محمد محسن خان ( راجپوت )
غزہ اس وقت محض ایک محصور خطہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے اُن دردناک ابواب میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے جہاں جنگ صرف بارود اور میزائلوں سے نہیں لڑی جاتی بلکہ خوراک، پانی، ادویات اور ایندھن کی بندش کو بھی ایک خاموش ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں آٹے اور ایندھن کی شدید قلت نے غزہ کے لاکھوں فلسطینیوں کو ایک ایسے کرب ناک مرحلے میں دھکیل دیا ہے جہاں زندگی کی بنیادی ترین ضرورت، یعنی روٹی، بھی ایک نایاب شے بنتی جا رہی ہے۔ بیکریوں کے باہر طویل قطاریں، خالی ہاتھ واپس لوٹتے شہری، آٹے کی محدود ترسیل اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اس حقیقت کی غمازی کر رہی ہیں کہ غزہ ایک مرتبہ پھر شدید انسانی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔
عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ کو روزانہ تقریباً چار سو پچاس ٹن آٹے کی ضرورت ہوتی ہے، مگر موجودہ حالات میں بمشکل دو سو ٹن آٹا ہی علاقے تک پہنچ پا رہا ہے۔ یہ فرق محض اعداد و شمار کا تفاوت نہیں بلکہ لاکھوں بھوکے پیٹوں، بے بس ماؤں اور غذائی عدم تحفظ کے شکار بچوں کی تشویش ناک داستان ہے۔ بیکریوں کی پیداوار میں کمی نے روزمرہ زندگی کے معمولات کو مفلوج کر دیا ہے۔ کئی خاندان صبح سے شام تک روٹی کے حصول کے لیے قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، مگر اکثر اُنہیں ناکامی اور محرومی کے ساتھ واپس لوٹنا پڑتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ غزہ میں خوراک اب انسانی حق نہیں بلکہ ایک ناپید ہوتی نعمت بنتی جا رہی ہے۔
اس تمام صورتحال کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ خوراک کی یہ قلت کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے محاصرے کی پیداوار ہے جس نے انسانی زندگی کے بنیادی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ اسرائیلی پابندیوں نے نہ صرف امدادی سامان کی ترسیل محدود کر دی ہے بلکہ ایندھن کی فراہمی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ نتیجتاً بیکریاں اپنے جنریٹرز چلانے سے قاصر ہوتی جا رہی ہیں۔ جنریٹر آئل اور ایندھن کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ اُن اخراجات کو کئی گنا بڑھا چکا ہے جو پہلے ہی جنگ اور تباہی کے باعث کمزور معیشت پر ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔
غزہ کی موجودہ صورتحال ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جدید دنیا کے تمام تر انسانی حقوق کے دعوے آخر کس حد تک موثر ہیں۔ بین الاقوامی ادارے، عالمی طاقتیں اور انسانی حقوق کے علمبردار ممالک بارہا انسانی ہمدردی کے بیانات جاری کرتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں فلسطینی آج بھی بنیادی غذائی تحفظ سے محروم ہیں۔ عالمی خوراک پروگرام کی امدادی بیکریوں کو بھی محدود مقدار میں آٹا فراہم کیا جا رہا ہے، جس کے باعث امدادی سرگرمیوں کی استعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بین الاقوامی امدادی نظام بھی محاصرے اور سیاسی رکاوٹوں کے سامنے بے بس ہو جائے تو پھر انسانی بقا کی ضمانت کون دے گا؟
اس بحران کے معاشی اثرات بھی انتہائی گہرے ہیں۔ غزہ میں پہلے ہی بے روزگاری کی شرح غیرمعمولی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ہزاروں خاندان اپنی آمدنی سے محروم ہیں، جبکہ اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایسے حالات میں روٹی جیسی بنیادی ضرورت کا مہنگا ہونا محض اقتصادی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی المیہ ہے۔ جب ایک باپ اپنے بچوں کے لیے چند روٹیاں خریدنے کی استطاعت کھو بیٹھے تو اس کے اثرات صرف بھوک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کی نفسیات، اخلاقیات اور سماجی استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قحط صرف خوراک کی کمی سے پیدا نہیں ہوتے بلکہ سیاسی بے حسی، معاشی ناکہ بندی اور انسانی ترجیحات کی ناکامی بھی اُنہیں جنم دیتی ہے۔ غزہ میں جن حالات نے جنم لیا ہے، وہ اسی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔ اگر خوراک، ایندھن اور طبی امداد کی فراہمی میں فوری بہتری نہ آئی تو یہ بحران محض قلت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایک وسیع انسانی المیے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی امدادی ادارے پہلے ہی متعدد مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ غزہ غذائی تباہی کے انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، مگر اس کے باوجود صورتحال میں کوئی بنیادی تبدیلی دکھائی نہیں دے رہی۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ انسانی ارادوں کو توڑ کر بھی مسلط کی جاتی ہیں۔ غزہ کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل محاصرے، بمباری، بے گھری اور معاشی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، مگر اس کے باوجود اُن کی بقا کی جدوجہد جاری ہے۔ روٹی کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑا ایک فلسطینی دراصل صرف خوراک حاصل نہیں کر رہا بلکہ وہ اپنی زندگی، شناخت اور وجود کے حق کے لیے خاموش مزاحمت بھی کر رہا ہے۔
عالمی سیاست کے موجودہ منظرنامے میں غزہ کا بحران محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ بین الاقوامی ضمیر کے امتحان کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اگر دنیا جدید تہذیب، انسانی حقوق اور عالمی انصاف کے دعووں میں واقعی سنجیدہ ہے تو اُسے غزہ کے انسانی المیے کو صرف سفارتی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کی طرف بڑھنا ہوگا۔ کیونکہ بھوک کی اذیت نظریاتی مباحث سے ختم نہیں ہوتی، اور نہ ہی قحط زدہ بچوں کی آنکھوں میں امید محض قراردادوں سے واپس آتی ہے۔ غزہ آج دنیا سے صرف امداد نہیں مانگ رہا بلکہ وہ انسانیت کے اجتماعی ضمیر سے یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا جدید دنیا میں بھی روٹی ایک سیاسی ہتھیار بنی رہے گی؟
واپس کریں
محمد محسن خان ( راجپوت ) کے دیگرکالم اور مضامین