پاکستان میں بے قابو شہری پھیلاؤ سے خوراک کی قلّت کا خدشہ

ورلڈ بینک کے شہری آبادی کے ایک جائزے کے مطابق پاکستان کے سرکاری انتظامی ریکارڈز میں صرف 39 فیصد رقبہ شہری علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ تاہم سیٹلائٹ بنیادوں پر آبادی کی کثافت کی نقشہ سازی ظاہر کرتی ہے کہ تقریباً 88 فیصد آبادی اب ایسے علاقوں میں رہتی ہے جنہیں شہری خصوصیات والے علاقے کہا جا سکتا ہے، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ رئیل اسٹیٹ کی سرگرمیاں تیزی سے دیہی علاقوں کی زرعی زمین تک پھیل رہی ہیں۔
ایک عالمی جریدے "سسٹینیبلٹی” میں 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق لاہور کا تعمیر شدہ رقبہ 2013 سے 2023 کے درمیان بڑھ کر 966.8 مربع کلومیٹر تک پہنچ گیا، جبکہ اسی مدت میں مجموعی پیداواری زمین 1453 سے کم ہو کر 788 مربع کلومیٹر رہ گئی۔ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر اور جغرافیائی معلوماتی نظام کے تجزیے پر مبنی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس تبدیلی کی بڑی وجہ منظم ہاؤسنگ ڈویلپمنٹ ہے۔ رپورٹ میں ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی کے 9 فیز، بحریہ ٹاؤن، لیک سٹی اور 372 دیگر ہاؤسنگ سوسائٹیز کا واضح ذکر کیا گیا ہے، جنہوں نے مل کر شہر کے نواحی زرعی علاقوں کو رہائشی اور شہری رقبے میں تبدیل کر دیا ہے۔
کامران لاشاری، سابق چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور سابق ڈائریکٹر جنرل والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی، کہتے ہیں کہ اس بحران کی بنیادی وجہ لینڈ زوننگ کا کمزور نظام ہے۔ ان کا کہنا ہے، "پاکستان میں زمین کی درست طریقے سے تقسیم نہیں کی گئی۔ ہمیں فوری طور پر سخت زوننگ کی ضرورت ہے تاکہ واضح ہو کہ کون سی زمین زرعی ہے اور کون سا شہری علاقہ۔ لوگوں کو صرف رہنا نہیں ہے، انہیں کھانا بھی ہے۔ یہ عام نظر آ رہا ہے کہ گرین بیلٹس مکمل طور پر ختم ہو گئی ہیں۔ ان کی جگہ یا تو شادی ہال بن گئے ہیں یا ہاؤسنگ سوسائٹیز۔”
ہاؤسنگ سوسائیٹیز کا ملک گیر رجحان
یہ تبدیلی صرف لاہور یا بڑے کارپوریٹ منصوبوں تک محدود نہیں۔ غیر منظم آبادیاتی پھیلاؤ اور منظم ہاؤسنگ اسکیموں دونوں نے کراچی، اسلام آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں میں سبز زرعی علاقوں کو کم کیا ہے۔
کراچی میں مقیم اربن پلاننگ کے ایک ایکسپرٹ محمد توحید کہتے ہیں کہ شہر کے تاریخی زرعی اور باغات کے علاقے ختم ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے، ”کراچی میں کبھی وسیع باغات ہوا کرتے تھے۔ باغ کورنگی، جعفر باغ اور گٹر باغیچہ جیسے علاقے جو پہلے سبزے اور پھلدار درختوں سے بھرے تھے، اب مکمل طور پر گھنے کنکریٹ کے جنگلوں میں بدل چکے ہیں۔‘‘
محمد توحید کا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر رسمی پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ بڑے ہاؤسنگ پراجیکٹس نے گرین ایریاز کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ”بحریہ ٹاؤن کراچی جیسے بڑے منصوبے بنیادی طور پر ایسی زمین پر بنائے گئے جو پہلے مویشی پالنے اور دیہی سبز علاقوں کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اب ملیر دریا کے ساتھ ایک بڑی سڑک کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے جو ڈی ایچ اے کے بڑے منصوبوں کو بحریہ ٹاؤن سے جوڑے گی، اور اس کے نتیجے میں دریا کے ساتھ موجود سبز علاقے بھی تجارتی استعمال میں آ جائیں گے۔
توحید اس موضوع کے حساس پہلو کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”کچھ طاقتور گروہ ایسے ہیں جو زرعی زمین کے خاتمے کے ذمہ دار ہیں، لیکن ان کے بارے میں کھل کر بات کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔‘‘
علاقائی شناختوں اور پھلوں کا بتدریج خاتمہ
فارم لینڈ کو ہاؤسنگ پروجیکٹس میں تبدیل کرنے کی سب سے نمایاں مثال جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں دیکھی جا رہی ہے، جہاں ہزاروں ایکڑ انتہائی زرخیز زرعی زمین اور آموں کے باغات رہائشی پلاٹس میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
ملتان کے ایک سماجی کارکن ظہور جویا، جو ایک انسانی ترقی کی تنظیم چلا رہے ہیں، کہتے ہیں کہ اس کا اثر معاشی اور ثقافتی دونوں سطحوں پر پڑ رہا ہے۔ ظہور کا کہنا ہے، ”ہزاروں زرعی مزدور، جن میں دیہی خواتین بھی شامل ہیں، اپنی روزی روٹی کھو رہے ہیں کیونکہ باغات ختم کیے جا رہے ہیں۔ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی، سٹی ہاؤسنگ اور رائل آرچرڈ جیسی بڑی سوسائٹیز نے ہزاروں ایکڑ تاریخی آم کے باغات کو کنکریٹ میں بدل دیا ہے۔ صرف اکیلے ڈی ایچ اے نے اپنے منصوبے کے لیے 9000 ایکڑ سے زیادہ زمین حاصل کی ہے اور اس کی توسیع جاری ہے۔‘‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل زمین کے استعمال کے حوالے سے زوننگ قوانین اور ورٹیکل کنسٹرکشن کو رواج دینا ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل زمین کے استعمال کے حوالے سے زوننگ قوانین اور ورٹیکل کنسٹرکشن کو رواج دینا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل زمین کے استعمال کے حوالے سے زوننگ قوانین اور ورٹیکل کنسٹرکشن کو رواج دینا ہے۔
کیا پاکستان میں اتنی ہاؤسنگ سوسائیٹیز کی ضرورت بھی ہے؟
شہری منصوبہ سازوں کے مطابق پاکستان میں ہاؤسنگ کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ زیادہ تر ضرورت کے بجائے سرمایہ کاری اور قیاس آرائی پر مبنی ہے۔
شہری منصوبہ بندی کے ماہر عامر سجاد سید کہتے ہیں، ”ہاؤسنگ یقیناً ضروری ہے، لیکن یہ ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک مکمل قیاس آرائی پر مبنی رئیل اسٹیٹ بوم ہے۔ بڑے پیمانے پر پلاٹس اصل رہائش کے لیے نہیں بلکہ مالی سرمایہ کاری کے طور پر رکھے جا رہے ہیں۔ "یہ پلاٹس زیادہ تر امیر طبقے کے لیے بنائے جاتے ہیں جو انہیں جائیداد کے طور پر رکھتے ہیں تاکہ ان کی قیمت بڑھتی رہے، نہ کہ ان پر فوری گھر بنائے جائیں۔‘‘
عامر سجاد اس مسئلے کے حل لیے زمین کی قدر پر ٹیکس کے نفاذ کی تجویز دیتے ہیں تاکہ غیر ضروری خرید و فروخت کو روکا جا سکے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھی اسی رجحان کا شکار ہے، جہاں ہاؤسنگ کالونیاں مارگلہ کی پہاڑیوں اور نواحی زرعی زمینوں کی طرف پھیل رہی ہیں۔ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد میں بھی ایک بڑا ڈویلپر بن چکی ہے، جو اب دس سے زائد فیزز پر مشتمل ہے۔
کیا اس سلسے کو روکا جا سکتا ہے ؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا واحد حل زمین کے استعمال کے حوالے سے زوننگ قوانین اور ورٹیکل کنسٹرکشن کو رواج دینا ہے لیکن اس پر عمل درآمد ثقافتی اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کی وجہ سے مشکل ہے۔
کامران لاشاری کہتے ہیں کہ سماجی رویے بھی اس پھیلاؤ کو بڑھا رہے ہیں۔ ”پاکستان میں لوگ اب بھی وسیع بنگلوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ سماجی مقابلے کا مسئلہ ہے، جب ایک شخص بڑا گھر بناتا ہے تو دوسرا اس سے بڑا بنانے کی کوشش کرتا ہے۔‘‘
کامران لاشاری کا ماننا ہے کہ پائیدار حل کے لیے تمام بڑے شہری اداروں،کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی، لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی، کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر شہری ترقی کے قوانین ازسرنو ترتیب دینا ہوں گے، لیکن موجودہ صورتحال میں اس پر عمل درآمد مشکل دکھائی دیتا ہے۔
بشکریہ: ڈی ڈبلیو
واپس کریں