دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
”شاباشیاں،کشکول اورسفارت کاری“
No image سابق فیلڈ مارشل ایوب خان کی برطانیہ و امریکہ یاترا، ریڈ کارپٹ اور شاہی پروٹوکول ملا، امریکہ روس کی سرد جنگ جس میں ہم آلہ کار بنے،9/11 کے بعد امریکی ہاں میں ہماری”ہاں“ اور افغان پالیسی میں اچانک بڑی اور حیران کن تبدیلی بلکہ فوری کا یوٹرن، مغرب بشمول برطانیہ و امریکہ خوش ہوئے اوربدلے میں ڈالرز ملے، پاک بھارت حالیہ جنگ میں پاکستان اور بلخصوص موجودہ فیلڈ مارشل اور ہماری جنگی صلاحیتوں کی عالمی تعریفیں، حالیہ امریکہ و ایران جنگ میں ہماری ثالثی اور مدبرانہ کردار کی عالمی اور بلخصوص عرب، مغرب ا ور امریکی صدور کی بار بار کی شاباشی۔۔۔ لیکن اس سارے عرصہ میں بیرونی قرضوں میں ڈوبا ہوا پاکستان مالی مشکلات کا شکار رہا اور ہمیں شاندار قوم کے شاندار لیڈرز کا خطاب دے کر شاباشیاں دینے والوں کو اتنی توفیق نہ ہوئی کہ ہمیں بھیک یا سودی قرضے دینے کے بجائے ہمارے ساتھ باعزت طور پر تجارتی معاہدے ہی کر لیں تا کہ ہم بھی اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر چلنے پھرنے کے قابل ہو سکیں۔ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ،دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا۔۔۔
باقی جو اربوں ڈالرز ملے تھے، انہیں عوام کے لیئے شجر ممنوعہ قرار دے دیا گیا تھا۔اسی حوالے سے جب شہید بے نظیر بھٹو نے سوال اٹھایا تھا کہ سرد جنگوں کے دوران یا دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے ملنے والے اربوں ڈالرز کا حساب پارلیمنٹ میں دیا جائے تو ان کے اس سوال کو ناپسندیدہ قرار دے کر اسے قومی سلامتی کے منافی قرار دیا گیا۔
مختصر کہ آج بھی ملکِ عزیز معاشی بحران کا شکار اور کشکول بدستور ہمارے ہاتھوں میں ہے اور ہم عالمی سود خور اور ساہو کار آئی ایم ایف کے سامنے اپنی رہ سہی ناک رگڑ رہے ہیں، حالانکہ ہمارے سنجیدہ سیاسی حکمرانوں نے کئی مرتبہ اہل مغرب اور اہلِ عرب سے کہا کہ پاکستان کو ایڈ نہیں ٹریڈ چاہیئے۔
امر واقع یہ ہے کہ ہماری تعریفیں کرنے اور ہمیں شاندار اور گریٹ کہنے والے مذکورہ ممالک کے ساتھ ہمارا کوئی بڑا تجارتی معاہدہ نہیں کہ جس باعث ملک میں پاونڈز،یورو یا ڈالرز آ سکیں لیکن الحمد اللہ اور ما شا اللہ سے ہماری”تعریفیں اور شاباشیاں“آج بھی جاری و ساری ہیں لیکن ہم پر اعتبار کرنے کو ان میں سے کوئی ایک ملک بھی تیار نہیں،وجہ وہی کہ ہماری پے در پے بدلتی معاشی پالیساں،سیاسی عدم استحکام،عدم عدالتی انصاف اور حکومتی سرپرستی میں میگا کرپشن ہے، ایسے میں بیرونی سرمایہ کاری کہاں سے آئے گی؟؟؟
جہاں تک ایران کی بابت آج کل سوشل میڈیا پر یہ بکواس کی جا رہی ہے کہ ہماری اخلاقی اور سفارتی مدد کے با وجود ایران بھارت کے لیئے ہمدردی کا جذبہ رکھتا ہے تواس پر اتنا کہنا کافی ہو گا کہ ہم ”ہمالیہ سے بلند“چین دوستی کی مثال تو دیتے ہیں لیکن حال یہ ہے کہ امریکی خوف اور ڈر کی وجہ سے چین کے سی پیک منصوبے کو آگے چلانے سے ہم قاصر ہیں اور اس بات کا جواب یوں دیتے ہیں کہ ہم امریکہ اور چین کو برابر ساتھ لے کر چل رہے ہیں،کسی ایک کوبھی ناراض نہیں کر سکتے۔
ایران سے سستی گیس اور سستا تیل خریدنے کی ہمت نہیں کر سکتے(اب کوئی ایران پر عالمی پابندیوں کا لچ نہ تلے) لیکن امریکہ اور چین دوستی میں ”بیلنس“ یا برابری ہمیں عزیز ہے۔ ایسی”برابری“ ہمارے ہمسایہ ملک ایران کو بھارت کے ساتھ کیوں نہیں عزیز ہو سکتی کہ وہ پاکستان اور بھارت یا پھر جس مرضی ملک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو ”بیلنس“ رکھے۔ ہم نے ہی سفارتی تعلقات کو ”بیلنس“کرنے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے کیا؟
واپس کریں