
گھوڑے کی آنکھوں پر لگایا جانے والا“کھپا”یا“بلائنڈر”صرف ایک چمڑے کا ٹکڑا نہیں، بلکہ نفسیاتی حکمتِ عملی ہے۔ مقصد یہ کہ گھوڑا اپنے اردگرد کے مناظر کو کم یا پھر نا دیکھے تاکہ اس کی توجہ صرف سامنے کے راستے پر رہے۔ وہ سوال نہ کرے، ادھر اُدھر نہ دیکھے، بس چلتا رہے۔آج کے دور میں یہی مثال ہمارے میڈیا، سیاست اور ہمارے سماجی نظام پر بھی لاگو ہے۔
انسان کو جسمانی کھپا تو نہیں، لیکن ذہنی کھپا ضرور پہنایا گیا ہے۔جو کئی شکلوں میں ہے۔مثلاً عوام کومسلسل ایک ہی قسم کی خبریں دکھانا،اصل مسائل سے ان کی توجہ ہٹا دینا،عوام کو جذباتی بحثوں میں الجھائے رکھنا،خوف، نفرت یا ہیجان پیدا کرنا اورسوشل میڈیا کے الگورتھمز کے ذریعے صرف پسندیدہ مواد دکھانا۔یوں عوام یہی سمجھتے ہیں کہ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں، جبکہ حقیقت میں اُن کی نظر محدود کی جا رہی ہوتی ہے۔
اگر ہمارا میڈیا صرف وہی دکھائے جو طاقتور طبقے چاہتے ہیں، تو عوام آہستہ آہستہ سوچنے کے بجائے صرف ردِعمل دینا شروع کر دیتے ہیں۔ پھر لوگ تحقیق کم اور تقلید زیادہ کرتے ہیں۔ عوام خبر کی سچائی سے زیادہ اُس کے شور سے متاثر ہوتے ہیں۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب عوام تنقیدی سوچ چھوڑ دیں۔ اگر عوام الناس مختلف ذرائع سے معلومات لیں، سوال کریں، پڑھیں، تحقیق کریں اور اختلافِ رائے کو برداشت کریں، تو ذہنی“کھپا”کمزور پڑ سکتا ہے۔
آزاد ذہن وہی ہے جوصرف سن کر یقین نہ کرے،ہر بات کے دونوں پہلو دیکھے،جذبات کے بجائے عقل سے فیصلہ کرے، عوام اپنے پسندیدہ لیڈروں کی بے جا واہ واہ کرتے ہوئے انہیں سر پر نہ بٹھائیں اور سچ کی تلاش جاری رکھیں۔
اصل آزادی صرف جسم کی نہیں، سوچ کی آزادی ہوتی ہے۔
واپس کریں