن پاک میں واضح ارشاد ہے کہ ” اللہ کو تمہارے جانوروں کا گوشت یا خون نہیں پہنچتا، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔“ جب ہم اپنے امیر ہونے کا دکھاوا کرتے ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنے قیمتی جانوروں کی نمائش کرتے ہیں، تو اس سے ہمارے ان غریب اور سفید پوش پڑوسیوں یا رشتہ داروں کے دلوں کو شدید ٹھیس پہنچتی ہے جو اس سال قربانی کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دکھاوے سے عبادت کا ثواب ختم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اندر عاجزی پیدا کریں اور قربانی کو صرف اللہ کی رضا کا ذریعہ بنائیں۔
پچھلے کئی سالوں کا یہ تلخ تجربہ رہا ہے کہ عید کے پہلے ، دوسرے اور تیسرے دن ہمارے خوبصورت شہر اور گلی کوچے گندگی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ قربانی کرنے کے بعد لوگ جانوروں کا خون، اوجھڑی، گوبر اور دیگر فضلات کو کھلی سڑکوں پر، خالی پلاٹوں میں یا نالیوں کے کنارے پھینک دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف ہمارے دین کی تعلیمات کے خلاف ہے بلکہ یہ ایک بدترین سماجی جرم بھی ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ”صفائی آدھا ایمان ہے۔“ لیکن عید کے دنوں میں ہم اپنے اس آدھے ایمان کو سڑکوں پر بہا دیتے ہیں ۔ جانوروں کی الائشوں کو گلیوں میں چھوڑ دینے سے شدید تعفن اور بدبو پھیلتی ہے، مکھیاں اور مچھر پیدا ہوتے ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقے میں خطرناک بیماریاں پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر گرمی کے موسم میں یہ گندگی چند ہی گھنٹوں میں سڑ جاتی ہے اور لوگوں کا اپنے گھروں سے نکلنا یا راستوں سے گزرنا محال ہو جاتا ہے۔ بلدیاتی ادارے اور ضلعی انتظامیہ یقیناً صفائی کے لیے متحرک ہوتے ہیں اور عملہ بھی کام کرتا ہے، لیکن جب تک ہم بطور شہری اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے، دنیا کا کوئی بھی سرکاری نظام اکیلا پورے شہر کو صاف نہیں رکھ سکتا۔ ہمیں چاہیے کہ قربانی کے فوراً بعد خون پر مٹی یا چونا ڈالیں اور الائشوں کو مخصوص بڑے شاپنگ بیگز میں بند کر کے حکومت کی فراہم کردہ گاڑیوں یا مخصوص کچرا دانوں تک پہنچائیں ۔ اگر ہم سب مل کر یہ چھوٹی سی ذمہ داری اٹھا لیں، تو ہمارا سیالکوٹ اور پورا پاکستان عید کے دنوں میں بھی صاف ستھرا اور چمکتا ہوا نظر آئے گا۔
عیدالاضحیٰ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنی پسندیدہ چیز دوسروں کے لیے قربان کریں ۔ اس لیے اس عید پر اپنے فریزر بھرنے کے بجائے غریبوں کے دلوں کو خوشیوں سے بھریں۔ گوشت کی تقسیم میں سب سے پہلا حق ان سفید پوش رشتہ داروں اور پڑوسیوں کا ہے جو اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے لیکن اندر ہی اندر وہ محرومی کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمیں خود آگے بڑھ کر، عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے، ان کے گھروں تک گوشت پہنچانا چاہیے تاکہ وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ عید کی خوشیاں منا سکیں۔ یہ عید ہمارے لیے ایک بہت گہرا فکری اور اصلاحی پیغام لے کر آتی ہے۔ قربانی صرف ایک چوپائے کے گلے پر چھری پھیرنے اور اس کا گوشت بانٹنے کا نام نہیں ہے۔ یہ دراصل اس بات کا عہد ہے کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے اپنی انا، اپنے تکبر، حسد ، جھوٹ ، نفرت اور نفسانی خواہشات کو بھی قربان کریں گے۔ آج ہمارا پیارا ملک پاکستان جن معاشی، سیاسی اور سماجی بحرانوں سے گزر رہا ہے، ان کا واحد حل اسی ابراہیمی جذبے کو اپنے اندر زندہ کرنے میں چھپا ہے۔ اگر ہم سب مل کر اپنے ذاتی مفادات کو ملکی و قومی مفادات پر قربان کرنا سیکھ لیں، تو ہمارے آدھے سے زیادہ مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔
آئیں اس عیدالاضحیٰ پر سچے دل سے عہد کریں کہ ہم نہ صرف سنتِ ابراہیمی کو ظاہری طور پر زندہ کریں گے، بلکہ اس کی اصل روح کو ۔۔۔۔۔
واپس کریں
مہر اشتیاق احمد کے دیگرکالم اور مضامین