دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ماں جیسی ریاست اور بچے۔احتشام الحق شامی
No image ریاستِ ماں جیسی ہوتی ہے، کہا جاتا ہے۔ جیسے ماں اپنے بچوں کو پالے پوسے اور مشکل میں اپنے بچوں کا سہارا بنے لیکن ایک”ماں“ وہ بھی ہے جسے اس کے اپنے بچوں نے گود میں اٹھا رکھا ہے اور بچے اپنی پیدائش کے وقت سے ہی اپنی اس ماں کی فیڈنگ کر رہے ہیں، ماں تخت پر بیٹھی ہے، تاج سر پر اور بچے کھڑے اسے پنکھے سے مسلسل ٹھنڈی ہوائیں دے رہے ہیں اور جب کبھی بچہ بول اٹھے کہ ماں تھوڑا سا دودھ ہمیں بھی دے دو تو ماں تڑپ اٹھتی ہے کہ نمک حرام، بے وفا، غدار، ریاست مخالف وغیرہ۔
اس ماں کے بچے جب کسی وجہ سے روتے ہیں تو کہتی ہے،ترقی کر رہے ہو، بھوکے ہوں تو کہتی ہے صبر کرو، قربانی دو اور جب بچے مرنے لگیں تو کہتی ہے یہ تو قربانی کا نتیجہ ہے، شہید ہو گئے، جنت مبارک ہو۔
اس ماں کا بچہ صبح اٹھتا ہے، محنت مزدوری کرتا ہے، تھک کر جب گھر لوٹتا ہے تو ماں یوٹیلیٹی بل لے کر بیٹھ جاتی ہے، پٹرول پر ٹیکس، بجلی اور گیس کا بھاری بل، پانی بل، انٹرنیٹ بل، ہر چیز پر ٹیکس، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس، وفاقی اور صوبائی ایکسائز ٹیکس، موٹر سائیکل، پلاٹ، گھر اور گاڑیوں پر ٹیکس، سولر پینل ٹیکس، موٹر وے ٹیکس وغیرہ وغیرہ۔مختصر کہ صرف سانس لینے کے علاوہ ہر شے پر ٹیکس۔
بچہ پوچھتا ہے، ماں، تم کیا کرتی ہو؟ ماں مسکراتی ہے، میں تمہیں سکیورٹی دے رہی ہوں۔ بچہ چاروں طرف دیکھتا ہے، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی، مہنگائی، بے روزگاری،عدم انصاف، کرپشن اور پھر پوچھتا ہے،ماں یہ سکیورٹی ہے یا انشورنس ا سکیم جس کا ہر سال پریمیم بڑھ رہا ہے اور کلیم کبھی نہیں ملتا؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ماں اپنے بچوں کو اکثر کہتی ہے کہ تم آزاد ہو، لیکن جب بچہ اپنی مرضی سے کچھ بولنا چاہے تو ماں کہتی ہے، بیٹا، ماں خلاف بولنا غداری ہے۔
بچہ کہتا ہے، ماں، تم تو کہتی تھیں ماں بیٹے کا رشتہ بڑا عظیم،لازوال اور نہ جانے کیا کیا ہوتا ہے تو ماں جواب دیتی ہے، وہ نظریاتی بات تھی، عملی طور پر تم میرے ملازم ہو۔
ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، کہتے ہیں۔۔۔ بچہ پوچھتا ہے، ماں، تم خود کچھ کرتی بھی ہو؟ ماں غصے سے ''ہاں بیٹا، تمہیں سکیورٹی دے رہی ہوں۔ بچہ باہر دیکھتا ہے، بے روزگاری،کاروباری مندی، لوڈشیڈنگ، مہنگائی، دہشت، اور کرپشن کا بازار گرام ہے تو بچہ سوچتا ہے، یہ سکیورٹی ہے یا ماں کا کوئی بزنس ماڈل۔یہ ماں تو بڑی عجیب ہے اور اگربچہ روئے تو کہتی ہے، ترقی کے آنسو ہیں بیٹا، برداشت کرو،بھوک لگے تو کہتی ہے، قربانی کا دور ہے، صبر کرو، جنت ملے گی۔بچہ مر جائے تو ماں فوراً بیان جاری کرتی ہے،شہید ہو گیا، خدا اس کے درجے بلند کرے۔
بچہ جب تھک کر کہتا ہے ماں، تمہارا پیٹ اب تو بھر گیا ہوگا تو ماں تڑپ اٹھتی ہے، نا شکرے، غدار اور ماں مخالف۔ تمہیں پتہ نہیں میں کتنی عظیم ماں ہوں؟(کیونکہ ماں کا تخت اور تاج بڑھتا جا رہا ہے)
ایک دن بچہ ہمت کر کے بولا ماں، اب تو تم بوڑھی بھی ہو چکی ہو، تھوڑا آرام کرو، توماں نے آنکھیں پھاڑ کر کہا بوڑھی۔۔۔ میں تو ابھی بھی وزارت اعلی،وزارت عظمی اور وزارتیں سنبھال رہی ہوں بلکہ پورا ملکی نظام چلا رہی ہوں۔ تم بس ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکس بھرو، چپ چاپ بھرو اور مرتے دم تک بھرو۔
آخر کار جب بچوں نے فیصلہ کیا کہ اب ماں کو گود میں اٹھانا چھوڑیں تو ماں فوراً چیخ اٹھی،یہ بغاوت ہے، یہ دہشت گردی ہے، یہ ماں کے خلاف سازش اور غداری ہے۔
واپس کریں