
ایران نے بحری جہاز "دینا" پر حملے میں ملوث امریکی اہلکاروں کو جنگی مجرم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایرانی ہائی کونسل فار ہیومن رائیٹس نے اقوام متحدہ سے ایکشن لینے کا تقاضہ کیا ہے۔ امریکی نیوی نے جنگ کے دوران ایرانی بحری جہاز "دینا" پر دو تارپیڈو فائر کیئے تھے جس سے جہاز میں موجود 104 اہلکار شہید ہو گئے تھے۔ یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کے باعث امریکہ پر پڑنے والے مالی بوجھ کا معاملہ اس وقت امریکی کانگرس کمیٹی میں زیر بحث ہے۔ گذشتہ روز امریکی وزیرِ جنگ پیک ہیکستھ اور جوائینٹ چیفس آف جنرل سٹاف ڈین کین امریکی کانگرس کی کمیٹی برائے دفاع میں پیش ہوئے جنہیں کمیٹی کے ارکان کے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیرِ جنگ نے امریکی صدر ٹرمپ کے پیش کیئے گئے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ یہ خطیر رقم امریکہ کو دنیا کی سب سے طاقتور اور قابل فوجی قوت کے طور پر برقرار رکھنے کے لیئے ضروری ہے۔ جب کانگرس کے ارکان نے وزیرِ جنگ سے سوال کیا کہ اگر کانگرس، حکومت کو ایران کے خلاف جاری فوجی اپریشن کی منظوری نہ دے تو حکومت کے پاس کیا پلان بی موجود ہے، پیٹ ہیکستھ نے کہا کہ ہمارے پاس ہر صورت حال کے لیئے منصوبہ موجود ہے۔ ان کے بقول اگر ضرورت پڑی تو ہمارے پاس جنگ میں شدت لانے کا پلان بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کا مشن اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ دوسری جانب ایران کے پارلیمانی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضاعی نے کہا ہے کہ نئے امریکی و اسرائیلی حملے کی صورت میں ایران کے ممکنہ آپشنز میں سے ایک یورینیئم کی 90 فیصد افزودگی بھی ہو سکتا ہے جس کا پارلیمان میں جائزہ لیا جائے گا۔ علاوہ ازیں امریکی صدر ٹرمپ کو اپنی جنگی پالیسیوں پر امریکہ کے اندر سے بھی سخت تنقید کا سامنا ہے۔ گذشتہ روز امریکی ڈیموکریٹ رہنما اور سینیٹر چک شومر نے ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی اور مہنگی قرار دیا اور سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ امریکی عوام کو بغیر کسی واضح مقصد اور حکمتِ عملی کے ایک غیر قانونی جنگ میں دھکیل رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ڈیموکریٹس اس ہفتے کانگرس میں وار پاور ریزولیوشن پر ساتویں بار ووٹنگ کرائیں گے تاکہ ایران کے خلاف کارروائیوں سے امریکی فوج کو واپس بلوایا جا سکے۔ دریں اثناء ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے گزشتہ روز جاری کیئے گئے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دشمن معاشی دباؤ بڑھا کر عوام میں بے چینی پیدا کرنا چاہتاہے، ہم جنگی حالات کو عوام اور معیشت کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ میں اپنی کامیابیوں کا تقابلی جائزہ پیش کر دیا۔ ان کے بقول جو بائیڈن اور اوبامہ کے دور میں ایران کے پاس 159 بحری جہاز تھیجو تمام کے تمام ہم نے سمندر میں ڈبو دیئے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ امریکی تاریخ کی مختصر ترین جنگ تھی۔ ہم ایران کی چھوٹی کشتیوں اور ڈرونز کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ ایران یورینیئم افزودگی 100 فیصد روک دے گا۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ اچھی ڈیل ہو جائے۔ صدر ٹرمپ نے امن کوششوں میں ایک باد پھر پاکستان کے کردار کی ستائش کی اور کہا کہ فیلڈ مارشل اور وزیراعظم پاکستان شاندار اور بہترین شخصیات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دورہ چین کے لیئے پر جوش ہیں، اس دورے کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ ایران خود کو ٹھیک کر لے ورنہ ہم کام مکمل کریں گے۔ ہم کوئی گیم نہیں کھیل رہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں امریکہ اور ایران کے مابین جنگ بندی کے دوران بھی جاری کشیدگی علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیئے مسلسل خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ دونوں ممالک کی قیادتوں کے بیانات، دھمکیوں اور جوابی اقدامات سے یہی عندیہ ملتا ہے کہ خطہ ابھی کسی پائیدار امن سے بہت دور ہے۔ ایران کا یہ انتباہ کہ دوبارہ حملے کی صورت میں یورینیئم افزودگی نوّے فیصد تک پہنچ سکتی ہے، عالمی برادری کے لیے انتہائی تشویشناک پیغام ہے۔ ایٹمی پروگرام کے گرد گھومتی یہ محاذ آرائی صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات، جن میں انہوں نے ایران سے مکمل طور پر یورینیئم افزودگی روکنے کی امید ظاہر کی، اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ واشنگٹن اب بھی دباؤ اور طاقت کی پالیسی سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
ادھر امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹس میں کیا گیا یہ انکشاف کہ جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات نے ایران پر خفیہ حملے کیے، پورے خطے کو ایک نئے سفارتی بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ یہ صورت حال اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ صرف دو ممالک کے درمیان محدود نہیں رہی بلکہ اس میں متعدد دوسری علاقائی طاقتیں بھی کسی نہ کسی شکل میں شامل ہو چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی ایک غلط فیصلے یا اشتعال انگیز اقدام کے نتیجے میں پورا خطہ آگ اور خون کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
پینٹاگون کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ پر اب تک انتیس ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ خطیر رقم اس امر کی علامت ہے کہ جنگیں نہ صرف انسانی جانوں بلکہ عالمی معیشت کو بھی تباہ کرتی ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تناؤ نے تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے ماحول کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے براہِ راست اثرات پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں جہاں پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت عوام کے لیے عذاب بن چکی ہے۔ خوراک اور توانائی کی بڑھتی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ بے شک عالمی طاقتوں کی جنگی پالیسیوں کا سب سے زیادہ بوجھ ہمیشہ غریب اور کمزور ممالک کو اٹھانا پڑتا ہے۔امریکی ڈیموکریٹس کی جانب سے جنگ رکوانے کے لیے کانگرس میں قرارداد پر ساتویں بار ووٹنگ کرانے کا عندیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خود امریکہ کے اندر بھی اس جنگی پالیسی پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ دنیا اب مزید جنگوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یوکرائن جنگ، غزہ کی تباہی اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی نے عالمی امن کو پہلے ہی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔ ایسے میں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ براہِ راست تصادم ہوا تو اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں