وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا دہشت گرد بھارتی پرا کسیز کے خاتمہ کا اٹل عزم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اپریشن غضب للحق پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رہے گا۔ افغان طالبان کے زیراثر پراکسی دہشت گردوں اور ان کے معاونین کو سزا دیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے گذشتہ روز کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئیٹہ کا دورہ کیا اور زیر تربیت افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیئے ہر قیمت چکانے کو تیار ہے۔ وزیراعظم نے معرکہ حق کا حوالہ دیتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی تاریخی کامیابی کی ستائش کی اور کہا کہ بھارت کی بلا اشتعال اور جارحانہ کارروائیوں کے مقابلہ میں پاکستان نے ذمہ دارارنہ طرزِ عمل ، تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا جسے عالمی برادری نے بھی تسلیم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان میں موجود دہشت گرد پراکسیوں کے خلاف اور معصوم شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیئے اپریشن غضب للحق پوری قوت سے جاری ہے جس کے تحت دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور انہیں معاونت فراہم کرنے والے ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دریں اثناء کوئیٹہ میں وزیراعظم کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگتی، وفاقی اور صوبائی کابینہ کے ارکان اور فیلڈ مارشل سمیت اعلیٰ عسکری اور سول حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بلوچستان کی امن و امان کی صورت حال کا مفصل جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور باور کرایا گیا کہ بلوچستان اور ملک میں پائیدار امن ہر صورت قائم ہو گا۔ اسی طرح فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کے دورے کے موقع پر زیر تربیت افسران اور اساتذہ سے خطاب اور بلوچستان میں تعینات جوانوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پراپیگنڈہ، فیک نیوز یا بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی سے پاکستان کی ترقی نہیں روکی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن قوتیں ریاست کی مضبوطی اور عوام کے اتحاد کے باعث بالاخر ناکام ہوں گی۔ پاکستان نے دنیا میں بلند مقام حاصل کرنا ہے اور اس کی ترقی و خوشحالی کا سفر منزل تک پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی عوام دوست حکمتِ عملی اور بہتر طرز حکمرانی کے ساتھ مؤثر سکیورٹی اقدامات سے مشروط ہے۔ افسر بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں کا جواب دینے کے لیئے اپنی اور جوانوں کی مسلسل تربیت یقینی بنائیں۔ انہوں نے ملٹی ڈومین اپریشنز ، افواج کے درمیان ہم آہنگی اور جنگی چیلنجز سے باخبر رہنے کی اہمیت پر زور دیا اور دہشت گردوں کے خلاف اپریش میں معاونت پر بلوچستان حکومت کی ستائش کی۔
یہ امر واقع ہے کہ ہمارے ازلی مکار دشمن بھارت نے پاکستان کی سلامتی کے خلاف اپنی گھناؤنی سازشوں اور اپرییشن سیندور میں گذشتہ سال مئی میں عساکرِ پاکستان سے ہزیمتیں اٹھانے اور منہ کی کھانے کے بعد انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے پاکستان میں موجود اپنی دہشت گرد پراکسیز کو متحرک کیا جنہوں نے بالخصوص بلوچستان اور خیبر پی کے میں اب تک گھناؤنی دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انہیں بھارتی کٹھ پتلی افغان طالبان رجیم کی سرپرستی بھی حاصل ہے چنانچہ پاکستان نے ان دہشت گردوں کی مکمل سرکوبی اور وطنِ عزیز کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کے لیئے عساکر پاکستان کے ذریعے اپریشن غضب للحق کا آغاز کیا جو اس وقت بھی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور گذشتہ روز بھی شمالی وزیرستان کے علاقے شیواہ میں فورسز کے اپریشن میں بھارتی حمایت یافتہ 22 خوارج جہنم واصل ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز سول اور عسکری قیادتوں نے اسی تناظر میں اپریشن غضب للحق پوری قوت کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ بے شک پاکستان اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں داخلی سلامتی، قومی استحکام اور ترقی کے سفر کو بیک وقت کئی محاذوں پر چیلنجز درپیش ہیں۔ ایک طرف دہشت گردی کے ناسور کو بیرونی سرپرستی کے ذریعے دوبارہ زندہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور دوسری جانب ریاستی ادارے پوری قوت اور قومی عزم کے ساتھ ان سازشوں کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ہے۔ اس جنگ میں افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں امن بحال ہوا اور معاشی و سماجی سرگرمیوں کو نئی زندگی ملی۔ تاہم دشمن قوتیں اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بھارت، جو “اپریشن سیندور” میں اپنی ناکامی کے بعد اقوام عالم کا سامنا نہیں کر پا رہا، اب پاکستان میں موجود اپنی پراکسیز اور دہشت گرد عناصر کو متحرک کر رہا ہے تاکہ یہاں بدامنی پھیلا کر پاکستان کی ترقی کا سفر روکا جا سکے۔ یہ حقیقت اب عالمی سطح پر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ بھارت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ریاستی سرپرستی میں تخریبی سرگرمیوں کا سہارا لیتا ہے۔ مگر مسلمہ حقیقت یہی ہے کہ افواج پاکستان پوری طرح چوکس اور تیار ہیں اور قوم اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے جو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف متحد نظر آتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ اطلاعات، میڈیا اور سوشل میڈیا کے میدان میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ دشمن قوتیں جھوٹے بیانیے، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے قوم کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کرتی ہیں، مگر پاکستان کے عوام نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ ریاست اور قومی سلامتی کے معاملات میں متحد ہیں اور آج بھی قوم اپنی عسکری و سیاسی قیادت پر کامل اعتماد کا اظہار کر رہی ہے۔
آج بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خطرات کا سامنا کر رہا ہے۔ دشمن عناصر کا مقصد صرف امن خراب کرنا نہیں بلکہ پاکستان کے معاشی منصوبوں، سرمایہ کاری اور علاقائی روابط کو نقصان پہنچانا بھی مقصود ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری سمیت دیگر ترقیاتی منصوبے دشمن کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیرونی سرپرستی میں دہشت گردی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ امر خوش آئند ہے کہ سول، سیاسی اور عسکری قیادت ایک صفحے پر ہے اور قومی مفاد کے تحفظ کے لیے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی قوم متحد ہوئی، دشمن کو بد ترین شکست کا سامنا کرنا ہڑا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی اسی اتحاد و یکجہتی کی مرہونِ منت ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلافات کو قومی سلامتی کے معاملات پر اثر انداز نہ ہونے دیا جائے۔ میڈیا، دانشوروں، مذہبی قیادت اور سول سوسائٹی کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے قومی بیانیے کو مضبوط بنانا ہوگا تاکہ دشمن کے پراپیگنڈے کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا جا سکے۔ پاکستان آج دفاعی اعتبار سے ناقابلِ تسخیر بن چکا ہے اور ہماری مسلح افواج ہر قسم کی جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ “معرکہ حق” اور دیگر عسکری کامیابیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دشمن اگر کسی غلط فہمی میں مبتلا ہے تو وہ دوبارہ حماقت کا مظاہرہ کر لے، اسے ہر محاذ پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بھارت اب پراکسی جنگ اور دہشت گردی کا سہارا لے رہا ہے، مگر اس کے یہ عزائم بھی ناکامی سے دوچار ہوں گے۔یہ امر واقع ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت اور وقار بلند ہو چکا ہے اور علاقائی امن، سفارت کاری اور اقتصادی امکانات کے تناظر میں دنیا پاکستان کو ایک اہم ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے البتہ دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پوری قوم افواجِ پاکستان اور ریاستی اداروں کے ساتھ یکجہت رہے تاکہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے اور پاکستان ترقی، خوشحالی اور استحکام کی منزل کی جانب اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتا رہے۔بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں