بادشاہ عادل
برکس اپنے فطری ارتقا کی طرف گامزن ہے ؟ The five BRICS members – the acronym stands for Brazil, Russia, India, China, and South Africa ، یہ مخفف BRIC جو 2001 میں economist Jim O'Neill نے اپنی رپورٹ میں یہ ٹرم BRIC” استعمال کی تھی (Global Economics Paper No: 66). اس وقت برازیل، روس، چین اور انڈیا نے معاشی حوالے سے ترقی کی جس کے اثرات گلوبل معشیت پر نظر انے لگے۔ ان ممالک کے وزارء نے 1906 میں میٹنگ کا سلسلہ شروع کیا جو اک formal annual summits کی صورت میں 2009 تک جاری رہا ، دسمبر 2010 میں ساوتھ افریقہ بھی اس اتحاد میں شامل ہو گیا۔ یہ ممالک دنیا کی ٹوٹل ابادی کا 46% ہے اور37.3% گلوبل GDP پیدا کر رہے ہیں۔22-24 اگست 2023 کو BRICS کی پندرویں کانفرنس جونسن برگ ساوتھ افریقہ میں ہوئی جس میں de-dollarization ، de-colonialization اورBRICS کے اتحاد کو مزید ممالک تک پھلانے پر گفتگو ہوئی, ڈالر کی بجائے لوکل کرنسی میں تجارت شروع کرنے کا پلان ہوا۔ 2024تک ارجینٹنا، مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عریبیہ اور یوناٹیڈ امارات اس کے نئے ممبر بن گے اور دنیا کے مزید ممالک بھی اس کا اتحاد کا حصہ بننے گے۔ دنیا کی global power dynamic تبدیل ہو نے جا رہی ہے اور یہ اک بہت بڑی global economic transformation ہو گی جہاں Global North کی ابادی دنیا کی کل ابادی کے25% ہے اور G7,G8 کی ابادی 10% ہے جن کا GDP ، 29.9% ہے لیکن اب BRICS+ کا PPP یعنی purchasing power parity تقریبا 65 ٹریلین تک پہچ چکا ہے جو دنیا کے GDP کا 37.3% ہے اور اس وقت Global South میں 136 ممالک ہیں یعنی دنیا کی 85% کا حصہ ہے اسی طرح Global North میں 57 ممالک ہیں اور دنیا کی 15% ابادی ہے۔ ورلڈ بنک نے یہ Global North یہ پیمانہ رکھا کہ جس ملک کا GPD per capita income پندرہ ہزار ڈالر سے زیادہ ہو گا تو وہ Global North میں شامل ہو گا۔ او پیک کے ممالک بھی BRICS مین شمولیت سے دنیا کا تقریبا 46.35% کے oil reserves ہوں گے جس میں G7 کا شئر 3.9 % ہے اور یہ پیٹروڈالر کے لیے اک بہت بڑا جھٹکا ہے ۔ اسی طرح گندم کی کاشت میں 49% حصہ BRICS کا ہو گا جبکہ G7 کا 2021 میں حصہ 19.1رہا اور چاول میں 2.6% رہا جبکہ 55% بریس کا تھا ۔ اسی طرح global production of high-tech-critical metals میں تقریبا 79% المونیم کی پیداوار ہے جبکہ G7 کا حصہ 1.3% ہے ، 77% پلاٹینم کی پیداوار ہے جبکہ G7 کا حصہ 6.9% ہے۔ BRICS+ انڈسٹریل پیداوار کی 38.3% of total global industrial production ہے جبکہ G7 کا حصہ 30.5% ہے لیکن export میں G7 ابھی اگے ہے جہاں 28.8% کا شئیر ہے جبکہ 23.4% کے شئیرز BRICS+ کے ہیں لیکن جس طرح BRICS+ کا ارتقاء جاری ہے اگلے کچھ ہی سالوں میں ایشیا اک بڑی معاشی طاقت بن کر دنیا میں ابھرے گا ۔ دنیا Bi-Polar سے Uni-Polar اور اب multi-polar ہونے جا رہی ہے۔ دنیا میں نئے نئے ازاد اتحاد بنتے جا رہے ہیں اور پاکستان وہیں پر کھڑا ہے جہاں سے سفر شروع کیا تھا بلکہ وہاں سے بھی پیچھے جا رہا ہے۔ اج پاکستان کو اپنی foreign policy پر غور کرنا ہو گا ۔
واپس کریں