دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
حکومت کی بھول لیکن عوام نہیں بھولتے
No image اگر حکمرانِ وقت یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کے نزدیک مہنگائی کم اور پٹرول،بجلی،گیس کو سستا کر کے عوام پھر انہیں ووٹ دے کر اقتدار میں لے آئیں گے تو یہ بہت بڑی بھول ثابت ہو گی۔عوام موجودہ معاشی مشکلات اور مالی پریشانیاں نہیں بھولیں گے لیکن حکمران حلقوں میں ایک بار یہی پرانی سوچ سر اٹھا رہی ہے۔ حکومت کے مشیر اور وزراء اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کے قریب مہنگائی پر کچھ کنٹرول کر لیا جائے، پٹرول کی قیمتوں میں کمی کر دی جائے تو پبلک خوش ہو کر پھر سے انہیں ووٹ دے گی اور وہ اقتدار کے جھولے لیں گے۔
امر واقع یہ ہے کہ مذکورہ سوچ نہ صرف ایک بڑی غلط فہمی ہے، سیاست نہیں،ریاست بچانے والے موجودہ وزیر اعظم صاحب (عالمی ثالث) کا غالباً یہ پانچوں بجٹ ہو گا لیکن انہی پچھلے چند سالوں سے عوام نے مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بل، اور پٹرول کی آسمان چھوتی قیمتیں دیکھی ہیں اور یہ کوئی عارضی تکلیف نہیں۔ گھریلو خواتین نے سبزی، دال، آٹا اور کوکنگ تیل کی قیمتیں دیکھ کر راتوں کو آنسو بہائے، اسی کشمکش میں خواتین نے اپنے زیور تک بیچے۔ مزدور دن بھر کی محنت کے بعد بھی گھر کا چولہا جلانے میں قاصر رہا جبکہ درمیانہ یا سفید پوش طبقہ اپنے بچوں کی تعلیم اور علاج کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ سب کچھ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ لاکھوں خاندانوں کی آپ بیتی ہے۔ اگرحکومتِ وقت الیکشن کو قریب دیکھ کر چند ماہ کے لیے ریلیف پیکجز کا اعلان کرتی ہے تو یہ صرف وقتی اور دو نمبرمرہم لگانے کے مترادف ہو گا۔
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ یہ نام نہاد ریلیف مستقل نہیں، بلکہ ووٹ خریدنے کی ایک حکمت عملی ہو گی یعنی جیسے ہی الیکشن ڈرامہ گزر جائے گا، مہنگائی اور لوٹ مار کی پرانی کہانی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ مہنگائی واپس آئے گی، ٹیکس مذید بڑھائے جائیں گے اور عوام پھر سے وہی معاشی پریشانیوں کا بھاری بھرکم بوجھ اٹھانے پر مجبور ہو ں گے۔
عوام ضرورت سے زیادہ باشعور ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا، ذاتی تجربات اور خاندانی مشکلات کی وجہ سے ان کے پاس ماضی کا ریکارڈ موجود ہے۔ وہ بھول نہیں سکتے کہ جب ان کے بچوں کے سکول فیس ادا نہ ہو سکیں، جب والد کی دوائی نہ خرید سکیں، جب ماوں نے گھروں کا خرچ چلانے کے لیے اپنے زیور بیچے، اور جب اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے اپنا ملک اور گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ زخم اتنی آسانی سے نہیں بھرتے۔
موجودہ حکمرانوں کے دور میں رگڑے پے رگڑے کھا کھا کر پاکستانی عوام کی یادداشت اب پختہ ہو چکی ہے۔ وہ اس بات کو یاد رکھتے ہیں کہ کس سیاسی پنڈت نے عوام کے زبوں و ابتر حالات بہتر کرنے کی سنجیدہ کوشش کی اور کس سیاسی لیڈر نے ووٹ کے نام پر نوسربازی اور جھوٹے دعوں کی سیاست بازی کی۔
کھلی حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے پچیس کروڑ عوام اب صرف عارضی ریلیف نہیں، بلکہ مستقل پالیسیوں، صحیح معاشی اصلاحات، بدعنوانی اور کرپشن پر لگام اور روزگار کے مواقع چاہتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی عوام کی خدمت کرنا چاہتی ہے تو اسے الیکشن سے زرا پہلے نہیں، بلکہ ابھی سے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنا ہوگا۔جس میں مہنگائی کا خاتمہ اور سستی بجلی پٹرول کرنا سر فہرست ہے۔
آخر میں دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ یہ موجودہ حکمرانوں کی بڑی بھول ہوگی، اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن سے چند ماہ قبل مہنگائی میں کمی اور پٹرول،بجلی سستا کرنے سے عوام سب کچھ بھول جائیں گے، عوام اب مشکلات نہیں بھولتے۔وقت آ گیا ہے کہ حکمران عوام کی یادداشت کی طاقت کو کم نہ سمجھیں اور آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے الیکشن نتائج کو ضرور یاد رکھیں، کیونکہ انہیں پہلے سے بھی بڑا اور شدید سرپرائز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واپس کریں