دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
تقریری مقابلہ جات طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔نجیب الغفور خان
No image پلندری (نامہ نگار خصوصی)جموں و کشمیر لبریشن سیل اور محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے اشتراک سے "مقبوضہ کشمیر اور انسانی حقوق کے علمبردار" کے عنوان سے ضلعی سطح کے تقریری مقابلے کا انعقاد گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پلندری، سدھنوتی میں کیا گیا۔ تحصیل سطح کے ابتدائی مراحل کے بعد منعقد ہونے والے اس مقابلے میں ضلع سدھنوتی کی تمام تحصیلوں کے مختلف تعلیمی اداروں سے آئے ہوئے طلبہ و طالبات نے تحریکِ آزادی کشمیر اور انسانی حقوق کے عالمی تناظر پر بھرپور انداز میں اظہارِ خیال کیا۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی جموں و کشمیر لبریشن سیل کے ڈیجیٹل میڈیا ہیڈ نجیب الغفور خان تھے، جبکہ صدارت ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (نسواں) مصباح الیاس خان نے کی۔ اس موقع پرادارے کی پرنسپل شہناز قدیر خان، محکمہ تعلیم کے افسران، اساتذہ، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔ مقابلے میں شفافیت اور منصفانہ نتائج کے لیے ججز کے فرائض ماہرین تعلیم فوزیہ کبیر اور شمیم اختر نے انجام دیئے۔
نجیب الغفور خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نئی نسل کو تحریکِ آزادی جموں و کشمیر سے عملی طور پر جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر لبریشن سیل کے زیرِ اہتمام جامعات، کالجز اور اسکولوں میں خصوصی آگاہی مہم، سیمینارز اور تقریری مقابلوں کا تسلسل کے ساتھ انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نوجوان نسل میں مسئلہ کشمیر کے تاریخی حقائق اور مظلوم کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف فکری شعور بیدار کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کے تقریری مقابلہ جات طلبہ و طالبات کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان میں جذبہ حب الوطنی پیدا کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ان کی تیاری کے دوران طلبہ و طالبات نہ صرف متعلقہ موضوعات پر گہری تحقیق کرتے ہیں بلکہ ان کے مطالعے اور علم میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔ اس مشق کے ذریعے نوجوانوں کو دورِ حاضر کے ڈیجیٹل تقاضوں کے مطابق سوشل میڈیا پر اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا موقع ملتا ہے۔
نجیب الغفور خان نے مزید کہا کہ آج کے دور میں روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے ٹولز کی سمجھ بوجھ ناگزیر ہے تاکہ عالمی سطح پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو مؤثر اور جدید انداز میں دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کو درپیش تعلیمی و سماجی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے آزاد خطے کے طلبہ و طالبات پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم اور مستقبل کے لیے بلند تر اہداف مقرر کریں تاکہ وہ ایک باصلاحیت قیادت کے طور پر کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی جنگ لڑ سکیں۔
ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (نسواں) مصباح الیاس خان نے جموں و کشمیر لبریشن سیل کی جانب سے نئی نسل کی فکری تربیت کے لیے کیے جانے والے ان اقدامات کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر لبریشن سیل کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں میں اپنے قومی کاز کے حوالے سے پیدا ہونے والی آگاہی خوش آئند ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم طلبہ کی تعلیمی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ایسی غیر نصابی سرگرمیوں کی مکمل سرپرستی کر رہا ہے تاکہ ہمارے طلبہ و طالبات نصابی میدان کے ساتھ ساتھ قومی و ملی محاذ پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔ انہوں نے تقریری مقابلوں کو طلبہ میں اعتماد اور قومی مسائل کے ادراک کا اہم ذریعہ قرار دیا۔
مقابلے کے اختتام پر ججز کے فیصلے کے مطابق اول پوزیشن افشاں ناز، دوم پوزیشن علیزہ لیاقت جبکہ سوم پوزیشن اریشہ گیلانی نے حاصل کی۔ تقریب کے آخری سیشن میں مہمانِ خصوصی نے پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات میں سرٹیفکیٹس تقسیم کیے اور ان کے اساتذہ کی محنت و لگن کو خصوصی طور پر سراہایا۔
واپس کریں