بات سننے کا حوصلہ پیدا کریں اختلاف کو برداشت کریں۔سردار اعجاز خلیق خان

(پلندری۔نامہ نگار) گزشتہ روز دیوان گوراہ میں پیش آنے والا واقعہ نہایت افسوس ناک اور تشویشناک ہے۔ یہ صورتِ حال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عدم برداشت جذباتی ردِعمل اور مختلف النوع انتہا پسندی کے رجحانات کس حد تک بڑھ رہے ہیں۔ چاہے یہ انتہا پسندی مذہبی ہو سیاسی ہو سماجی ہو گروہی وابستگی کی بنیاد پر ہو یا ذاتی انا کے زیرِ اثر ہر صورت میں یہ معاشرتی ہم آہنگی اور امن کے لیے نقصان دہ ہے۔
آزاد کشمیر ہمیشہ سے ایک پُرامن خطہ رہا ہے جہاں لوگ رشتوں برادریوں اور باہمی تعلقات میں جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے ماحول میں اختلافِ رائے کا تصادم کی شکل اختیار کر جانا یقیناً انتہائی افسوس ناک ہے۔ اختلاف فطری بات ہے مگر اس کا اظہار صبر برداشت سنجیدگی اور مکالمے کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ اشتعال، تلخی یا زور زبردستی کے ذریعے۔تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بڑے سے بڑا تنازع بھی بالآخر مذاکرات ہی کی طرف لوٹتا ہے۔ حالیہ ایران اور امریکہ کے درمیان شدید کشیدگی اور محاذ آرائی کے باوجود آخرکار بات چیت اور سفارتی ذرائع کی اہمیت ہی نمایاں ہوئی۔ یہ اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ پائیدار حل طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ مذاکرات افہام و تفہیم اور سنجیدہ مکالمے سے نکلتا ہے۔
پُرامن احتجاج اپنی آواز بلند کرنا اور مطالبات پیش کرنا ہر شہری کا حق ہے اور یہ جمہوری معاشروں کا حسن بھی ہے۔ مگر اپنی رائے کو ڈنڈے کے زور پر مسلط کرنا اور دوسروں کی رائے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ ایسے رویے معاشرے میں نفرت، تقسیم اور بداعتمادی کو فروغ دیتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں اطراف صبر و تحمل سنجیدگی اور بردباری کا مظاہرہ کریں ۔ اسی کے ساتھ معاشرے میں یہ رجحان فروغ پانا چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ پیدا کریں اختلاف کو برداشت کریں اور جذباتیت کے بجائے دانشمندی کو ترجیح دیں۔
اختتاماً یہ اپیل ہے کہ ہمارے حکمران سیاسی و مذہبی قائدین، اور مقامی سطح پر بااثر و بزرگ شخصیات اور پنچائتی نمائندگان سر جوڑ کر بیٹھیں اور نہ صرف اس معاملے کو سلجھانے میں کردار ادا کریں بلکہ مجموعی طور پر معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور جذباتیت کے رجحان کی اصلاح کے لیے سنجیدہ اور مؤثر کوششیں کریں۔ تبلیغ، اصلاح اور شعور بیدار کرنے کی منظم کاوشیں وقت کی اہم ضرورت ہیں تاکہ ہمارا معاشرہ دوبارہ برداشت، احترام اور امن کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
واپس کریں