دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غضب للحق اور قومی سلامتی
محمد محسن خان ( راجپوت )
محمد محسن خان ( راجپوت )
پاکستان اس وقت داخلی سلامتی، علاقائی سفارت کاری اور معاشی استحکام کے ایک نہایت حساس مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں دہشت گردی کے نئے روپ، سرحد پار پراکسی جنگ اور جغرافیائی سیاست کی پیچیدہ بساط نے ریاستی حکمتِ عملی کو مزید ہمہ جہت بنا دیا ہے۔ ایسے ماحول میں وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ بیانات دراصل پاکستان کے اس نئے قومی بیانیے کی عکاسی کرتے ہیں جس میں عسکری طاقت، سیاسی استقامت، اقتصادی تحفظ اور علاقائی امن کو ایک مشترکہ قومی ترجیح کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ میں کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج اور صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں کے دوران دیے گئے پیغامات محض رسمی خطابات نہیں تھے بلکہ وہ پاکستان کی سلامتی، خارجہ حکمتِ عملی اور داخلی استحکام کے حوالے سے ایک واضح پالیسی سمت کا اظہار بھی تھے۔
وزیراعظم کی جانب سے “آپریشن غضب للحق” کے تسلسل اور افغان طالبان سے وابستہ دہشت گرد پراکسیز کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار دراصل اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اب دہشت گردی کو محض ایک داخلی امن و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک منظم سرحد پار چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں کالعدم ٹی ٹی پی اور بلوچستان میں سرگرم مسلح گروہوں کی کارروائیوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ خطے میں موجود بعض عناصر پاکستان کے داخلی استحکام کو کمزور کرنے کیلئے پراکسی وار کی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست اب دفاعی ردعمل کے بجائے پیشگی اور فیصلہ کن حکمتِ عملی کو ترجیح دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ وزیراعظم کا یہ کہنا کہ افغان طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے، دراصل ایک سفارتی انتباہ بھی ہے اور علاقائی ذمہ داریوں کی یاد دہانی بھی۔
یہ امر بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان نے ایک طرف دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے تو دوسری جانب ہمسایہ ممالک کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی اور علاقائی استحکام کی خواہش کا اعادہ بھی کیا ہے۔ یہی توازن دراصل جدید ریاستی حکمتِ عملی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان بخوبی جانتا ہے کہ جنوبی ایشیا اور خطے کے وسیع تر جغرافیے میں مستقل کشیدگی نہ صرف سلامتی بلکہ معاشی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ چنانچہ اسلام آباد ایک ایسے ماڈل کی تشکیل چاہتا ہے جس میں طاقت اور سفارت کاری بیک وقت متحرک رہیں۔ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے تناظر میں وزیراعظم کا یہ کہنا کہ پاکستان نے ذمہ دارانہ اور دانشمندانہ رویہ اختیار کیا، دراصل عالمی برادری کو یہ پیغام دینا تھا کہ پاکستان خطے میں تصادم نہیں بلکہ استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اس خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے خطاب نے اس قومی بیانیے کو مزید مضبوط کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی پراکسیز، منفی پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ کے ذریعے پاکستان کی ترقی کا راستہ نہیں روکا جاسکتا۔ جدید جنگ اب صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ اطلاعات، ڈیجیٹل بیانیوں، سائبر اسپیس اور معاشی دباؤ کے میدانوں میں بھی برپا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ملٹی ڈومین آپریشنز، ابھرتی ٹیکنالوجیز اور تینوں افواج کے درمیان مربوط ہم آہنگی کی اہمیت پر زور دیا۔ درحقیقت دنیا کی بدلتی ہوئی عسکری حقیقتیں اس امر کی متقاضی ہیں کہ روایتی دفاعی تصورات کو نئی جہتوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ پاکستان کی عسکری قیادت اس تبدیلی کو نہ صرف محسوس کر رہی ہے بلکہ اس کے مطابق ادارہ جاتی تیاری بھی کررہی ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے حکومتی اور عسکری قیادت کا مؤقف خصوصی توجہ کا حامل ہے۔ بلوچستان محض ایک صوبہ نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی مستقبل، معدنی وسائل اور علاقائی رابطہ کاری کا بنیادی مرکز بن چکا ہے۔ ریکوڈک سمیت معدنیات کے متعدد منصوبے مستقبل قریب میں پاکستان کی معاشی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مگر ان منصوبوں کی کامیابی کا انحصار امن و استحکام پر ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے معدنیاتی راہداری، اضافی سیکورٹی ونگز، سرویلنس گرڈ اور سرحدی چیک پوسٹس کے قیام کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ ریاست اب اقتصادی سلامتی کو قومی سلامتی کے ساتھ منسلک کرچکی ہے۔ دراصل سرمایہ کاری وہاں آتی ہے جہاں ریاستی رٹ مضبوط، ماحول محفوظ اور پالیسی تسلسل واضح ہو۔
یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ بلوچستان میں شورش صرف سیکورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، معاشی اور سیاسی محرومیوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ اسی لیے وزیراعظم نے بلوچستان کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے، انہیں بااختیار بنانے اور مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے پر زور دیا۔ جدید دنیا میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ صرف اسلحے سے نہیں جیتی جاتی بلکہ تعلیم، روزگار، سیاسی شمولیت اور سماجی انصاف بھی اس معرکے کے بنیادی ہتھیار ہوتے ہیں۔ اگر نوجوانوں کو امید، مواقع اور شناخت میسر آجائے تو شدت پسندی کے بیانیے خودبخود کمزور پڑنے لگتے ہیں۔
پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے بیک وقت دہشت گردی، معاشی دباؤ، علاقائی کشیدگی اور اطلاعاتی جنگ جیسے متنوع چیلنجز کا سامنا ہے۔ تاہم ریاستی قیادت کے حالیہ بیانات سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ پاکستان اپنی سلامتی، خودمختاری اور اقتصادی مستقبل کے حوالے سے ایک زیادہ واضح، متحرک اور ہمہ گیر حکمتِ عملی اختیار کرچکا ہے۔ اگر یہی تسلسل سیاسی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے ساتھ برقرار رہا تو پاکستان نہ صرف داخلی انتشار پر قابو پاسکتا ہے بلکہ خطے میں ایک مضبوط، مستحکم اور مؤثر ریاست کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرسکتا ہے۔
واپس کریں