دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
"ہمارے پولیس / عدالتی نظام کا ماسٹر مائنڈ فرنگی کردار"
No image تھامس بیبنگٹن میکالے (1800ء–1859ء) ایک برطانوی سیاست دان، مؤرخ اور شاعر تھے، جو برصغیر میں برطانوی تعلیمی نظام کے معمار کے طور پر مشہور ہیں۔ 1835ء میں ان کی تعلیمی پالیسی نے فارسی کی جگہ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنایا، جس کا مقصد ایسے ہندوستانی پیدا کرنا تھا جو انگریزوں کے وفادار ہوں۔بر عظیم پاک و ہند آج بھی اسکے بنائے گئے نظام کا قیدی ھے۔
لارڈ میکالے کی وہ ”شیطانی وارداتیں“ جنہوں نے دنیا کو آج تک غلام بنا رکھا ہے۔
واردات نمبر 1: مخالفانہ عدالتی نظام
(Adversarial System)
لارڈ میکالے نے ہندوستانیوں کا وہ قاضی چھین لیا جو سچ کی تلاش میں خود نکلتا تھا۔ قاضی اور پنچایت پر مشتمل اسلامی نظامِ عدل کو غیر مہذب قرار دے کر وہ نظام دیا جہاں جج کا کام سچ ڈھونڈنا نہیں، بلکہ صرف ایک خاموش تماشائی بن کر وکیلوں کی کہانیاں سننا ہے۔ لارڈ میکالے نے ریاست کو بری الذمہ کر کے ثبوت اکٹھا کرنے کا سارا بوجھ (Burden of Proof) مظلوم عوام پر ڈال دیا۔ کیوں کہ ایک بے بس مظلوم کبھی بھی برطانوی سامراج کے وفادار چوہدریوں اور وڈیروں کے خلاف ثبوت نہیں لا سکے گا۔
واردات نمبر 2: قانونِ شہادت
(Law of Evidence)
تھامس لارڈ میکالے نے سچائی کے گرد قانونی باریکیوں (Legal Technicalities) کا ایسا جال بنا کہ سچ اس کے آگے خود ہی دم توڑ جائے۔ اگر جج کی آنکھوں کے سامنے بھی کسی کا قتل ہوجائے ، لیکن پھر بھی جج قاتل یا مجرم کو سزا نہیں سنا سکتا جب تک انگریز کے بنائے ہوئے قانونِ شہادت (Evidence Act) کے سخت تقاضے پورے نہ ہوں۔ جج کے ضمیر کو گڈوی رکھ کر اسے کاغذ کا غلام بنا دیا۔
واردات نمبر 3:
تعزیراتِ ہند
Indian Panel Code /Pakistan Panel Code
تعزیراتِ ہند جسے آج ہم تعزیراتِ پاکستان (Pakistan Penal Code) کہتے ہوئے ہماری اشرافیہ جسے سینے سے لگائے بیٹھے ہیں، میکالے کا سب سے خطرناک ہتھیار یہی ہے۔ اُس نے اس میں Benefit of Doubt کا ایسا خطرناک سوراخ رکھا کہ پاکستانی پولیس (جو کہ میکالے نے ہی ہندوستانی عوام کو کچلنے کے لیے بنائی تھی) تفتیش میں ذرا سی بھی جان بوجھ کر غلطی کر دے، تو جج اسی شک کی بنیاد پر قاتل وڈیروں جاگیر داروں با اثر شخصیات کو باعزت بری یعنی رہا کر سکتاھے۔۔
واردات نمبر 4: انصاف میں تاخیر
(Justice Delayed)
بینینگٹن لارڈ میکالے کی خواہش تھی کہ مقبوضہ عوام کے لیے انصاف کو اتنا مہنگا اور ناقابلِ رسائی بنا دیا جائے کہ عام بندہ تھک کر گھر بیٹھ جائے۔ میکالے نے مقدمہ بازی کے طریقہ کار یعنی لیجٹ میشن پراسیس کو اتنا مشکل بنا دیا، جہاں ایک CIVIL مقدمے کو civil کورٹ سے supreme کورٹ پہنچنے میں تقریباً 25 سال لگتے ہیں۔ میکالے جانتا تھا کہ جب تک فیصلہ آئے گا، مظلوم کی نسلیں مٹ چکی ہوں گی اور قاتل کے بیٹے اور پوتے اسمبلی میں بیٹھ کر اسی کے قانون کی حفاظت کر رہے ہوں گے۔ وہ جانتا تھا انصاف میں تاخیر ہی اصل میں ظلم ہے، لیکن ہندوستانیوں کو غلام رکھنے کے لیے یہ ظلم اس نے ضروری سمجھا۔
واردات نمبر 5:
تعلیمی پالیسی کا تاریخی نوٹ
(Minute on Education)
تھامس میکالے نے لوکل ہندوستانی زبان چھین کر انہیں انگریزی قانون کا محتاج کیا۔ اُس نے اپنی کمال حیوانی عقل سے وہ طبقہ تیار کیا جو رنگ اور خون کے اعتبار سے تو پاکستانی ہے، مگر Hobby Thinking Personality اور ideology میں انگریز ہے۔ آج ہمارا JudicialSystem، ججوں کے کالے کرتوت اور بیوروکریسی اسی میکالے والی سوچ کی وارث ہے۔
آج مڈل کلاس/لوئر مڈل کلاس طبقے کی شکست اور جاگیر داروں لٹیروں مافیاز کا پروٹوکول لائف اسٹینڈرڈ ھی دراصل لارڈ میکالے کی جیت ہے۔ ہماری اشرافیہ آزاد نہیں ہوئے، یہ آج بھی تھامس میکالے کے استعماری ورثے (Colonial Legacy) کے قیدی ہیں۔ جب تک انگریز کی روح (اُسکا چھوڑا ہوا نظام) ہماری عدالتوں میں زندہ ہے، تب تک عوام کو صرف تاریخ پے تاریخ ملے گی، انصاف نہیں۔
رائٹر: سفیان خان (بنوں)
ایڈیٹنگ: ذیشان علی انصاری (جھنگ)
واپس کریں